دنیا کے سب سے خطرناک جنسی درندے سے بال بال بچ جانے والے آدمی کی کہانی، انتہائی شرمناک تفصیلات بیان کردیں

دنیا کے سب سے خطرناک جنسی درندے سے بال بال بچ جانے والے آدمی کی کہانی، ...
دنیا کے سب سے خطرناک جنسی درندے سے بال بال بچ جانے والے آدمی کی کہانی، انتہائی شرمناک تفصیلات بیان کردیں

  



لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ میں 36سالہ انڈونیشیائی شخص رین ہارڈ سیناگا نے 195سے زائد مردوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنا کر اپنا نام تاریخ کے بدترین جنسی درندے کے طور پر لکھوا لیا ہے۔ اب اس کے چنگل میں پھنس کر بال بال بچ نکلنے والا ایک نوجوان بھی سامنے آ گیا ہے اور اس کا طریقہ واردات دنیا کو بتا دیا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق اس 26سالہ نوجوان کا نام مائیکل کرومپٹن ہے۔ مائیکل نے بتایا ہے کہ ایک رات میں اپنے دوستوں کے ساتھ کلب میں تھا۔ علی الصبح 4بجے ہم وہاں سے نکلے اور میں ان سے بچھڑ گیا۔ میرے فون کی بیٹری ختم ہو چکی تھی اورمیں دوستوں سے رابطہ بھی نہیں کر سکتا تھا۔“

مائیکل کا کہناتھا کہ ”میں ایک دکان پر گیا تاکہ وہاں سے چارجر لے کر فون ری چارج کر سکوں۔ وہاں مجھے رین ہارڈ ملا اور بغیر جان پہچان کے اس نے مجھے اپنے قریب واقع ایک کمرے کے فلیٹ میں چلنے اور فون ری چارج کرنے کی پیشکش کر دی۔ میں اس کے ساتھ چلا گیا۔ وہاں فون چارجر پر لگا کر میں بیٹھ گیا۔ اس دوران اس نے دو بار مجھے شراب کی پیشکش کی، حالانکہ اس آدھی رات کو وہ خود نشے میں نہیں تھا جس کا مطلب تھا کہ اس نے خود نہیں پی رکھی۔ اس پر مجھے شک ہوا کہ یہ شخص خود نہیں پی رہا اور مجھے پلانا چاہ رہا ہے، تو یقینا کچھ گڑ بڑ ہے۔“

مائیکل نے بتایا کہ ”جب مجھے یہ شک گزرا تو میں نے اپنا فون چارجر سے اتارا اور بہانے سے باہر نکل گیا۔ اس نے مجھے روکنے کی کوشش کی لیکن میں نے دوڑ لگا دی۔“واضح رہے کہ رین ہارڈ سیناگا سٹوڈنٹ ویزے پر انڈونیشیاءسے برطانیہ آیا تھا اور لیڈز یونیورسٹی میں زیرتعلیم رہا۔ اب وہ پی ایچ ڈی کا طالب علم تھا۔ اس پر 195مردوں کو بدفعلی کا نشانہ بنانے کا الزام ثابت ہوا اور عدالت نے اسے 60سال قید کی سزا سنا کر جیل بھجوا دیا ہے۔ تاہم پولیس حکام نے اعتراف کیا ہے کہ اس کی بربریت کا شکار ہونے والے مردوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس