پولیس افسران خود کو جدوجہد اور جستجو کا حصہ بنائیں : آئی جی سندھ 

پولیس افسران خود کو جدوجہد اور جستجو کا حصہ بنائیں : آئی جی سندھ 

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر) اسکول آف فائنانس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی سینٹرل پولیس آفس کراچی میں قائم پاکستان کا پہلا اور وہ واحد اسکول ہے جہاں محکمہ پولیس کے مالیاتی امور بشمول بجٹ/آڈٹ/انسپیکشن/ اکاؤنٹس سے متعلق پولیس افسران اورمنسٹریل اسٹاف کوباقاعدہ تربیتی کورسزکرائے جاتے ہیں اور مختلف دورانیئے پر مشتمل ان کورسز کے شرکاء کی تربیت کے عمل میں معروف اورتجربہ کارماہرین سے خدمات لی جاتی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار آئی جی سندھ ڈاکٹرسیدکلیم امام نے مذکورہ اسکول میں ایک ہفتے پر مشتمل ڈی ڈی او ٹریننگ کورس کے اختتام پرتربیت میں حصہ لینے والے پی ایس پی افسران سے خطاب کے دوران کیا۔واضح رہیکہ کہ مذکورہ کورس میں سندھ پولیس کے مختلف یونٹس میں ڈی ڈی او کے اختیارات رکھنے والے 23ایس ایس پیزاورایس پیزرینک کے افسران نے حصہ لیا۔آئی جی سندھ نے کہا کہ اکاؤنٹس ایک مشکل مضمون ہے، اسکی ہر محکمے میں اپنی ایک حیثیت اور مقام ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کام آنا اور کام جاننا دونوں ایک دوسرے سے الگ اور مختلف ہیں،تجربے اور صلاحیت کا اسوقت پتہ لگتا ہے جب کوئی سوال کرے تو آپ کو اس ٹاپک یا مضمون کے بارے میں معلوم ہو۔اگر آپ اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کرناچاہتے ہیں تو خود کو سیکھنے کے عمل سے ہرگز دور نہ رکھیں اور خود کو ہمیشہ اس جدوجہد اور جستجو کا حصہ بناتے رہیں۔انہوں نے کہا کہ بجٹ اور فائنانس کسی بھی محکمہ کا انتہائی اہم شعبہ ہے اگرآپکو محکمانہ مالیاتی امورکا تجربہ اور ادراک ہے تو پہلے سے تعینات کوئی بھی افسر یا ملازم اپنی من مانی نہیں کرسکے گا۔بجٹ ایک چیلنج ہے اور آپ سب کو محکمانہ وسائل کے شفاف استعمال کے بارے میں معلوم ہونا اشد ضروری ہے۔اس اسکول سے فراہم کردہ تربیت سے آپکو بجٹ کے آڈٹ، اسکے استعمال اور انسپیکشن سمیت بجٹ کوریگولرائز کرنے جیسے امورومعاملات سمجھنے میں نا صرف مدد ملے گی بلکہ آپکے تجربے میں بھی اضافہ ہوگا۔انہوں نے اپنے خطاب میں اسکول کے قیام اور تربیتی کورسز کے انعقاد پر ڈی آئی جی ٹریننگ ناصرآفتاب اور ڈی آئی جی فائنانس ذوالفقار لاڑک کی کوششوں کی تعریف کی اورانہیں شاباش دیتے ہوئے کورس کے شرکاء میں اسناد تقسیم کیں۔اس موقع پر آپریشنز، لاجسٹکس،فائنانس اور ویلفیئرسندھ کے اے آئی جیز کے علاوہ پی ایس او ٹو آئی جی سندھ بھی موجود تھے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...