ایس ایس پی عثمان باجوہ ایک بار پھر تبدیل،اے آئی جی انسپیکشن تعینات 

 ایس ایس پی عثمان باجوہ ایک بار پھر تبدیل،اے آئی جی انسپیکشن تعینات 

  

لاہور (رپورٹ یونس باٹھ) ایس ایس پی عثمان اعجاز باجوہ کو ایک بار پھرلاہور پولیس سے تبدیل کر کے سنٹرل پولیس آفس بھجوادیا گیا ہے ویسے تو وہ ایک انتہائی کامیاب اور دلیر پولیس آفیسرکی حیثیت سے پہچانے جاتے ہیں وہ اس سے قبل لاہور میں بطور ایس ایس پی سی آئی اے ایک کامیاب اور ریکارڈ کامیابیاں حاصل کرنے والے پولیس آفیسر کی حیثیت سے وقت گزار چکے ہیں جب وہ لاہور میں سی آئی اے آفیسرکی حیثیت سے ذمہ داریاں سر انجام دے رہے تھے تو بہتر پرفارمنس کے پیش نظر انھیں لاہور سے تبدیل کر کے لیہ میں بطور ڈی پی او تعینات کیا گیا تھا۔ لیہ میں جو گینگ کئی سالوں سے اشتہاری اور لوٹ مار میں ملوث تھے پولیس کے گھیراؤ کرنے پر ان میں سے کئی ایک مارے گئے جبکہ زیادہ تر علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہوگئے تاہم جو علاقے میں موجود رہے انھیں مجبوراً گرفتاری دینا پڑی۔ ان کے ادوار میں لیہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ علاقے میں اشتہاریوں کے خاتمے اورامن قائم ہونے پرپنجاب پولیس کے حق میں بینرز آویزاں کیے گئے،ان کے تبدیل ہونے پر مقامی لوگوں نے احتجاج کرتے ہوئے انھیں وہیں تعینات رکھنے کا مطالبہ کیا تاہم کمانڈر کی ہدایت پر انھیں واپس آنا پڑا اور اب دوبارہ انھیں لاہور کی ایک انتہائی ذمہ دار سیٹ ایس ایس پی ایڈمن کے عہدے پر تعینات کیا گیا جہاں عثمان اعجازباجوہ تقریباً ساڑھے تین ماہ تک تعینات رہے اور انھوں نے اپنے کمانڈر کی ہدایت پر تاریخی اقدامات کیے۔شہر بھر میں موجود ایس ایچ اوز کے تمام مبینہ طور پر کرپشن میں ملوث کارخاص ملازمین کو ان کی معاونت سے تبدیل کیا گیا،پڑھے لکھے ہیڈ کانسٹیبل کو محرر تعینات کیا گیا،کرپشن میں ملوث  ایس ایچ اوز کی لسٹیں مرتب کرکے انھیں بلیک لسٹ کیا گیا،صاف ستھرے،پڑھے لکھے اور سفارش نہ رکھنے والے انسپکٹرز اور سب انسپکٹرز کو بطور ایس ایچ اوز تعینا ت کیا گیا جبکہ مختلف دفاتر میں عرصہ دراز سے تعینات اہلکاروں کو وہاں سے نکال کر فیلڈ میں بھجوایا گیا۔ اب گزشتہ روز انھیں لاہور سے تبدیل کرکے سنٹرل پولیس آفس میں اے آئی جی انسپیکشن تعینات کر دیا گیا ہے انھیں لاہور سے تبدیل کرنے کی وجہ موجودہ لابی کا آفیسر نہ ہونا بیان کیا گیا ہے حالانکہ وہ کسی بھی لابی پر یقین نہیں رکھتے۔عثمان اعجاز باجوہ پیشہ وارانہ امور کے حامل اور انتہائی دیانت دار آفیسر ہونے کے ساتھ تگڑے کمانڈر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ایڈیشنل آئی جی عہدے کے ایک آفیسرکا کہنا ہے کہ ایسے پولیس آفیسر کو دفتر میں کلرک بنا کر رکھنے کی بجائے فیلڈ میں تعینات کیا جا نا چاہیے۔

ایس ایس پی

مزید :

صفحہ آخر -