مصباح الحق اور وقار یونس کو فارغ کرنے کا فیصلہ ہو چکا مگر اس پر عملدرآمد کب کیا جائے گا؟ کرکٹ شائقین کیلئے انتہائی اہم خبر آ گئی

مصباح الحق اور وقار یونس کو فارغ کرنے کا فیصلہ ہو چکا مگر اس پر عملدرآمد کب ...
مصباح الحق اور وقار یونس کو فارغ کرنے کا فیصلہ ہو چکا مگر اس پر عملدرآمد کب کیا جائے گا؟ کرکٹ شائقین کیلئے انتہائی اہم خبر آ گئی
سورس:   Twitter

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے جنوبی افریقہ کیخلاف ہوم سیریز قریب ہونے کی وجہ سے پینک بٹن دبانے سے گریز کیا اور ہیڈ کوچ مصباح الحق اور باﺅلنگ کوچ وقار یونس پر واضح کر دیا گیا ہے کہ جنوبی افریقہ کیخلاف شکست کی صورت میں انہیں گھر جانا ہو گا۔ 

تفصیلات کے مطابق مسلسل شکستوں کی وجہ سے بورڈ حکام کا مصباح الحق اور وقار یونس پر اعتماد تقریباً ختم ہو گیا ہے جبکہ گزشتہ دنوں ہی یہ اطلاعات سامنے آ گئی تھیں کہ انہیں جلد فارغ کر دیا جائے گا تاہم جنوبی افریقہ کیخلاف ہوم سیریز قریب ہونے کے باعث ایسا کرنے سے گریز کیا گیا ہے البتہ دونوں پر واضح کر دیا گیا ہے کہ یہ سیریز ان کیلئے آخری موقع ہے اور شکست کی صورت میں انہیں گھر جانا ہو گا۔ 

ذرائع کا کہنا ہے کہ اعلیٰ حکام کو مشورہ دیا گیا کہ جنوبی افریقہ سے سیریز اب چند دن ہی دور ہے،اگر ابھی ہیڈ کوچ اور باﺅلنگ کوچ کو فارغ کیا گیا تو اس کا ٹیم پر نفسیاتی طورپر اچھا اثر نہیں پڑے گا جبکہ اتنی جلدی نئے کوچز کا تقرر ہونا بھی ممکن نہ ہو گا لہٰذا انتظار کریں، اگر عبوری طور پر کسی کا تقرر کیا اور نتائج پھر منفی ہی رہے تو مزید تنقید سامنے آئے گی۔ 

جنوبی افریقہ سے میچز کے بعد اگلی سیریز میں ایک ماہ سے زائد وقت ہو گا اور اس دوران نئے کوچز کی تلاش ممکن ہو گی، ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ روز کرکٹ کمیٹی کی میٹنگ میں مصباح اور وقار پر واضح کردیا گیا کہ جنوبی افریقہ سے سیریز ان کیلئے آخری موقع ہے، اگر شکست ہوئی تو فوراً فارغ کر دیا جائے گا، ان سے کہا گیا کہ کھلاڑیوں کی سلیکشن ٹھیک نہ تھی، پلیئنگ الیون بھی درست منتخب نہیں کی گئی۔

واضح رہے کہ بطور چیف سلیکٹر مصباح الحق نے دورئہ نیوزی لینڈ کیلئے آخری سکواڈ کا انتخاب کیا تھا، اب محمد وسیم کو نیا سربراہ مقرر کیا گیا ہے، دونوں کوچز کو کمیونی کیشن میں ان کی خامیوں سے بھی آگاہ کیا گیا کیونکہ جو بات وہ کھلاڑیوں کو سمجھاتے ہیں ان پر عمل نہیں ہو پاتا، انہیں کوچنگ کے جدید تضاضوں سے ہم آہنگ نہ ہونے پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

مزید :

کھیل -