ترمیمی بل کے حق میں ووٹنگ کیلئے ہم جیسے رکن پارلیمان پر دباؤ نہیں تھا: خرم دستگیر 

ترمیمی بل کے حق میں ووٹنگ کیلئے ہم جیسے رکن پارلیمان پر دباؤ نہیں تھا: خرم ...

  



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں)پارلیمنٹ میں آرمی ترمیمی ایکٹ کے منظور ہونے کے چند روز بعد ہی مسلم لیگ (ن) کے رہنما خرم دستگیر نے اشارہ دیدیاکہ پارٹی قیادت پر اس قانون سازی کیلئے دباؤ تھا۔تفصیلات کے مطابق الحمرا میں افکار تازہ تھنک فیسٹ میں پارلیمنٹ ٹوڈے نامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ 'آرمی ایکٹ کے حق میں ووٹ دینے کیلئے اگر کوئی دباؤ تھا تو وہ ہماری قیادت پر تھا ہم جیسے رکن پارلیمان پر نہیں '۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ 'اگر کہا جارہا ہے کہ آرمی ایکٹ پر اراکین پارلیمان کی کوئی بحث نہیں ہوئی تو یہ سچ نہیں، مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ کی معاملے پر تفصیلی بحث ہوئی تھی۔خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ 'اس حقیقت کو ماننے کی ضرورت ہے کہ فوج کا سیاست سے تعلق ہے، ہم اسے مانیں یا نہ مانیں یہ حقیقت رہے گی'۔پاکستان تحریک انصاف کی حکومت پر آرڈیننس کے استعمال پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو آرڈیننس کا اختیار صرف ہنگامی صورتحال میں استعمال کرنا چاہیے، حکومت پارلیمنٹ کو اس وقت اہمیت دے گی جب پچھلے دروازے سے قانون سازی کا اختیار بند ہوجاتا ہے۔علاوہ ازیں عمران خان کو سروسز چیفس کی مدت ملازمت میں توسیع کرنے کے حوالے سے قانون سازی سے ایک روز قبل کیا ہوا تھا کے حوالے سے ڈان کے سوال کے جواب میں لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ سینئر وفاقی وزیر اپوزیشن کے قانون سازوں کو منانے میں کامیاب ہوگئے تھے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ 'سینئر وفاقی وزیر نے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے پارلیمانی گروپ سے اسلام آباد میں ملاقات کی اور بل کے لیے ووٹ کا مطالبہ کیا اور وہ اس وقت ہی گئے جب ہم نے انہیں زبان دیدی۔

خرم دستگیر

مزید : صفحہ آخر


loading...