آج سے ملک بھر میں بس سروس معطل کرنے کا بھی اعلان 

  آج سے ملک بھر میں بس سروس معطل کرنے کا بھی اعلان 

  



  لاہور/فیصل آباد/کراچی (این این آئی/ مانیٹرنگ ڈیسک) انٹر سٹی بس اونرز نے کراچی میں گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کی حمایت کرتے ہوئے (آج)پیر سے اندرون ملک بس سروس معطل رکھنے کا اعلان کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں گڈز ٹرانسپورٹرز کی ایکسل لوڈ کنٹرول پر عملدرآمد، روٹ پرمٹ اور ٹوکن فیس میں اضافہ واپس لینے سمیت 10 نکاتی مطالبات کے حق میں ایک ہفتے سے ہڑتال جاری ہے۔  گڈ ز ٹرانسپورٹ ہڑتال کے باعث 1400 کنٹینرز بندرگاہوں تک نہ پہنچنے پر برآمد کنندگان کو ایک ہفتے کے دوران 15 لاکھ ڈالر سے زائد کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال ساتویں روز میں داخل ہوگئی ہے جس کے باعث تجارتی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہورہی ہیں اور بندرگاہوں پر درآمدی کنٹینرز کا ڈھیر لگ گیا ہے جب کہ برآمدی سامان کی بندرگاہوں تک ترسیل نہ ہونے سے برآمدات میں بھی تعطل کا سامنا ہے، فیکٹریوں اور کارخانوں تک درآمدی خام مال کی ترسیل بھی متاثر ہورہی ہے جس کی وجہ سے پیداواری سرگرمیاں ماند پڑچکی ہیں۔ملک سے پھل اور سبزیوں کی ایکسپورٹ کوسب سے زیادہ نقصان کا سامنا ہے، پاکستان سے ایکسپورٹ کیے جانے والے کینو، آلو اور پیاز کے 1400 کنٹینرز بندرگاہوں تک نہیں پہنچ سکے جس کی وجہ سے پھل سبزیوں کے برآمد کنندگان کو ایک ہفتے کے دوران 15 لاکھ ڈالر سے زائد کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ترجمان گورنر سندھ کے مطابق گورنر سندھ عمران اسماعیل سے گڈز ٹرانسپورٹرز کے وفد کی ملاقات ہوئی جس میں وفاقی وزیر محمد میاں سومرو اور  مشیر برائے صنعت و تجارت عبد الرزاق داد بھی شریک تھے۔ملاقات میں گڈز ٹرانسپورٹرز کے وفد نے حکومتی ٹیم کو اپنے مطالبات پیش کیے، ایکسل لوڈ رجیم، پارکنگ اور روٹ پرمٹ کے مسائل سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر گورنر سندھ عمران اسماعیل کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں مثبت پیشرفت ہوئی ہے۔دوسری طرف گڈز ٹرانسپورٹرز کے ترجمان نے حکومت سے مذاکرات کو ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت سے پہلے ہی نکتے پر مذاکرات ناکام ہو گئے تھے۔ ترجمان گڈز ٹرانسپورٹرز امداد نقوی کا کہنا تھا کہ مذکرات میں ایکسل لوڈ کی کمی پر صنعت کاروں کے شدید تحفظات کا ذکر کیا، اس کے علاوہ مذاکرات میں دیگر امور زیر بحث ہی نہ آسکے۔ترجمان نے شکایت کی کہ مذاکرات میں وزارت مواصلات کے حکام آئے ہی نہیں۔اب انٹر سٹی بس اونرز کی جانب سے بھی گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کی حمایت کرتے ہوئے (آج)پیر سے اندرون ملک بس سروس معطل رکھنے کا اعلان کر دیا گیا ہے تاہم دوسری جانب پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ وحید احمد نے کہا ہے کہ  ملکی معیشت گڈز ٹرانسپورٹ کی ہڑتال کی متحمل نہیں ہوسکتی، برآمدی آرڈرز کی تکمیل میں تاخیر کی وجہ سے سودے منسوخ ہونے اور نئے آرڈرز بھارت کے ہاتھ لگنے کا خدشہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پھل اور سبزیاں تلف ہونے والے آئٹم ہیں جو بروقت خریداروں تک نہ پہنچیں تو خراب ہونے کا خطرہ ہوتا ہے ایک ہفتہ سے کینو آلو اور پیاز کے کنٹینرز راستے میں کھڑے ہیں پیک کیے گئے کینو فیکٹریوں میں پڑے ہیں اور پیک ہاؤسز میں بھی پراسسینگ بند ہونے کے قریب ہے۔وحید احمد نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ برآمد کنندگان کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کیا جائے ٹرانسپورٹ کی ہڑتال سے قومی نقصانات کا راستہ بند کرنے کے لیے قانون سازی کی جائے ایکسل لوڈ کے قانون پر اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے مرحلہ وار عمل درآمد کیا جائے۔

ٹرانسپورٹ ہڑتال

مزید : صفحہ اول