کریم خلیلی کی سیاسی و عسکری قیادت سے الگ الگ ملاقاتیں، مذاکرات، سیاسی تصفیہ ہی افغان تنازع کا واحد حل، عمران خان، افغانستان میں امن کا مطلب پاکستان میں امن: جنرل باجو ہ

    کریم خلیلی کی سیاسی و عسکری قیادت سے الگ الگ ملاقاتیں، مذاکرات، سیاسی ...

  

  اسلام آباد،راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوزایجنسیاں)چیئرمین حزب وحدت اسلامی افغانستان اور سابق چیئرمین افغان امن کونسل محمد کریم خلیلی نے وزیراعظم عمران خان،وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے الگ الگ ملاقاتیں کیں،وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افغان تنازعے کا کوئی فوجی حل نہیں، مذاکرات اور سیاسی تصفیہ ہی افغان تنازعے کا واحد حل ہے،افغانستان میں امن اور استحکام کا سب سے بڑا خواہشمند افغان عوام کے بعد پاکستان ہے،پاکستان افغان امن عمل کی حمایت جاری رکھے گا۔عمران خان سے کریم خلیلی نے ملاقات میں افغان امن عمل اور دو طرفہ تعلقات پر غور کیا گیا۔ اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان افغانستان کیساتھ تعلقات مضبوط کرناچاہتا ہے، افغانستان کے ساتھ تجارتی، معاشی اور عوام کی سطح پر تعلقات مضبوط کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ہمیشہ سے موقف ہے افغان تنازعے کا کوئی فوجی حل نہیں، مذاکرات اور سیاسی تصفیہ ہی افغان تنازعے کا واحد حل ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ افغانستان میں تنازعے کے باعث افغان عوام نے بہت تکالیف برداشت کیں، افغانستان میں امن اور استحکام کا سب سے بڑا خواہشمند افغان عوام کے بعد پاکستان ہے اور پاکستان افغان امن عمل کی حمایت جاری رکھے گا۔آئی ایس پی آر کے مطابق جی ایچ کیو میں ہونے والی ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور،خطے میں امن و استحکام،رابطے اور افغان امن عمل میں موجودہ پیشرفتوں سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران آرمی چیف کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امن کا مطلب پاکستان میں امن ہے۔ نہ صرف اپنے لئے بلکہ ہمسایوں کیلئے ایک مستحکم اور خوشحال افغانستان پاکستان کے قومی مفاد میں ہے۔مہمان شخصیت نے پاکستان کے مثبت کردار اور پاک افغان تعلقات کے مستقبل بارے آرمی چیف کے وژن کو سراہا۔ادھر وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ہم بین الافغان مذاکرات میں طے کردہ فیصلوں کا خیر مقدم کریں گے، خطے میں امن واستحکام افغانستان میں دیرپا قیام امن سے منسلک ہے۔گزشتہ روز وزارت خارجہ میں افغان حزب وحدت اسلامی کے رہنما محمد کریم خلیلی سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے مابین گہرے تاریخی اور یکساں ثقافتی و تہذیبی اقدار پر استوار برادرانہ تعلقات ہیں۔ پاکستان کا شروع سے یہی موقف رہا ہے کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ افغان قیادت کے قابل قبول جامع سیاسی مذاکرات ہی اس مسئلے کا واحد حل ہے۔ پاکستان افغانستان میں قیام امن کیلئے اپنی مصالحانہ کاوشیں جاری رکھنے کیلئے پرعزم ہے۔ بین الافغان مذاکرات میں اب تک ہونیوالی پیشرفت خوش آئند ہے۔ ہم دوحہ میں بین الافغان مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے آغاز کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ بین الافغان مذاکرات کی صورت میں افغان قیادت کے پاس قیام امن کا ایک نادر موقع موجود ہے جس سے بھرپور استفادہ کیا جانا چاہیے۔ بدقسمتی سے بھارت افغانستان میں صورتحال کو خراب کر رہا ہے اور ہم نے اس حوالے سے ناقابل تردید ثبوت دنیا کے سامنے رکھے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے افغانستان کے لوگوں کی سہولت کیلئے نئی ویزہ پالیسی متعارف کروائی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان اور افغانستان کے مابین دو طرفہ تجارت کے فروغ کیلئے عملی اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ ہم پاکستان میں مقیم افغان پناہ گزینوں کی جلد، باعزت اور پروقار وطن واپسی کے متمنی ہیں۔ افغان امن عمل میں پاکستان کے کردار کو دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے۔ کوئی بھی ملک پاکستان سے زیادہ افغانستان میں قیام امن کا متمنی نہیں ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ خطے میں امن واستحکام افغانستان میں دیرپا قیام امن سے منسلک ہے۔کریم خلیلی نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بداعتمادی کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہے،ہماری ملاقاتوں میں رابطوں کو بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ہے،امریکی افواج کو افغانستان سے مئی تک انخلاء یقینی بنانا ہو گا،مجھے خدشہ ہے کہ اچانک امریکی انخلاء سے افغانستان میں قیادت کے حوالے سے بحران جنم لے سکتا ہے۔

کریم خلیلی 

مزید :

صفحہ اول -