جوبائیڈن کی حلف برادری، ٹرمپ کے حامیوں کا کیپٹل ہل کے گھیراؤ کا منصوبہ، واشنگٹن میں ایمرجنسی نافذ، دس ہزار نیشنل گارڈز تعینات کیے جائینگے 

جوبائیڈن کی حلف برادری، ٹرمپ کے حامیوں کا کیپٹل ہل کے گھیراؤ کا منصوبہ، ...

  

 واشنگٹن(اظہر زمان، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)جیسے جیسے دارالحکومت کے کیپٹل ہل ایریا میں منتخب صدر جوبائیڈن اور نائب صدر کملا ہیرس کی 20جنوری کو حلف برداری کی روایتی تقریب قریب آ رہی ہے شہر میں پہلے سے موجود کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے کانگریس کے قانون سازوں کو اطلاع ملی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے چار ہزار مسلح انتہا پسند حامی کیپٹل ہل میں تقریبات کے ایریا کا گھیراؤ کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں پنسلوینیا ریاست سے تعلق رکھنے والے ڈیمو کریٹک کانگریس مین کونور لیمب نے سی این این کو منگل کے روز انٹرویو میں یہ انکشاف کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سوموار کی شام قانون سازوں کو ایک سکیورٹی بریفنگ میں اس منصوبے سے خبردار کیا گیا تھا۔ اس دوران صدر ٹرمپ سوشل میڈیا انتظامیہ کی طرف سے پابندیاں لگنے اور اپنے بیشتر معاونین کے ساتھ چھوڑنے کے بعد عملاً وائٹ ہاؤس میں تنہائی کا وقت گزار رہے ہیں۔ ان کے بارے میں پتہ چلا ہے کہ وہ 20جنوری سے ایک دو دن پہلے ہی وائٹ ہاؤس خالی کر کے فلوریڈا میں اپنی ذاتی رہائش گاہ میں منتقل ہو جائیں گے۔ وہ پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ وہ حلف برداری کی تقریب میں شرکت نہیں کرینگے۔ نائب صدر مائیک پنس جو سانحہ کیپٹل ہل کے سبب صدر ٹرمپ سے ناراض تھے انہوں نے بالآخر سوموار کے روز صدر ٹرمپ سے ملاقات کی اور انہیں بتایا کہ وہ بہرصورت حلف برداری کی تقریبات میں شرکت کرینگے۔ نائب صدر نے واضح کیا کہ وہ صدر ٹرمپ کو ہٹانے کی کسی کوشش میں حصہ نہیں لیں گے۔ صدر ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کیپٹل ہل میں ان کو ہٹانے کی جو کوششیں ہو رہی ہیں اس پر ان کے حامی شدید غصے میں ہیں لیکن وہ کسی صورت میں تشدد نہیں چاہتے۔ انہوں نے ٹیکساس ریاست کے سرحدی شہر الامور روانہ ہونے سے قبل جہاں وہ میکسیکو کے ساتھ سرحد پر دیوار کا جائزہ لیں گے صدر ٹرمپ نے ایک سوال کے جواب میں واضح کہا کہ انہوں نے کیپٹل ہل پر حملے سے پہلے اپنے حامیوں سے خطاب میں انہیں اکسایا نہیں تھا اور ان کے الفاظ بہت ”موزوں“ تھے۔ کیپٹل ہل کا گھیراؤ کرنے کے منصوبے کے بارے میں کانگریس مین لیمب نے مزید بتایا کہ ٹرمپ کے حامیوں کا ایک تشدد پسند گروہ ”پیٹریاٹس“(وفادار) کے نام سے تشکیل پا چکا ہے۔ ان کا منصوبہ یہ ہے کہ کیپٹل ہل کی عمارت میں جانے والے ڈیمو کریٹک قانون سازوں کو داخل ہونے سے روکا جائے۔ انہوں نے منظم طریقے سے اپنے ارکان کو ایک باقاعدہ گائیڈ لائن فراہم کر دی ہے کہ کس وقت گولی چلائی ہے اور کس وقت خاموش تماشا دیکھنا ہے۔ کانگریس مین لیمب نے کہا کہ اس گروہ سے مذاکرات کی بجائے ان کو پکڑ کر ان کے خلاف مقدمہ چلنا چاہئے کیونکہ صدرب ھی ان میں شامل ہے۔ اس دوران ایف بی آئی نے ایک وارننگ جاری کی ہے کہ 20جنوری کو اور اس سے قبل کے دنوں میں تمام پچاس ریاستوں میں مسلح احتجاج ہو سکتا ہے۔ تاہم منتخب صدر جوبائیڈن نے پرعزم انداز میں کہا ہے کہ حلف برداری کی تقریباًت معمول کے مطابق منعقد ہوں گی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جوبائیڈن کی تقریب حلف برداری میں شرکت نہ کرنے کے فیصلے کی  ان کی بیٹی ایوانکا نے مخالفت کر دی۔یوانکا ٹرمپ نے جو بائیڈن کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی ہامی بھر لی ہییا۔دوسری جانب کیپٹل ہل پرپرتشدد احتجاج کے بعد نومنتخب امریکی صدر جوبائیڈن کی حلف برداری  کی تقریب کے موقع پر بھی مسلح احتجاج کا خدشہ ہے۔ایف بی آئی نے خبردار کیا ہے کہ واشنگٹن سمیت امریکہ کی پچاس ریاستوں میں احتجاج ہو سکتا ہے۔ نومنتخب امریکی صدر20 جنوری حلف اٹھائیں گے۔جوبائیڈن کی حلف برداری کی تقریب سے قبل دس ہزار نیشنل گارڈز بھی تعینات کیے جا ئیں گے۔دریں اثناء  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نومنتخب جوبائیڈن کی تقریب حلف برداری تک دارالحکومت میں ایمرجنسی نافذ کردی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 24 جنوری کو نومنتخب جوبائیڈن کی حلف برداری اور انتخابی مراحل کی تکمیل تک دارالحکومت واشنگٹن میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ دارالحکومت میں ایمرجنسی کے نفاذ کا فیصلہ سبکدوش ہونے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر مائیک پینس نے پیر کی شام وہائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں ایک ملاقات میں کیا۔ 

جوبائیڈن حلف برداری

مزید :

صفحہ اول -