کو ئی ما ئی کا لعل نا موس رسالتؐ کے قوانین میں ترا میم نہیں کر سکتا‘ مولانا احسان

      کو ئی ما ئی کا لعل نا موس رسالتؐ کے قوانین میں ترا میم نہیں کر سکتا‘ ...

  



سرائے نورنگ(نمائندہ پاکستان)عالمی مجلس تحفظ ختم نبوتؐ کے مرکزی رہنمامولاناقاضی احسان احمدنے کہاہے کہ حکومت نے سیکھوں کی خوشنودی کے لئے کر تار پور راہداری کھول دی تا ہم درحقیقت یہ قاد یا نیو ں کو نقل و حر کت کے لئے ایک محفوظ راستہ فراہم کیا گیا ہے جو کہ کسی صورت قابل قبول نہیں ’عاشقا ن ختم نبوتؐ اور علما ئے کرا م کے ہو تے ہو ئے کو ئی ما ئی کا لعل نا موس رسالتؐ کے قوانین میں ترا میم نہیں کر سکتا اور اگر کسی نے بھی یہ قدم اٹھا یا تو یہ علما ئے کرا م اُن کے سا منے سیسہ پھیلا ئی دیوار کھڑ ے ہو ں گے ان خیا لات کا اظہار انہو ں نے گذ شتہ روز یہا ں تحصیل نورنگ کے جا مع مسجد مجیدی میں سالا نہ ختم نبوت کا نفر نس کی پہلی نشست سے خطا ب کر تے ہو ئے کیا اس مو قع پر خواجہ عزیزاحمداورصو با ئی مبلغ مو لا نا عا بد کما ل نے بھی خطاب کیااس موقع پربڑی تعداد میں لو گ مو جود تھے اُن کا مز ید کہنا تھا کہ ختم نبوت ایما ن کا بنیادی عقیدہ ہے اور اس عقیدے کے بغیر ایما ن نامکمل تصور ہو گا مملکت خد اداد پا کستان اسلا م کے نا م پر و جود میں آیا ہے تا ہم بد قسمتی سے یہا ں اسلا م کی بجا ئے انگر یز کے قوانین نا فذ ہیں یہی وجہ ہے کہ ہما را پیار ملک مختلف قسم کے مسائل و بحرا نو ں کا شکار ہے اگر یہا ں پر اسلا می قوانین نافذ کئے جا ئیں اور تما م تر فیصلے قرآن اور احادیث کی روشنی میں کئے جا ئیں تو یہ ملک دنیا کے طاقتوار مما لک میں سے ایک ہو گا اُن کا مز ید کہنا تھا کہ حضرت محمد ؐ کے بعد کو ئی نبی یا پیغمبر نہیں آئے گا اور اگر کسی نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا تو دائرہ اسلا م سے خارج ہو گا یہی ہمارا ایما ن ہے کا نفر نس میں مقر رین نے کرتار پور ی راہداری کا بھی تذ کرہ کیا اور اس حوالے سے حکو مت پر خو ب تنقید کی اُن کا کہنا تھا کہ حکو مت نے سکھ کمیٹی کی خوشنودی کے لئے یہ راہداری کھول دی تا ہم درحقیقت یہ قادیا نیو ں کو پا کستان میں نقل و حر کت کے لئے محفوظ راستہ فراہم کیا گیا اور اسی راستے سے وہ ہو تے ہو ئے انڈ یا سے پا کستان آئیں گے اور یہا ں پر قادیا نیت کا پر چار کر یں گے انہو ں نے حکو مت سے پر زور مطا لبہ کیا کہ کر تار پور راہداری کے فیصلے پر نظر ثانی کر کے اسے فوری طور پر بند کر دیا جا ئے سا تھ ہی پاکستان میں قا د یا نیو ں کی سر گر میو ں پر کڑی نظر رکھیں کیو نکہ قاد یا نی پاکستان کے آئین کی رو سے غیر مسلم اور کا فر ہیں اس کے علا وہ انہو ں نے اُ مت مسلمہ پر بھی زور دیا کہ وہ قاد یا نیو ں کے تما م تر مصنو عات کا با ئیکاٹ کر یں۔

مزید : پشاورصفحہ آخر