خصوصی عدالت کی تشکیل پر لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ، سابق صدر پرویز مشرف کا موقف آگیا

خصوصی عدالت کی تشکیل پر لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ، سابق صدر پرویز مشرف کا موقف ...
خصوصی عدالت کی تشکیل پر لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ، سابق صدر پرویز مشرف کا موقف آگیا

  



دبئی (ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے خصوصی عدالت کی تشکیل کو کالعدم قرار دینے کے فیصلے پر سابق صدر پرویز مشرف کا رد عمل بھی آگیا۔

نجی ٹی وی اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سابق صدر پرویز مشرف نے کہا کہ ہائیکورٹ کا فیصلہ بہت اچھا ہے جس کی انہیں بہت خوشی ہے، ہائیکورٹ نے آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہائیکورٹ کا تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد اس معاملے پر بات کریں گے۔

اپنی صحت کے حوالے سے سابق صدر نے کہا کہ ان کی طبیعت بہتری کی جانب گامزن ہے، وہ صحت یابی کیلئے دعائیں کرنے والوں کے شکر گزار ہیں۔

خیال رہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے 3 رکنی بینچ نے پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کی تشکیل کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں جسٹس امیر بھٹی اور جسٹس مسعود جہانگیر پر مشتمل بینچ نے خصوصی عدالت کے حوالے سے مختصر فیصلہ جاری کیا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم کی غیر موجودگی میں اسے سزا سنانا غیر آئینی اور غیر اسلامی ہے۔

پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ کی سربراہی میں خصوصی عدالت نے 17 دسمبر کو سنگین غداری کیس کا فیصلہ سنایا تھا۔ عدالت نے قرار دیا تھا کہ پرویز مشرف کو ہر جرم کے بدلے میں سزائے موت سنائی جائے، فیصلے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ سابق صدر کو مثالی سزا دی جانی چاہیے۔ خصوصی عدالت کے سربراہ جسٹس وقار سیٹھ نے فیصلے میں لکھا تھا کہ سزا پر عملدرآمد سے پہلے ہی اگر پرویز مشرف وفات پاجائیں تو ان کی میت کو پاکستان لایا جائے اور ڈی چوک میں 3 روز تک لٹکایا جائے۔

مزید : Breaking News /اہم خبریں /قومی