پاکستان میں مکمل بریک ڈاؤن فنی خرابی نہیں، عملے کی غلطی سے ہوا، رپورٹ وفاقی کابینہ پاور ڈویژن میں پیش

    پاکستان میں مکمل بریک ڈاؤن فنی خرابی نہیں، عملے کی غلطی سے ہوا، رپورٹ ...

  

  اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)9 جنوری کی رات پورے پاکستان میں بجلی کا بریک ڈاؤن کیوں ہوا؟ رپورٹ منظر عام پر آگئی۔ نجی ٹی وی کے مطابق گڈو پاورپلانٹ کا سرکٹ بریکر غلط طریقے سے بند کرنے پر پورا پاور سسٹم بیٹھا، گڈو پاور پلانٹ کے سوئچ یارڈ میں لگے ایک بریکر کی مینٹی ننس جاری تھی۔دن کو کام کرنے والا عملہ سرکٹ بریکر کو بند کیے بغیر چلا گیا، رات کی شفٹ میں عملے نے سرکٹ بریکرکی ارتھنگ ختم کیے بغیر اسے بند کیا، ارتھنگ ہٹائے بغیر سرکٹ بریکر کو بند کرنے سے پاور پلانٹ بیٹھ گیا۔گڈو پاور پلانٹ بند ہونے سے پلانٹ سے نکلنے والی ٹرانسمیشن لائنیں بھی ٹرپ کرگئیں، گڈو پاورپلانٹ کے بریکر کی مینٹیننس بھی بغیر منظوری کے جارہی تھی۔نیشنل پاور کنٹرول سنٹر نے بجلی بلیک آؤٹ رپورٹ پاور ڈویژن کو جمع کرا دی جس کے مطابق 9 جنوری کی رات کو 11.41 بجے 500کے وی گڈو شکار پور سرکٹ ون اور ٹو ٹرپ کر گئے۔ رپورٹ کے مطابق ساتھ ہی 500گڈو مظفر گڑھ اور گڈو ڈی جی خان ٹرانسمشن لائن ٹرپ ہو گئیں، پورا بجلی کا نظام بیٹھتا گیا۔بلیک آؤٹ سے قبل سسٹم کی فریکوئنسی 49.85تھی،بلیک آؤٹ سے قبل سسٹم مجموعی طور پر 10ہزار 311میگاواٹ بجلی پیدا کر رہا تھا۔پانی سے 1257میگاواٹ بجلی بنائی جارہی تھی،سرکاری تھرمل بجلی گھروں سے 983میگاواٹ بجلی پیدا کی جا رہی تھی۔آئی پی پیز سے 8ہزار 71 میگا واٹ بجلی پیدا کی جارہی تھی۔سسٹم کی بحالی کا عمل تربیلا منگلا اور وارسک پاور ہاوسز سی شروع کیا مگر سسٹم فریکوئنسی کی بہت زیادہ اتار چڑھاؤ سے ٹرپنگ جاری رہی۔سسٹم کو مستحکم کرنے کیلئے تربیلا اور منگلا کو انٹر لنک کیا گیا۔تربیلا،منگلا انٹر لنک کے بعد سسٹم بحالی شروع ہو گئی۔10 جنوری کو رات 7.40تک تمام ٹرانسمیشن عمل بحال کر دیا تھا۔10 جنوری کو شام 6.44بجے این ٹی ڈی سی کا نیٹ ورک کے الیکٹرک کے ساتھ جوڑ دیا تھا۔وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب نے بھی بجلی بریک ڈاؤن کے بارے میں ابتدائی رپورٹ کابینہ کو پیش کردی۔ وزیر توانائی کی جانب سے دی گئی ابتدائی رپورٹ کے مطابق 9 جنوری کی رات کو ملک میں بدترین بلیک آؤٹ فنی خرابی کی وجہ سے نہیں بلکہ انسانی غلطی سے ہوا۔

بلیک آؤٹ رپورٹ

مزید :

صفحہ اول -