حکومت عوامی مسائل حل کرے‘ سراج الحق

حکومت عوامی مسائل حل کرے‘ سراج الحق

  

  

ملتان (سٹی رپورٹر) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سرا ج الحق (بقیہ نمبر43صفحہ10پر)

نے کہاہے کہ اداروں کو سوچنے کی ضرورت ہے کہ وہ قوم کے ساتھ کھڑے ہیں یا کسی سیاسی جماعت کے ساتھ۔ واضح کرنا چاہتاہوں کہ دوست نادان ہو تو کسی دشمن کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کے پی کے میں بے روزگاری اور غربت عروج پر ہے۔ مریض ہسپتالوں میں در بدر پھر رہے ہیں کوئی پرسان حال نہیں۔ پشاور ماحولیاتی آلودگی، گندے پانی اور ٹریفک کے بدترین مسائل کا گڑھ بن گیاہے۔ قبائلی علاقوں کی ترقی کے لیے کئے گئے وعدوں کی تکمیل نہیں ہوئی۔ کرونا فنڈز کا حساب دیا جائے۔ مہنگائی نے غریب کی کمر توڑ دی، عوام بد حال جبکہ مافیاز کا راج ہے۔ پولیو ورکرز اور ان کی سیکورٹی کے لیے تعینات اہلکاروں پر حملے قابل مذمت ہیں۔ ا ن خیالات کا اظہار انہوں نے پشاو ر میں جماعت اسلامی کے ذمہ داران کی میٹنگ سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر امیر ضلع پشاور عتیق الرحمن نے سالانہ رپورٹ پیش کی۔ ڈپٹی سیکرٹری جنرل اظہر اقبال حسن، صوبائی سیکرٹری جنرل عبدالواسع اور نائب امیر کے پی کے مولانا محمد اسماعیل نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ پی ٹی آئی سیکورٹی اداروں کو سیاست میں دھکیلنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اداروں کو اس عمومی تاثر کو زائل کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ قوم، ریاست کی بجائے کسی پارٹی یا حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں۔ اسی طرح سیاستدانوں کو بھی بلاوجہ اداروں کو سیاست میں گھسیٹنے سے گریز کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی حکومت میں کے پی کے میں غربت اور بے روزگاری میں بے پناہ اضافہ ہواہے۔ تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں کی صورتحال افسوسناک ہے۔ کرونا کے مریضوں کو یا تو ہسپتالو ں میں داخلہ نہیں ملتا، اگر مل جائے تو ان کے علاج کا کوئی بندوبست نہیں۔ کرونا کے نام پر اربوں روپے کے فنڈ ز کا کوئی حساب کتاب نہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس فنڈ کو انتظامی امور چلانے کے لیے استعمال کیا جارہاہے۔ پشاور مسائل کی آماجگاہ بن چکاہے جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر، ٹریفک کے مسائل اور صاف پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے لاکھوں لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کو جان لینا چاہیے کہ وعدوں اور نعروں سے لوگوں کے مسائل حل نہیں ہوتے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -