گنا سیل پوائنٹس کی بندش پر کاشتکاروں کا انتظامیہ کیخلاف مظاہرہ

   گنا سیل پوائنٹس کی بندش پر کاشتکاروں کا انتظامیہ کیخلاف مظاہرہ

  

نورپورنورنگا (نامہ نگار) گنا سیل پوائنٹس کی بندش اور مقدمات اندراج کیخلاف کاشتکاروں نے ضلعی انتظامیہ اور شوگر ملز کے خلاف احتجاجی جلسہ کیا‘ گنا پرچیزنگ پوائنٹ (بقیہ نمبر19صفحہ10پر)

کے خلاف ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کیئے جانے والے کریک ڈان کے خلاف نورپورنورنگا کے مقام پراحتجاجی جلسہ و مظاہرے کا انعقاد کیا گیا،اس موقع پر پاکستان کسان اتحاد کے مرکزی چئیر مین طارق اشفاق نے کسانوں سے خطاب میں کہا کہ انتظامیہ کی جانب سے شوگر ملوں کے حق میں اور کسانوں کے خلاف کاروائیاں ظلم کے مترادف ہیں، اگر سندھ کی شوگر ملیں 400روپے من گنا خرید سکتی ہیں تو پنجاب کی شوگر ملز ریٹ کیوں نہیں دیتی،یاتو پنجاب کی شوگر ملزسندھ کے ریٹ برابر ریٹ دیں یا پھر گنا کی اوپن پالیسی جاری کر دی جائے تاکہ ملک بھر سے جو شوگر ملز جہاں سے چاہیئے گنے کی خریداری کر سکے، کسان اتحاد کے مرکزی جنرل سیکرٹری نظام اللہ خان پانڈانے کہا کہ کسان اتحاد کی مقامی قیادت نے کاشتکاروں کی آواز بلند کرکے کسانوں کی آواز کو اقتدارکے اعلی ایوانوں تک پہنچانے میں اہم کردار اداکیا،ملک میں زراعت کی زبوں حالی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ زراعت کو ہمیشہ کسان کا مسئلہ سمجھا گیا،اسے کبھی بھی ملکی مسئلہ تسلیم نہیں کیا گیا،چوہدری عبدالمطلب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس ملک میں ہر طبقہ کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنی چیز کو اپنی مرضی سے من پسند پارٹی ومن پسند ریٹ پر فروخت کرے مگر واحد کسان طبقہ ہے جس کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنی مرضی سیاپنی پروڈکٹ فروخت کر سکے ملکی آبادی کے70افراد کسی نہ کسی حوالے سے زراعت سے وابستہ ہیں،اسں طرح کی پالیسیوں کی وجہ سیعوام غربت سے باہر نہیں نکل رہیئے، را فاروق کا کہنا تھا کہ کنڈوں کی بندش کی وجہ سے مقامی شوگر ملز گنا لے جانے والے کاشتکاروں کو گنا ورائٹی کے نام پرذلیل کر رہی ہے،ضلعی انتظامیہ ہمیں وہ قانون دکھائے جس میں لکھا ہو کہ کسان اپنی مرضی کی ملز کو گنا فروخت نہیں کرسکتا،تو ہم یا تو خاموشی سے گھر بیٹھ جائیں گی یا پھر گنا کی کاشت ختم کر دیں گے،ضلعی جنرل سیکرٹری اصغر میو نے کہا کہ گنے کی پالیسی اوپن کی جائے،کسان اتحاد ڈسٹرکٹ رحیم یار خان کے جنرل سیکرٹری زاہد شریف مہار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شوگر ملز کے خلاف آپکا واحد ہتھیار صرف گنے کی کم کاشت ہے،اس لیئے اگلے سال مزید کاشت کم کردیں،اس موقع پر کسان رہنماں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ گنا کی پالیسی اوپن کرتے ہوئے مقامی کاشتکاروں و گنا پرچیزنگ پوائنٹ مالکان کے خلاف مقدمات خارج کیئے جائیں،اور مقامی شوگر ملز کے اہلکاروں کی جانب سے مقامی صحافی کو زدوکوب کرنے کی مذمت کی اورذمہ داروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا، آخر میں کسانوں نے میرا گنا،میری مرضی اور کسان کو عزت دو کے بھرپور نعرے لگائے۔

گنا سیل

مزید :

ملتان صفحہ آخر -