ترکی کاقذافی دور کے بقایا جات لینے کے لیے لبیائی حکومت سے سمجھوتہ

  ترکی کاقذافی دور کے بقایا جات لینے کے لیے لبیائی حکومت سے سمجھوتہ

  



انقرہ(این این آئی)ترکی کی قومی حکومت کے وزیراعظم فائز السراج اورترک صدر ایردوآن کے درمیان ایک نئے سمجھوتے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ اس ممکنہ سمجھوتے کے بعد سنہ 2011ء میں کرنل قذافی کے قتل اور ان کی حکومت کے خاتمے کے بعد ترکی کی کمپنیوں پرعاید کردہ پابندی ختم کردی جائے گی۔ قذافی دور کی اسکیموں اور منصوبوں میں ترکی کو واجب الاداء رقوم ترکی کے حوالے کرنے کی یقین دہانی کرائی جائیگی۔ اس طرح ترکی قذافی دور کے روکے گئے پیسوں کو وصول کرنے کی پوزیشن میں آ جائے گا۔عرب ٹی وی کے مطابق ایک سینئر ترک عہدیدار نے بتایا کہ ان کا ملک فروری 2020ء میں لیبیا کی قومی وفاق حکومت کے ساتھ ایک نئے سمجھوتے پر دستخط کرے گا۔ اس معاہدے کے تحت لیبیا کی حکومت کرنل قذافی کے دور کے دو ارب 70 کروڑ ڈالرترک حکومت کو ادا کرنے کی پابند ہو گی۔یہ رقم کرنل قذافی کے دور میں ترکی کی مختلف کمپنیوں کو لیبیا کی طرف سے منصوبوں پر کام کے دوران ادا کی جانا تھی تاہم کرنل قذافی کے خلاف عوامی بغاوت اور ان کا تختہ الٹے جانے کے بعد ترک کمپنیاں اس خطیر رقم سے محروم ہو گئی تھیں اور انہیں کام ادھورے چھوڑ کرترکی واپس آنا پڑا تھا۔

مزید : عالمی منظر


loading...