سانحہ مچھ پر بے حسی کا مظاہرہ

سانحہ مچھ پر بے حسی کا مظاہرہ
 سانحہ مچھ پر بے حسی کا مظاہرہ

  

سانحہ مچھ بھی پاکستانی قوم پر گزرنے والے سانحات میں سے ایک ہے یہ پاکستان میں رونما ہونے والا پہلا واقعہ نہ تھا اس سے قبل بھی سینکڑوں ایسے واقعات اور سانحات رونما ہو چکے ہیں جس میں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کو بے دردی سے مارا گیا ہے۔ لیکن اب کی بار فرق صرف اتنا ہے پہلے بم یا گولی سے انہیں نشانہ بنایا جاتا تھا اس بار ان بے چاروں کے تیز دھار آلے سے گلے کاٹے گئے وہ لاچار مزدور گھر والوں کی روزی روٹی کا بندوبست کرنے گھر سے دور محنت مزدوری کرنے گئے تھے۔ اس سانحہ کی ذمہ داری داعش نے قبول کی ہے اور پاکستان میں اس کی موجودگی ظاہر کرتی ہے کہ اسے غیر ملکی طاقتیں یہاں لانچ کر رہی ہیں اور اس کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے کیونکہ وہ بلوچستان میں پہلے بھی علیحدگی پسندوں کی مدد کر رہا ہے۔

پچھلے بیس سال میں کوئی دو ہزار کے قریب ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے افرادموت کے گھاٹ اتارے جا چکے ہیں۔یہ توریاست کی ذمہ داری ہے کہ اپنے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائے لیکن یہاں ہمارے وزیراعظم جو اپوزیشن کے دنوں میں دعوے کرتے تھے کہ کوئی بے گناہ اگر قتل ہوتا ہے جس کے قاتل نا معلوم ہوتے ہیں اس کی قاتل ریاست ہوتی ہے اور اس کے ذمہ دار حاکم وقت ہوتے ہیں لیکن جب سے وہ اقتدار میں آئے ہیں ان کے سارے اصول اور سارے وعدے الٹ ہو چکے ہیں اب نہ ان کے دور میں ریاست ذمہ دار ہوتی ہے اور اگر بات مظلومین کے لواحقین کو ملنے کی ہو تو وہ بلیک میلنگ کا طعنہ دیتے ہیں اور شاید عمران خان اب تک پہلے حکمران ہیں جنہوں نے شہیدوں کے لواحقین کے ساتھ ضد لگائی کہ پہلے وہ اپنے پیاروں کو دفنائیں میں پھر آؤں گا وگرنہ ماضی میں پیپلز پارٹی کے دور میں بھی ایسا ہی سانحہ رونما ہوا تھا تو اس وقت پیپلز پارٹی کے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف خود چل کر ان کے پاس گئے اور ان کی ڈھارس بندھائی اور انہیں اپنے پیاروں کی میتوں کو دفن کرنے کے لئے راضی کیااور یہ کام عمران خان با آسانی کر سکتے تھے، لیکن  عمران خان جو روز اول سے  ضد کے پکے مشہور ہیں انہوں نے یہاں روحانی باپ کا کردار ادا کرنے کی بجائے ایک ضدی بچے والا رویہ اپنایا جو کسی حکومت کے سربراہ کے شایان شان نہیں ہے۔

عمران خان اس دوران اپنے وزیروں مشیروں سے سینیٹ میں جوڑ توڑ کے حوالے سے ملاقاتیں کرتے رہے اور اس کے علاوہ ترک فنکاروں سے ملے لیکن نہیں گئے تو کوئٹہ کے ہزارہ کے پاس بر وقت نہیں گئے۔کبھی سیکیورٹی رسک کا بہانہ بنایا گیا تو کبھی کہتے رہے کہ مجھے بلیک میل کر کے نہیں بلایا جا سکتا۔یہ رویہ کسی حکومت کے سربراہ کا نہیں ہو سکتا اور حکومت بھی ایک ایسی ریاست کی جسے وہ ریاست مدینہ بنانے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ریاست مدینہ میں تو فرات کے کنارے اگر کوئی کتا بھی بھوک سے مر جائے تو اس کے حاکم کو غم ہوتا تھا کہ مجھ سے پوچھ گچھ ہو گی لیکن یہاں ریاست مدینہ بنانے کے کھوکھلے دعوے کئے جاتے ہیں اور عملی کام نہ ہونے کے باربر ہے۔ عمران خان کے دور میں ہی سانحہ ساہیوال ہوا مجرمان کو الٹا لٹکانے کے دعوے کئے گئے ریاست مدینہ کی دہائی دی گئی، لیکن بعد میں اس واقعہ میں ملوث تمام ملزمان کو با عزت بری کر دیا گیا  پھر کچھ دن قبل اسلام آباد میں اسامہ ستی نامی نوجوان کو انسداد دہشت گردی کے ادارے نے گولیاں مار کر شہید کر دیا۔

ہزارہ برادری کے افراد کی بات کریں تو ان کی ٹارگٹ کلنگ پاکستان میں دشمن قوتوں کی فرقہ واریت پھیلانے کی بھی ایک مذموم کوشش ہے تا کہ شیعہ سنی فساد کی آگ بھڑکائی جا سکے۔ابھی تک بین المسالک ہم آہنگی موجود ہے جس کی وجہ سے فرقہ واریت کی آگ نہیں بھڑکائی جا سکی وگرنہ جس طرح ہزاراہ برادری کے لوگ چھ دن اپنے پیاروں کی میتوں کو لے کر بیٹھے رہے اور وزیراعظم نے ان کے ساتھ ضد لگائے رکھی تو اس دوران پورے ملک میں حالات خراب ہو سکتے تھے۔ ریاست ہر شہری کے ساتھ تو کوئی سیکیورٹی اہلکار نہیں لگا سکتی، لیکن کم از کم اتنا تو کر سکتی ہے کہ جس جگہ ہزارہ برادری کے لوگ موجود ہوں یا جہاں وہ کام کر رہے ہوں وہاں سیکیورٹی کا بندو بست کرے تا کہ  اس لاچار قوم کا مزید نقصان نہ ہو اور بلوچستان خصوصا کوئٹہ میں سیکیورٹی کا ایسا نظام بنایا جائے کہ مستقبل میں اس طرح کے سانحات سے بچا جا سکے اور ہمارے سیکیورٹی اداروں کو چاہئے کہ اس پر خصوصا غور کریں،اس سے عوام کی جان و مال محفوظ ہو گی اور مستقبل میں وزیراعظم کو بھی میتوں یا جنازوں میں جانے کی دقت سے بچایا جا سکے۔ 

مزید :

رائے -کالم -