ادویات خریداری میں گھپلے‘ 4 سابق ای ڈی اوز‘ 3 کلرکوں کا گھیرا تنگ 

ادویات خریداری میں گھپلے‘ 4 سابق ای ڈی اوز‘ 3 کلرکوں کا گھیرا تنگ 

  

راجن پور (ڈسٹرکٹ رپورٹر)محکمہ صحت میں کمیشن ادویات خریداری،پٹرول، ٹی اے ڈی اے اور فرضی بلوں کے ذریعہ کروڑوں روپے کے گھپلوں کی نشاندہی پر محکمہ(بقیہ نمبر53صفحہ 7پر)

 انٹی کرپشن نے سابق چار ای ڈی اوز ہیلتھ اور تین کلرکوں کے خلاف مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کررکھی ہے جس انجکشن”ٹرانزمامن“کی خریداری کو درج مقدمہ میں کوڈ کیا گیا ہے اُس کی نشاندہی وزنامہ ”پاکستان“ نے سال 2014ء میں اپنے شائع کالم میں کی تھی اُس وقت کے ڈی سی او غازی امان اللہ نے محکمہ صحت کے آفیسران وعملہ کو بلواکر سرزنش کی اور انجکشن کی میعاد ختم ہو نے کے قریب ہونے کے خدشہ پر انجکشن کوقریبی اضلاع کی ہسپتالوں میں منتقلی کیلئے سرکاری گاڑیوں کے استعمال کی اجازت دی تھی چھ سال گذر نے کے بعد 7جنوری 2021 ء کومحکمہ اینٹی کرپشن راجن پور نے اس سکینڈل کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے اور ایک کلرک ثاقب سجاد کوبھی گرفتار کیا ہے جبکہ دیگر ملزمان جن میں سابق ای ڈی اوز ڈاکٹر محمودالحسن بزدار، ڈاکٹر صدیق مستوئی، ڈاکٹر مشتاق رسول،کلرک اختر حسین اور ادویات وفرضی بلز بنانے سرکاری رقوم خورد برد کرنے کا ماہر اکاوٹنٹ محمد نواز عرف لمبا روپوش ہوچکا ہے ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ محمد نواز نے کئی کروڑ روپے کے اثاثے بنارکھے ہیں عوامی وشہری حلقوں نے ڈائریکٹر جنرل انٹی کرپشن پنجاب سے محکمہ ہیلتھ ضلع راجن پورکے مراکز صحت اور تحصیل ہسپتالوں کے اخراجات کے آڈٹ کا بھی مطا لبہ کیاہے۔

گھیرا تنگ

مزید :

ملتان صفحہ آخر -