سپاہی کا ڈی آئی جی شہزاد صدیقی پر قاتلہ حملہ، شدید زخمی، ملزم گرفتار

      سپاہی کا ڈی آئی جی شہزاد صدیقی پر قاتلہ حملہ، شدید زخمی، ملزم گرفتار

  



لاہور(کرائم رپورٹر) پولیس لائن قلعہ گجر سنگھ میں کانسٹیبل نے چاقو سے حملہ کرکے ڈی آئی جی شہزاداسلم صدیقی کو زخمی کردیا، پولیس کانسٹیبل کو گرفتارکرکے مقدمہ درج کرلیا گیا، بتایا گیا ہے کہ پولیس لائن قلعہ گجر سنگھ میں ڈی آئی جی شہزاد اسلم صدیقی پر کا نسٹیبل رفیق نے چاقو سے حملہ کردیا، طبی امدادکے لیے سروسز ہستپال منتقل کیا، ہسپتال انتظامیہ کے مطابق شہزاد اسلم کے ہاتھ، سر اور جسم کے مختلف حصو ں پر زخم آئے، طبی معائنے کے بعد پولیس آفیسر کوڈسچارج کر دیا گیا، ڈی آئی جی شہزاد اسلم صدیقی کی مدعیت میں قلعہ گجر سنگھ پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کرلیا گیا، ایف آئی آر کے متن کے مطابق ڈی آئی جی شہزاد اسلم پولیس لائن میں نماز کے بعد چہل قدمی کر رہے تھے۔ کانسٹیبل رفیق نے اچانک ان پر چھری سے حملہ کر دیا۔تفتیشی ٹیم نے ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ سی سی پی او لاہور کو پیش کر دی،ملزم رفیق نارووال کا رہائشی اور نومبر 2018ء  سے پولیس لائنز میں تعینات ہے۔ملزم دوسری شفٹ میں موٹرسائیکل سٹینڈ پر بغیر اسلحہ ڈیوٹی سرانجام دیتا تھا۔ کانسٹیبل رفیق اس سے قبل ڈی آئی جی کو پہلے جانتا تھا نہ ہی ان کے ساتھ ڈیوٹی کی،اورابتدائی رپورٹ کے مطابق ملزم رفیق مرگی کے مرض میں مبتلا ہے اور اپنا علاج کروارہا ہے، کانسٹیبل رفیق اپنی بیماری کی وجہ سے اکثروبیشتر ڈیوٹی سے غیر حاضر رہتاہے، پولیس لائنز میں دوران پوسٹنگ بھی کانسٹیبل اپنا علاج کروارہا تھا،، ملزم تفتیش کے دوران بہکی بہکی باتیں کرتا رہا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ خون کے نمونے لیبارٹری بھجوا دئیے ہیں تفتیش میں مزید حقائق سامنے آئیں گے۔ واضح رہے کہ ڈی آئی جی شہزاس اسلم کا تعلق پولیس کے 22 کامن سے ہے اور خیبر پختونخواہ میں تعینات ہیں۔

ڈی آئی جی حملہ

مزید : صفحہ آخر


loading...