خواتین پر گھر یلوتشدد، حراسانی جنسی تشدد اور انسداد گداگری کیخلاف قانون منظور کیا جائے گا، جہانگیر خان 

  خواتین پر گھر یلوتشدد، حراسانی جنسی تشدد اور انسداد گداگری کیخلاف قانون ...

  

 پشاور(سٹی رپورٹر)صوبائی وزیر اعلی محمود خان کی خصوصی ہدایات پر پشاور سمیت خیبر پختونخوا کے تمام اضلاع میں خواتین پر گھریلوتشدد،جنسی تشدداور دیگر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیئے؛ بولو ھاٹ لائن؛نمبر080022227قائم کر دیا گیا ہے متاثرہ خواتین فری کال کے زریعہ سوشل ویلفئیر ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ رابطہ کر کے قانونی اور سماجی و جان و مال کا تحفظ حاصل کر سکیں گے ادارہ پولیس کی مدد سے ایسی متاثرہ خواتین کو باز یاب کروا کر ہر ممکن تحفط فراہم کرے گی صوبائی سیکرٹری سوشل ویلفیئر خیبر پختونخوا کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے؛ڈومیسٹک گھریلو تشدد؛ قانون تیار کر لیا ہے جو صوبائی اسمبلی سے آئندہ سیشن سے منظور کرا لیا جائے گا اس امر کا انکشاف سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کے افسر جہانگیر خان نے صحافیوں کوبریفنگ کے دوران کیا انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں صوبائی وزیر اعلی کی ہدایت پر ادارے نے ابتدائی مرحلہ میں کام شروع کر دیا ہے جس کے تحت 815متاثرہ خواتین کودارالامان میں شیلٹر ہوم،اور قانونی و سماجی تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے انہوں نے بتایا کہ پشاور کے وومن ورکنگ ھاسٹل حیات آباد میں گھریلو تشدد و مظالم کا شکار 140 مختلف خواتین سمیت صوبہ بھر کے مختلف اضلاع میں قائم وومن ورکنگ ہاسٹلوں میں 815خواتین کو قانونی تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے جہاں چھت کے نیچے عزت کی زندگی گزارنے کے علاوہ مفت قانونی مشیر کھانے پینے ودیگر سہولیات فراہم کی جارہی ہیں صوبائی وزیر اعلی کی خصوصی ہدایت کی روشنی میں گدا گری کے ناسور کے خاتمہ کیلئے انسداد گداگری ایکٹ قانونی بھی تیار ہے جو جلد صوبائی اسمبلی سے منظور کرا لیا جائے گا جس کے بعد گدا گری کرانے والے ٹھیکیداروں جن کی لسٹیں تیار کی گئی ہیں کے گرد بھی گھیرا تنگ کیا جائے گا انہوں نے بتایا کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران پشاور کے مختلف علاقوں سے گرینڈ اپریشن کے دوران 700گدا گروں سمیت صوبہ بھر سے مجموعی طور پر 1267سے زیادہ گدا گروں و بھکاریوں کو حراست میں لے کر دارالکفالہ سنٹروں میں داخل کر لیا گیا ہے جہاں انہیں معاشرے کا اچھا شہری بنانے کے لئے مختلف قسم کے ہنر سکھائے جا رہے ہیں جہاں مفت قیام کے علاوہ کھانے پینے،فروٹ و کپڑے تک مفت دیئے جاتے ہیں،ساتھ میں نفسیاتی علاج بھی کیا جاتا ہے،اسی طرح پشاور سمیت صوبہ کے مختلف اضلاع میں قائم دارالکفالہ کی اپ گریڈیشن کے لئے وزیر اعلی نے 361بلین روپے فنڈز مختص کر دیئے ہیں صوبائی وزیر اعلی کی ہدایت پر منشیات کے عادی افراد کے مفت علاج اور انہیں معا شر ے کا باعزت شہری بنانے کے لئے قائم مراکز کو بھی فعال کر لیا ہے،جن میں پشاور سمیت دیگر علاقوں سے 1230منشیات کے عادی افراد کو حراست میں لے کر علاج گاہوں میں داخل کر لیا گیا ہے جہاں مفت علاج،کھانے پینے سمیت ہنر سکھائے جا رہے ہیں،صوبائی وزیر اعلی کی ہدایت پر سوشل ویلفیئرڈیپارٹمنٹ نے3600سے زیادہ معذور افراد و بچوں کو سپیشل ایجوکیشن کمپلیکس اور سپیشل سکولوں میں داخل کیا ہے جہاں نابینا،معذور،گونگے بہرے افراد کو ضروریات زندگی کی ہر قسم کی سہولتیں فراہم کرنے کے علاوہ فنی اور علمی تعلیم فراہم کی جارہی ہے،انہوں نے بتایا کہ نابینا افراد کے لئے درسی کتب کی تیاری کے لئے جدید ترین پرنٹنگ مشین پشاور میں لگائی جارہی ہے جس میں اسلامی و درسی کتب تیار کی جائیں گی،جو نابینا افراد کو مفت فراہم کی جائیں گی،یہ سرکاری طور پر ملک بھر میں دوسری پرنٹنگ مشین ہو گی جس کے بعد بازار سے نابینا افراد کے لیئے درسی و اسلامی کتب نہیں خریدیں جائیں گی انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ پشاور سمیت 21 ڈسٹر کٹ میں 32قائم پناہ گاہوں میں ہزاروں مسافروں کو مفت رہائش اور کھانے پینے کی سہولتیں فراہم کی جارہی ہیں،انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ صوبائی وزیر اعلی کی ہدایت پر محکمہ سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ نے کرونا وبا کے دوران مختلف ہسپتالوں اور اداروں کو 800حفاظتی لباس، 50ہزار ہینڈ سنیٹائزر،1لاکھ 30ہزار فیس ماسک اور 80ہزار پیکج خوراک متاثرین میں تقسیم کیئے گئے

مزید :

پشاورصفحہ آخر -