عبدالو لی خان یونیورسٹی کے 33ویں سنڈیکیٹ کا اجلاس

عبدالو لی خان یونیورسٹی کے 33ویں سنڈیکیٹ کا اجلاس

  

مردان(بیورورپورٹ)عبدالو لی خان یونیورسٹی کے 33ویں سنڈیکیٹ کا اجلاس وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹرظہور  الحق کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں یونیورسٹی کے مختلف اختیاراتی باڈیز کی سفارشات کو زیر بحث لاتے ہوئے مختلف تجاویز کے ساتھ منظور کیا گیا۔ اجلاس میں یونیورسٹی کی 32ویں سنڈیکیٹ کی کاروائی کی توثیق کی گئی جبکہ دیگر اہم نوعیت کے امور کے متعلق ایجنڈے پر تفصیل سے بحث ہوئی۔یونیورسٹی کے رجسٹرار میاں سلیم نے سنڈیکیٹ کے سیکرٹری کے طور پر ایجنڈا پیش کیا سنڈیکیٹ نے انیسویں فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی  کی سفارشات,  اکیڈمک کونسل کی سفارشات,  کی منظوری دی۔  وائس چانسلر نے شرکا سے کہا کہ آج کے اجلاس سے یونیورسٹی میں تعمیر و ترقی، تعلیمی، تحقیقی و تخلیقی سرگرمیوں کو وسعت ملے گی۔ معزز ممبران کے گرانقدر رائے اور مشوروں کی بدولت آج کی سنڈیکیٹ کی کارروائی نہایت مثبت اور تعمیری انداز میں پایہ تکمیل کو پہنچی۔وائس چانسلر نے کہا کہ ہمارے آج کے فیصلوں سے یونیورسٹی کا مستقبل وابستہ ہے۔ہم نے ایسے اقدامات اور فیصلے کرنے ہیں جن کی بدولت اس اعلی تعلیمی ادارے کی کارکردی میں مزید بہتری آئے اور تعلیم و تحقیق کی سرگرمیوں کو وسعت ملے۔سنڈیکیٹ کے ممبران جن میں پروفیسر ڈاکٹر ذاہد علی مروت ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز،پروفیسر ڈاکٹرسعید اسلام  ڈین فیکلٹی آف فزیکل اینڈ نیومیرکل سائنسزپروفیسر ڈاکٹر ظہور احمد سواتی  نومینی آف ہائیر ایجوکیشن کمیشن ایچ ای سی،  انجنئیر ڈاکٹر محتار احمد،سیکٹری ٹو گورنمنٹ نومینی ہائیر ایجوکیشن کمیشن ڈیپار ٹمنٹ خیبر پختونخوا۔۔سیکٹری ٹو گورنمنٹ نومینی ایسٹیبلشمنٹ ڈیپار ٹمنٹ خیبر پختونخوا۔۔سیکٹری ٹو گورنمنٹ  نومینی فائنانس ڈیپار ٹمنٹ خیبر پختونخوا۔ڈاکٹر فضل ہادی،پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج اکبر پورا نوشہر ہ،مس روزینہ رحام،پرنسپل گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج نوشہر ہ،پروفیسر ڈاکٹرمحمد ہمایون،پروفیسر،ڈیپارٹمنٹ آف باٹنی عبدالولی خان یونیورسٹی ڈاکٹر ظفر حیات خان،ایسوسیٹ پروفیسر،ڈیپارٹمنٹ آف ایگریکلچر  عبدالولی خان یونیورسٹی عرفان اللہ،اسسٹنٹ پروفیسر ڈیپارٹمنٹ آف انگلش عبدالولی خان یونیورسٹی۔غیور قادر،لیکچرر  ڈیپارٹمنٹ آف منیجمنٹ سائنسز  عبدالولی خان یونیورسٹی۔حسن خان،ڈپٹی رجسٹرار ایسٹیبلشمنٹ عبدالولی خان یونیورسٹی۔رجسٹرار عبدالولی خان یونیورسٹی مردان شامل تھے

مزید :

پشاورصفحہ آخر -