ٹیسٹ میچ کیلئے ٹیم پاکستان بھیجنے سے انکار، رمیز راجہ نے بنگلہ دیشی بورڈ کو آڑے ہاتھوں لے لیا، آئی سی سی سے بڑا مطالبہ کر دیا

ٹیسٹ میچ کیلئے ٹیم پاکستان بھیجنے سے انکار، رمیز راجہ نے بنگلہ دیشی بورڈ کو ...
ٹیسٹ میچ کیلئے ٹیم پاکستان بھیجنے سے انکار، رمیز راجہ نے بنگلہ دیشی بورڈ کو آڑے ہاتھوں لے لیا، آئی سی سی سے بڑا مطالبہ کر دیا

  



لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کھلاڑی رمیز راجہ نے ٹیسٹ سیریز کیلئے ٹیم پاکستان بھیجنے سے انکار پر بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) سے مداخلت کا مطالبہ کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم نے رواں مہینے تین ٹی 20 اور دو ٹیسٹ میچوں پر مشتمل سیریز کھیلنے کیلئے پاکستان کا دورہ کرنا تھا تاہم کئی روز ٹال مٹول کے بعد بی سی بی نے خطے کی تازہ ترین صورتحال کے پیش نظر ٹیسٹ سیریز کیلئے ٹیم پاکستان بھیجنے سے انکار کر دیا ہے جس پر رمیز راجہ نے بنگلہ دیشی بورڈ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

اپنے ایک ویڈیو بیان میں رمیز راجہ نے کہا کہ ” مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ بنگلہ دیشی بورڈ خطے کی موجودہ صورتحال کو جواز بنا کر اپنی ٹیم ٹیسٹ میچز کھیلنے کیلئے پاکستان بھیجنے سے انکار کیسے کر سکتا ہے۔ اگر یہ بات ہے تو پھر پورے ایشیاءمیں حالات سازگار نہیں ہے اس لئے کہیں بھی کرکٹ نہیں ہونی چاہئے۔ اسی طرح انگلینڈ میں چاقو بردار سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں جبکہ آسٹریلیا کے جنگلات میں آگ لگی ہے۔ بنگلہ دیشی بورڈ کے جواز نے مجھے حیران کر دیا ہے کیونکہ پاکستان واضح کر چکا ہے کہ وہ امریکہ اور ایران کے معاملے پر نیوٹرل رہے گا۔“

رمیزراجہ نے آئی سی سی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں کیونکہ وہ خود بھی پاکستان کو محفوظ قرار دے چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا ”آئی سی سی نے اپنے میچ آفیشلز پاکستان بھیجے جس کا مطلب ہے کہ وہ پاکستان کو محفوظ تصور کرتی ہے۔ پاکستان نے بنگلہ دیش کو یقین دہانی کرائی ہے کہ انہیں صدارتی لیول کی سیکیورٹی دی جائے گی جبکہ سری لنکن کھلاڑیوں نے بھی سیکیورٹی اقدامات کی خوب تعریف کی۔“

ان کا کہنا تھا کہ ”ایشیائی ممالک کو پاکستان کی مدد کیلئے آگے بڑھنا ہو گا کیونکہ پاکستان میں سیکیورٹی کے حوالے سے بنگلہ دیش کے جو خیالات ہیں، حقیقت اس سے بالکل مختلف ہے۔ بنگلہ دیش کو حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے کرکٹ کے مستقبل کی خاطر مثبت فیصلہ کرنا چاہئے تھا۔“

مزید : کھیل