پشاور ماحولیاتی آلودگی گندے، پانی، ٹریفک کے مسائل کاگڑھ بن گیا: سراج الحق 

        پشاور ماحولیاتی آلودگی گندے، پانی، ٹریفک کے مسائل کاگڑھ بن گیا: سراج ...

  

لاہور (آن لائن) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سرا ج الحق نے کہاہے کہ اداروں کو سوچنے کی ضرورت ہے کہ وہ قوم کے ساتھ کھڑے ہیں یا کسی سیاسی جماعت کے ساتھ۔ واضح کرنا چاہتاہوں کہ دوست نادان ہو تو کسی دشمن کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کے پی کے میں بے روزگاری اور غربت عروج پر ہے مریض ہسپتالوں میں در بدر پھر رہے ہیں کوئی پرسان حال نہیں پشاور ماحولیاتی آلودگی، گندے پانی اور ٹریفک کے بدترین مسائل کا گڑھ بن گیاہے قبائلی علاقوں کی ترقی کے لیے کئے گئے وعدوں کی تکمیل نہیں ہوئی کورونا فنڈز کا حساب دیا جائے  مہنگائی نے غریب کی کمر توڑ دی، عوام بد حال جبکہ مافیاز کا راج ہے۔ پولیو ورکرز اور ان کی سیکورٹی کے لیے تعینات اہلکاروں پر حملے قابل مذمت ہیں۔ ا ن خیالات کا اظہار پشاو ر میں جماعت اسلامی کے ذمہ داران کی میٹنگ سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر امیر ضلع پشاور عتیق الرحمن نے سالانہ رپورٹ پیش کی۔ ڈپٹی سیکرٹری جنرل اظہر اقبال حسن، صوبائی سیکرٹری جنرل عبدالواسع اور نائب امیر کے پی کے مولانا محمد اسماعیل نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ پی ٹی آئی سیکورٹی اداروں کو سیاست میں دھکیلنے کی کوشش کر رہی ہے اداروں کو اس عمومی تاثر کو زائل کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ قوم، ریاست کی بجائے کسی پارٹی یا حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں۔ اسی طرح سیاستدانوں کو بھی بلاوجہ اداروں کو سیاست میں گھسیٹنے سے گریز کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی حکومت میں کے پی کے میں غربت اور بے روزگاری میں بے پناہ اضافہ ہواہے۔ تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں کی صورتحال افسوسناک ہے اطلاعات کے مطابق اس فنڈ کو انتظامی امور چلانے کیلئے استعمال کیا جارہاہے  سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ فاٹا کے kpk سے الحاق کے وقت عوام سے کیے گئے وعدے تاحال پورے نہیں ہوسکے فاٹا کے علاقوں کی ترقی کیلئے اعلان کیے گئے ایک ہزار ارب روپے کا فنڈ تا حال ریلیز نہیں ہو ا۔ چینی، آٹا، ڈرگ، پٹرول او ر لینڈ مافیاز کے بعد اب گھی مافیا نے بھی سر اٹھالیا ہے  انہوں نے حکومت اور سیکورٹی اداروں پر زور دیا کہ وہ پولیورورکرز اور عوام کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے موثر حکمت عملی تشکیل دیں۔ 

سراج الحق

مزید :

صفحہ آخر -