منی لانڈرنگ ریفرنس، شہبازشریف کی جائیداد کی آڈٹ رپورٹ طلب

    منی لانڈرنگ ریفرنس، شہبازشریف کی جائیداد کی آڈٹ رپورٹ طلب

  

لاہور(نامہ نگار) احتساب عدالت کے جج جوادالحسن نے منی لانڈرنگ ریفرنس میں ایف بی آر سے میاں شہبازشریف کی جائیداد کی آڈٹ رپورٹ طلب کر تے ہوئے آئندہ سماعت پر نیب کے گواہ کوطلب کرتے ہوئے مزید سماعت 16جنوری تک ملتوی کردی۔دوران سماعت فاضل جج نے ہدایت کی کہ اگر کبھی آڈٹ ہوا ہے تو ایف بی آراسے عدالت میں اس کی رپورٹ پیش کرے،فاضل جج نے گزشتہ روز بھی کمرہ عدالت میں رش ہونے پر برہمی کااظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ آج پھر آپ اتنے لوگ لے کر آ گئے ہیں،میں نے منع کیا تھا کہ کورونا ایس او پیز کا خیال رکھیں،ایسے کریں گے تو میں رینجرز لگا دوں گا۔کیس کی سماعت شروع ہوئی تو جیل حکام نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرحمزہ شہباز کو عدالت میں پیش کیا،دوران سماعت تاخیر سے عدالت میں پیش ہونے پر امجد پرویز ایڈووکیٹ نے عدالت سے معذرت کی،دوران سماعت میاں شہبازشریف روسٹرم پر آئے توفاضل جج نے استفسار کیا کہ میاں صاحب لگتا ہے آپ کچھ کہنا چاہتے ہیں؟ شہباز شریف نے کہا کہ جی میں میڈیکل بورڈ کے متعلق کچھ کہوں گا،مجھے میڈیکل بورڈ کی رپورٹ ابھی وصول نہیں ہوئی، میں چنیوٹ مائنز اینڈ منرلز کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں، میں نے قوم کے اربوں روپے بچائے،نیب نے میرے سوالوں کے جواب نہیں دیئے،فاضل جج نے انہیں باور کرایا کہ یہ کیس ان کی عدالت میں نہیں ہے،آپ مناسب وقت پر یہ باتیں کریں عدالت میں گواہ محمد شریف کے اپنابیان قلمبند کرتے ہوئے کہا کہ 7 اکتوبر 2019 ء وہ کو ریجنل ٹیکس آفس میں ایڈمن آفسیرتھے،مجھے سپیشل اسسٹنٹ ان لینڈ ریوینیو لاہور کا چارج دیا گیاتھا، 07,دسمبر 2019 کو میاں محمد شہبازشریف کا 1995 سے 2018 تک کا انکم ٹیکس کا ریکارڈ تفتیشی افسر مہیا کیا، میاں محمد شہبازشریف کی انکم ٹیکس کی مصدقہ کاپی 1998 ء سے 2018 ء تک کی نیب تفتیشی کو دی، انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت رپورٹ جمع کرائی گئی ہے، میاں شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز نے گواہ پر جرح کی، نیب گواہ نے بتایا کہ ایسا کوئی دستاویز تفتیشی افسر کو نہیں دیا جس میں شہباز شریف کی ٹیکس چوری, یا جائیداد کو چھپانا ثابت ہوتا ہو، البتہ اگر شہباز شریف کا آڈٹ ہوا تو وہ پتہ چل سکتا ہے جس پر عدالت نے ایف بی آر سے شہباز شریف کی جائیداد کے آڈٹ کا ریکارڈ طلب کرلیا عدالت نے یہ حکم بھی دیا ہے کہ اگر آڈٹ ہوا ہے تو آئندہ سماعت پروہ بھی پیش کیاجائے،عدالت میں گواہ کے بیان پر شہبازشریف کے وکیل امجد پرویز اور پراسیکیوٹر کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی  عدالت میں گواہ کے بیان پر جرح کے دوران شہبازشریف کے بیان پر ہنسی مذاق کے جملوں کا تبادلہ بھی ہوا،  شہبازشریف نے نوازشریف سے ٹیل فون پر رابطہ بھی کیا اور ان کی خریت دریافت کی،کیس کی سماعت کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے

شہبازشریف پیشی

مزید :

صفحہ اول -