وزیراعظم کا وزراء کی کارکردگی پر عدم اطمینان، شہریوں کے مسائل سے جڑی وزارتوں کے پاس غلطی کی گنجائش نہیں، اسامہ ستی کے والدین مطمئن نہیں تو ہائیکورٹ کے جج سے تحقیقات کروائیں: عمران خان 

      وزیراعظم کا وزراء کی کارکردگی پر عدم اطمینان، شہریوں کے مسائل سے جڑی ...

  

   اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)  وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیراعظم  عمران خان نے  وزرا کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار  کرتے ہوئے کہا کہ وزرا اپنی کارکردگی اور وزارتوں پر گرفت بہتر بنائیں، شہریوں کے مسائل سے جڑی وزارتوں کے پاس غلطی کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے، اسامہ ستی کے والدین حکومتی کارروائی سے مطمئن نہیں تو ہائیکورٹ کے جج سے تحقیقات کروائیں، سانحہ مچھ کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔ منگل کو عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں ہفتے کی رات کو ملک گیر بجلی بریک ڈاون سے متعلق ابتدائی رپورٹ پیش کی گئی۔ عمر ایوب نے کابینہ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بجلی بریک ڈان ایک انسانی غلطی سے ہوا، غفلت برتنے والے ملازمین کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔وزیراعظم عمران خان نے وزرا کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزرا اپنی کارکردگی اور وزارتوں پر گرفت بہتر بنائیں۔ وزیراعظم عمران خان وزیر توانائی عمر ایوب کی کارکردگی سے بھی ناخوش نظرآئے۔ عمران خان نے کہا کہ شہریوں کے مسائل سے جڑی وزارتوں کے پاس غلطی کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ کابینہ اجلاس میں سانحہ مچھ اور اسامہ ستی کیس پر بات چیت کی گئی۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ اسامہ ستی کے والدین حکومتی کارروائی سے مطمئن نہیں تو ہائیکورٹ کے جج سے تحقیقات کروائیں، سانحہ مچھ کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔ اجلاس میں عمرکوٹ میں ہونے والے ضمنی انتخابات کے لیے رینجرز کی تعیناتی کی منظوری دے دی گئی۔ وفاقی کابینہ نے آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے اختیارات سے متعلق بل اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کو عام ٹینڈرنگ کے ذریعے ٹیکس اور ڈیوٹیز سے استثنی دینے جبکہ ایف آئی اے کمرشل بینکنگ سرکل لاہور کو پولیس اسٹیشن قرار دینے کی منظوری دے دی، اور نوشہرہ میں کثیرالمنزلہ عمارت کی تعمیر سے متعلق چار رکنی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ کابینہ نے لیگل اینڈ جسٹس ایڈ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل کی تعیناتی، نیشنل طب کونسل کے نئے ایڈمنسٹریٹر کی تعیناتی، پاکستان کونسل فار سائنس و ٹیکنالوجی کے بورڈ آف گورنرز کی تعیناتی کی منظوری دے دی جبکہ اجلاس میں قرضوں کے علاوہ بیرونی فنڈز سے متعلق بریفنگ موخر کردی گئی۔ اجلاس میں کابینہ کمیٹی برائے ادارہ جاتی اصلاحات کے گزشتہ اجلاسوں کے فیصلوں اور اقتصادی رابطہ کمیٹی و کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کے اجلاسوں کے فیصلوں کی توثیق بھی کی گئی۔وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ  پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ حکومت کیلئے ہی نہیں پورے ملک کیلئے قصہ پارینہ بن چکی ہے، یہ ایک ایسی تحریک تھی جس کی بنیادیں کھوکھلی تھی  جبکہ عوام ہمیشہ کرپشن کے خلاف تحریکوں میں نکلتے ہیں، کرپشن کو بچانے کیلئے کسی کا ساتھ نہیں دیتے ہیں۔وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے کابینہ اجلاس پر میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ کابینہ اجلاس میں 15نکاتی ایجنڈا پر غور کیا گیا،شبلی فراز نے کہا کہ براڈ شیٹ کا معاملہ سال دو ہزار میں شروع ہوا تھا، این آراو ملنے کے بعد براڈشیٹ کا معاملہ سردخانے میں چلا گیا،شبلی فراز نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان نے ہدایت کی ہے کہ براڈشیٹ کے معاملے پرحقائق سے قوم کو آگاہ کریں، وزیر اعظم نے کہا کہ قوم کو بتائیں کہ براڈ شیٹ کو کیسے خریدنے کی کوشش کی گئی،وزیراطلاعات نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم پر کابینہ میں گفتگو ہوئی، اٹھارہویں ترمیم میں موجودہ نقائص کو دور کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سمگل شدہ ناقص پٹرول سے خزانے کے ساتھ ماحول کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے اس پر بھی کابینہ میں بحث ہوئی۔ کابینہ اجلاس میں بتایا گیا کہ پٹرول کی سمگلنگ میں ملوث 192پٹرول پمپس کے خلاف کارروائی کی گئی، جس کے تحت ان سے وضاحت طلب کی گئی ہے اور تسلی بخش جواب نہ ہونے پر ان کے پمپس کو مکمل بند کرایا جائے گا، کابینہ کو بتایا گیا کہ 2094پٹرول پمپس  ناقص پٹرول کی سمگلنگ میں ملوث ہیں، ان کے خلاف کاروائی کی بھی کابینہ نے اجازت دی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے اسلام آباد کے نوجوان مرحوم اسامہ ستی کیس پر بات کی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم نے اسامہ ستی قتل کیس کی تحقیقات مکمل کرلی ہیں جبکہ اس حوالے سے وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری کو ذمہ داری سونپی گئی ہے اس پر کام کرنے کا کہا گیا ہے، کابینہ اجلاس میں وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری لاپتہ افراد کے حوالے سے بھی بریفنگ دی اور موجودہ صورتحال اور پیش رفت سے آگاہ کیا۔ سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ کابینہ اجلاس میں براڈشیٹ فرم کے حوالے سے کئے جانے والے باتوں پر جائزہ لیا گیا اور اجلاس میں این آر او لے کر اپنے ناجائز دولت کو بچانے والوں کی حقیقت کو سامنے لانے پر بھی گفتگو کی گئی جبکہ اجلاس میں ملکی اداروں کو مذاق بنانے والوں سے متعلق بھی مزید انکشافات سامنے لانے پر بھی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں گندم کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا اور اجلاس میں بتایا گیا کہ سندھ کی جانب سے بروقت گندم کی فراہمی نہ ہونے سے ملک میں گندم کا بحران پیدا ہوا جبکہ اس حوالے سے بھی وزیراعظم نے تحقیقات کا حکم دیا اور جامع رپورٹ پیش کرنے کا کہا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کا پہلے دن سے موقف ہے کہ سینیٹ الیکشن شو آف ہینڈ کے ذریعے ہوں اور شفافیت کو لایا جائے اور پیسوں کے استعمال کو روکا جائے جبکہ اس حوالے سے یکسوں ہیں اور عدالتی احکامات کا انتظار ہے، قوم کو بھی معلوم ہے کہ ہم یہ قانون سازی کیوں کرنا چاہتے ہیں۔ 

وفاقی کابینہ

 اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر غور کیا گیا اور اہم فیصلے کیے گئے۔وزیراعظم کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کی اندرونی کہانی بھی سامنے آئی۔ وزیراعظم عمران خان نے پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کرنے والے وزراء کو مستعفی ہونے کا کھلا پیغام دیتے ہوئے کہا کہ وزراء حکومتی فیصلوں کو اونر شپ دیں، فیصلوں کی مخالفت کرنی ہے تو مستعفی ہو جائیں، یہی روش برقرار رکھی تو خود فیصلہ کروں گا کہ کابینہ میں رکھنا ہے یا نہیں۔ وزیراعظم اداروں میں اصلاحات لانے میں تاخیر پرنالاں تھے اور کہا کہ دو سال گزرنے کے باوجود اداروں میں اصلاحات نہیں آسکیں۔وزیراعظم نے عدلیہ میں اصلاحات کیلئے وزارت قانون کی کارکردگی پررپورٹ طلب کی۔گورننس میں اصلاحات کے معاملے پر کابینہ اراکین بھی بول پڑے، مشیر ڈاکٹر عشرت حسین نے بتایا کہ اس وقت تک 100 وفاقی ادارے ختم کیے گئے ہیں، اس پر وزیراعظم نے عوام کو سمجھانے کیلئے مختصر اور جامع رپورٹ دینے کی ہدایت کر دی۔وزیراعظم نے آڈیٹر جنرل سے کرپشن سے متعلق رپورٹ مانگ لی، وزیراعظم نے کہا کہ پتا چلا کہ اس ادارے پر 200 ارب روپے کی کرپشن کا الزام ہے۔وزیراعظم نے وزیر خزانہ حفیظ شیخ، وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کو اے جی پی میں نیا ڈیجیٹل سسٹم لانے کا ٹاسک سونپ دیا۔کابینہ نے گمشدہ افراد کے حوالے سے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے گمشدگیوں کے خاتمے کیلئے قوانین بنانے کی ہدایت کر دی۔

اندرونی کہانی

مزید :

صفحہ اول -