انتظار حسین قتل کیس، وکیل او ر گواہوں کی عدم حاضری، قاتل تا حال انجام کو نہیں پہنچ سکے 

انتظار حسین قتل کیس، وکیل او ر گواہوں کی عدم حاضری، قاتل تا حال انجام کو نہیں ...

  



کراچی (رپورٹ /ندیم آرائیں)انتظار قتل کیس کودو سال بیت گئے تاہم وکیل صفائی کے اور گواہوں کی عدالت میں عدم حاضری کے باعث تاحال قاتل ابھی تک اپنے انجام کو نہیں پہنچ سکے ہیں۔انسداد دہشت گردی کی عدالت گزشتہ سماعت میں بھی گواہ کی عدم حاضری کے باعث سماعت ملتوی کردی تھی۔ انتظار کے والد اشتیاق کا کہنا ہے کہ کہ میں اپنے بیٹے کا مقدمہ تن تنہا ہی لڑرہا ہوں ساتھ کھڑے ہونے کے دعویدار تو چند دنوں کے بعد ہی منظر سے غائب ہوگئے تھے۔اب تک دو سالوں۔میں 40 سے 45 پیشیاں بھگت چکا ہوں  میری آخری خواہش ہے کہ اپنی زندگی میں ہی عدالت سے انصاف حاصل کرلوں،آج بھی کئی سوال ہیں جن کے جواب ملنا باقی ہیں۔تفصیلات کے مطابق دو سال قبل سندھ پولیس کے محکمے اینٹی کار لفٹنگ سیل (اے سی ایل سی) نے 19 سالہ انتظار احمد کو روکا اور گولیاں برسا کر ہلاک کردیا تھا۔اس واقعے میں ملوث اے سی ایل سی ٹیم پر وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کے احکامات پر اس وقت کے ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ثنااللہ عباسی کی سربراہی میں 7 رکنی جوائنٹ انٹیروگیشن ٹیم تشکیل دی گئی تھی۔ جے آئی ٹی نے انتظار کے قتل کو کولڈ بلڈڈ ریش مرڈر یعنی سفاکانہ قتل قرار دیا اور 8 ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کی سفارش کی تھی۔تحقیقات کے مطابق کہانی تین کرداروں کے گرد گھوم رہی تھی، اس وقت کے ایس ایس پی اے سی ایل سی مقدس حیدر، جن کے گن مینز نے فائرنگ کر کے انتظار احمد کو قتل کیا، واقعے کے وقت مقتول کے ساتھ موجود خاتون مدیحہ کیانی جنہیں جے آئی ٹی نے کلین چٹ دے دی اور تیسرا اے سی ایل سی انسپکٹر عامر حمید جس نے اپنے بھائی سہیل حمید کے کہنے پر اپنی بھتیجی ماہ رخ سے انتظار کا پیچھا چھڑوانے کے لیے اسے قتل کیا، لیکن جے آئی ٹی رپورٹ نے اس الزام کو بھی رد کردیا۔دو سال گزر جانے کے باوجود انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ملزمان کے خلاف کیس اپنے منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکا ہے۔تفتیشی افسر اور گواہوں کی عدم حاضری کے باعث عدالت سماعت ملتوی کرنے پر مجبورہوجاتی ہے۔مقتول انتظار کے والد اشتیاق احمد کا کہنا ہے کہ میرے بیٹے کے قتل کے بعد ہمارے گھر سیاسی رہنماؤں کا تانتا بندھ گیا تھا۔صدر ڈاکٹرعارف علوی،وزیراعظم عمران خان،گورنر سندھ عمران اسماعیل،وزیراعلیٰ سندھ سمیت اہم شخصیات نے ہمیں انصاف دلانے کی یقین دہائی کرائی تھی۔انہوں نے کہا کہ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ عمران خان نے عمران اسماعیل کو مخاطب کرتے ہوئے تھا کہ مجھے واقعہ کی پیش رفت کے بارے میں آگاہ کرتے رہنا۔اس واقعہ کو آج2 برس گذر گئے ہیں لیکن ابھی تک ہم انصاف کے منتظر ہیں۔انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ سی ٹی ڈی پولیس نے انتظار کو نشانہ بنایا اور پولیس ہی کو جے آئی ٹی سونپ دی گئی کہ حقائق سے پردہ اٹھائے،یہ کیسے ممکن تھا کہ پولیس کی کوتاہیوں،غلطیوں اور جرم کو پولیس کے اعلیٰ افسران بے نقاب کرتے۔مقتول انتظار کے والد نے بتایا کہ آج بھی کئی سوال ہیں جن کے جواب ملنا باقی ہیں۔ میرے بیان کو من و عن جے آئی ٹی رپورٹ کا حصہ نہیں بنایا گیا تھا، یہ رپورٹ ادھوری ہے،قاتلوں کی واضح نشاندہی کرنے سے گریز کیا گیا ہے۔انتظار کے دوست سلمان اور مدیحہ کیانی کو کیوں شامل تفتیش نہیں۔کیا گیا مدیحہ کیانی کو گواہ کیوں۔بنایا گیا؟ جبکہ اسی نے میرے بیٹے کو مطلوبہ جگہ پر لانے میں اہم کردار ادا کیا تھا،جب سب کچھ سی سی ٹی وی فوٹیج میں واضح تھا تو مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف کرنا،انصاف کے قتل کے مترادف ہے۔انہوں نے کہا  تفتیشی افسر بھی اپنے پیٹی بھائیوں۔کو بچانے کے لیے انہی کا ساتھ دے رہا ہے جب اے ٹی سی نے جب عامر حمید کی ضمانت خارج کی تھی تو تفتیشی افسر نے اسے با آسانی عدالت سے فرار ہونے دیا اس کے بعد جب عامر حمید کی ضمانت کی درخواست ہائی کورٹ نے خارج کی تو یہاں سے بھی اسے تفتیشی افسر نے گرفتار نہیں۔کیا اور فرار ہونے دیا عامر حمید کی گرفتاری سپریم کورٹ میں ضمانت خارج ہونے کے بعد عمل میں آئی، انہوں نے کہا کہ تفتیشی افسر ہمارے مقدمے کو ایمانداری سے نہیں چلا رہا ہے اسی لیے میں نے تفتیشی افسر تبدیل لرنے کی عدالت میں درخواست دائر کردی ہے انہوں نے کہا  مجھے ساری زندگی ہی کیوں نہ لگانی پڑجائے مگر میں انصاف کے لیے عدالت میں جاتا رہوں گا کب تک یہ لوگ حیلے بہانوں سے کام۔لیتے رہیں گے مجھے اللہ پر بھروسہ ہے کہ مجھے انصاف ضرور ملے گا،  مجھے اپنے بیٹے کے قتل کی تحقیقات اور انصاف کا حصول  اس لیے بھی چاہیے کہ مزید کئی اور ”انتظار“ قتل نہ کیے جائیں اور کسی اور ”اشتیاق“ کو اپنے نوجوان بیٹے کا دکھ نہ دیکھنا پڑے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر