حکومتیں عوام کو قانون حقوق او ر بنیادی سہولتیں فراہم کرے: چیف جسٹس سپریم کورٹ 

حکومتیں عوام کو قانون حقوق او ر بنیادی سہولتیں فراہم کرے: چیف جسٹس سپریم ...

  



حیدرآباد(رپورٹ/عبدالطیف چنہ)چیف جسٹس پاکستان جناب جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ آئین کی روح کے مطابق جو قوانین بنائے جاتے ہیں ان میں صحت اور تعلیم کے یکساں مواقع کو اہمیت دی جاتی ہے اور بنیادی حقوق کو یقینی بنایا جاتا ہے، لیکن تشویش کی بات یہ ہے کہ خصوصاً صحت اور تعلیم سے متعلق قوانین سے عام لوگ استعفادہ نہیں کر پا رہے، ہم نے قائداعظم کے اصولوں کو بالائے طاق رکھ دیا ہے، قرآن و سنت کے بعد آئین مقدس کتاب ہے اس پر اگر پوری طرح عمل کیا جائے تو عوام پر ہر شعبے میں ترقی کے راستے کھل سکتے ہیں۔وہ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن حیدرآباد کے سالانہ عشائیہ سے خطاب کر رہے تھے جس سے سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس جسٹس احمد علی شیخ اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن حیدرآباد کے صدر امداد علی انڑ نے بھی خطاب کیا۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ میں نہایت شکرگزار ہوں اور اس پر مجھے خوشی ہے کہ چیف جسٹس کا منصب سنبھالنے کے بعد حیدرآباد ڈسٹرکٹ بار نے مجھے اس تقریب سے خطاب کی دعوت دی ہے جو ملک بھر میں کسی بار سے میرا پہلا خطاب ہے، انہوں نے کہا کہ وکیل کی حیثیت سے میں عرصہ تک ڈسٹرکٹ کورٹ حیدرآباد میں پیش ہوتا رہا ہوں اور ہائیکورٹ کے جج کی حیثیت سے بھی کافی عرصہ تک یہاں خدمات انجام دی ہیں، حیدرآباد تاریخ اور ثقافت کے لحاظ سے ایک تاریخی شہر ہے اور خصوصاً پکا اور کچہ قلعہ سے میں بہت متاثر ہوا تھا، انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں جج کی حیثیت سے میں نے کار میں نہیں بلکہ پیدل چل کر اس شہر کو دیکھا اور لوگوں کے مسائل کا ادراک کیا اور انہیں حل کرنے کی کوشش کی جسے شہریوں نے بھی سراہا، میں نے دریائے سندھ جو کہ لائف لائن کی حیثیت رکھتا ہے اس پر اور پھلیلی نہر پر بیٹھ کر بہت سا وقت گزارا ہے، انہوں نے کہا کہ یہ بات توجہ طلب ہے کہ ہم نے قائداعظم محمد علی جناح کے اصولوں اور اچھی باتوں پر عمل کرنے کی بجائے انہیں سجا کر رکھ دیا ہے، خصوصاً قائداعظم محمد علی جناح نے حکومت کی کارکردگی اور خدمات کے حوالے سے جو اصول بتائے تھے انہیں ہم نے فراموش کر دیا ہے، انہوں نے کہا کہ ہونا یہ چاہئیے کہ ہم قائداعظم محمد علی جناح کے اصولوں کو سجا کر رکھنے کی بجائے ان پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں، انہوں نے کہا کہ قرآن و سنت کے بعد آئین مقدس کتاب ہے، آئین اور قانون کے مطابق انصاف کو یقینی بنانا ہمارا فرض ہے، انہوں نے کہا کہ عدالتیں ہمیشہ عوام کو انصاف فراہم کرنے اور قانون کے مطابق حقوق دینے کے لئے کام کرتی رہی ہیں اور بار اور بینچ اپنے مقدس اتحاد سے اس کو یقینی بنائیں گے، انہوں نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ حکومتیں عوام کو ان کے قانونی حقوق اور تمام بنیادی سہولتیں فراہم کریں تاکہ وہ بہتر اور خوشحالی کی زندگی گزار سکیں، انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ترقی کے بہت مواقع ہیں ہماری افرادی قوت بہت اہل ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہر طرح کے وسائل سے بھی نوازا ہے لیکن شائد انتظامیہ میں یہ عزم اور خواہش یا استطاعت نہیں ہے کہ وہ ان کو ملک اور قوم کی بہتری کے لئے استعمال کر سکے، چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ میں ملک کے تمام بااختیار اور اہمیت رکھنے والے لوگوں سے کہتا ہوں کہ وہ عوام کو وہ سب کچھ فراہم کریں جو کہ ان کا حق ہے، قانون کے مطابق لوگوں کو سہولتیں فراہم کی جائیں اور لوگوں کے درمیان عدم مساوات کو ختم کیا جائے، انہوں نے کہا کہ یہ صرف عدالتوں اور وکلاء کا کام نہیں ہے کہ وہ آئین کا تحفظ کریں بلکہ یہ سب لوگوں کا کام ہے کہ آئین کی حفاظت کی جائے اور تمام کام اس کے مطابق انجام پائیں، انہوں نے کہا کہ آئین میں ایک طریقہ کار وضع کیا ہے جس کے مطابق ہر فرد کو پسماندگی سے نکال کر خوشحالی کی طرف لے جایا جا سکتا ہے، انہوں نے کہا کہ آئین پر درست طور پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے ہی عوام ایک باوقار زندگی حاصل نہیں کر پا رہے اور انہیں پوری طرح انصاف نہیں مل رہا اور پورا انتظامی ڈھانچہ متاثر ہے، انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس سلسلے میں سنجیدگی کا پوری طرح مظاہرہ کرے کہ لوگوں کو تمام بنیادی حقوق حاصل ہوں اور آئین کے مطابق آگے بڑھنے کے مواقع ملیں۔

مزید : صفحہ اول