ویمن یونیورسٹی: حرا علی کو کامیاب مجلسی دفاع پر  پی ایچ ڈی کی ڈگری ایوارڈ‘ وائس چانسلر ڈاکٹر  عظمیٰ قریشی کی زیر صدارت اجلاس‘ مقالے  کے حوالے سے بات چیت‘ سکالرز کو مبارکباد

ویمن یونیورسٹی: حرا علی کو کامیاب مجلسی دفاع پر  پی ایچ ڈی کی ڈگری ایوارڈ‘ ...

  

 ملتان (سپیشل رپورٹر) ویمن یونیورسٹی ملتان میں سکالر حرا علی کو کامیاب مجلسی(بقیہ نمبر11صفحہ10پر)

 دفاع پر  پی ایچ ڈی کی ڈگری ایوارڈ کردی گئی، وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عظمی قریشی کی صدارت میں ہونے والے پبلک ڈیفنس مجلسی دفاعی میں انہوں نے اپنے مقالے جس کا عنوان حنیف قریشی کے انگلش افسانوں کا مابعد نوآبادیاتی تجزیہ تھا کا کامیاب دفاع کیا اور اساتذہ اورحاضرین کے سوالوں کے جواب دیئے،  اس موقع پر بطور ایکسٹرنل سپروائزر ڈاکٹر میمونہ غنی، اور سپروائزر  ڈاکٹر نوید احمد چودھری نے شرکت کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے  ہوئے وائس چانسلر ڈاکٹر عظمی قریشی کا کہنا تھا کہ  مابعدِ نو آبادیات تنقید کا ایک نیا طرز ہے جو استعمار کار اور استعمار زدہ کے ثقافتی رشتوں کا مطالعہ کرتا ہے۔ کیونکہ دونوں کے ثقافتی رشتے نوآبادیاتی و استعماری نظام کے تحت قائم ہوتے ہیں۔اس نظام میں استعمار کار کو کم و بیش ہر سطح پر اجارہ حاصل ہوتا ہے اس لیے مذکورہ ثقافتی رشتے دراصل طاقت کے رشتے ہوتے ہیں۔ استعمار کار طاقت کی اکثر صورتوں سیاسی، علمی، معاشی، تعلیمی، فنی کو خلق کرنے اور نو آبادیوں میں سیاسی، آئینی اور تعلیمی اصلاحات کے ذریعے ان کے نفوذ کو ممکن بنانے کی پوزیشن کا حامل ہوتا ہے، جس کے نتیجے اور ردِعمل میں نوآبادیات میں نئی تہذیبی، علمی، فکری اور ادبی روشیں پیدا ہوتی ہیں۔ مابعدِ نوآبادیاتی تنقید، ثقافت/ طاقت کے انہی  رشتوں کا تجزیے کرتی ہے جن میں استعمار کار کو بالا دستی حاصل ہوتی ہے۔مجھے خوشی ہے کہ ہماری سکالر نے اپنے مقالے میں اپنے کام سے انصاف کیا اور حینف قریشی کے افسانوں کا شاندار تجزیہ کیا، ہمارے شعبہ انگلش کا یہ اعزاز ہے کہ اس نئے سال کی پہلی پی ایچ  ڈی بھی ان سے تعلق رکھتی ہے جبکہ گزشتہ برس بھی اس شعبہ سے تین سکالرز نے پی ایچ ڈی ڈگریاں حاصل کیں، امید ہے مستقبل  میں بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا، انہوں نے ڈاکٹر حرا علی کو کامیاب پبلک ڈیفنس کے انعقاد پر مبارک باد دی۔ اس موقع پر  رجسٹرار پروفیسر فرزانہ اکرم، ڈاکٹر مریم ذین، ڈاکٹر سارہ مصدق ڈاکٹر عصمت شیخ، (چیئرپرسن انگلش),پروفیسر محمود وایئں اور پروفیسر منزہ ربانی بھی موجود تھیں۔

مجلسی دفاع

مزید :

ملتان صفحہ آخر -