حکومت سے کتنے ارب کا معاہدہ ہوا تھا ؟ ایم کیوایم کے رہنما کی ڈیمانڈ جان کر آنکھیں کھل جائیں گی

حکومت سے کتنے ارب کا معاہدہ ہوا تھا ؟ ایم کیوایم کے رہنما کی ڈیمانڈ جان کر ...
حکومت سے کتنے ارب کا معاہدہ ہوا تھا ؟ ایم کیوایم کے رہنما کی ڈیمانڈ جان کر آنکھیں کھل جائیں گی

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایم کیو ایم کے رہنما حیدر عباس رضوی نے کہاہے کہ کراچی میں بہت آگے کی باتیں کرنی ہیں ، حکومت 25ارب کی بات کررہی ہے لیکن ہم نے 162 ارب روپے کی بات کی تھی اور ایک تحریری معاہدہ ہوا تھا ۔

اے آروائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے حیدر عباس رضوی نے کہا کہ حکومت کے ساتھ درجنوں ملاقاتیں ہوئی ہیں لیکن 17ماہ میں کسی چیز پر بھی پیش رفت نہیں ہوئی ،اتنی دیرمیں اتنا تو ہوجاتا کہ یہ چیزیں شروع ہوجاتیں لیکن کوئی چیز بھی شروع نہیں ہوئی ۔انہوں نے کہا کہ اسدعمر نے بھی آج آکروہی باتیں دہرائیں ہیں جو سترہ ماہ سے دہراتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں بہت آگے کی باتیں کرنی ہیں ، حکومت 25ارب کی بات کررہی ہے لیکن ہم نے 162روپے کی بات کی تھی اور ایک تحریری معاہدہ ہوا تھا ۔

حیدر عباس رضوی کا کہناتھا کہ ایک سیاسی جماعت یونیورسٹی مانگ رہی ہے ،وہ بھی نہیں دی جارہی تو پھر کہاںجائیں ؟ انہوں نے کہا کہ جب فروغ نسیم وزیر بنے تھے تو ان کی جانب سے کہاگیا تھا کہ وہ ایم کیو ایم کے کوٹے سے وزیر نہیں ہیں ، حکومت وقت اور وزیر اعظم نے ان کی قابلیت کو اور ان کی خدمات کو سامنے رکھتے ہوئے ان کی معاونت حکومت پاکستان کیلئے طلب کی تھی۔ اگر حکومت سنجیدہ نہیں ہوتی تو تحریک انصاف کو کراچی سمیت پورے پاکستان میں اس کے نقصانات اٹھانے پڑیں گے ، ہمیں امیدہے کہ حکومت وقت ماضی کی حکومتوں کی طرح کراچی کوغیر سنجیدہ نہیں لے گی ، ہم نے بڑی غلطیاں کی ہیں اوراب کوشش کریںگے کہ غلطیوں کا ازالہ کریں اور وہ غلطیاں نہ دہرائیں جو ماضی میں کی ہیں۔

مزید : قومی