انڈونیشیاءمیں طیارہ حادثہ ، پرواز میں سوار حاملہ خاتون اپنے بچوں کے ہمراہ کہاں جارہی تھی ؟ دو خاندان جن کا سب کچھ لٹ گیا ، افسوسناک تفصیلات 

انڈونیشیاءمیں طیارہ حادثہ ، پرواز میں سوار حاملہ خاتون اپنے بچوں کے ہمراہ ...
انڈونیشیاءمیں طیارہ حادثہ ، پرواز میں سوار حاملہ خاتون اپنے بچوں کے ہمراہ کہاں جارہی تھی ؟ دو خاندان جن کا سب کچھ لٹ گیا ، افسوسناک تفصیلات 

  

جکارتہ (ڈیلی پاکستان آن لائن ) انڈونیشیاءکی نجی ایئر لائن ” سری ویجایا “ کا مسافر طیارہ دو روز قبل گر کرتباہ ہو گیا تھا جس میں 62 افراد سوار تھے ، ریسکیو اداروں کی جانب سے طیارے کا ملبہ تلاش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔

سری ویجایا ایئر لائن کے طیارے نے 62 مسافروں کو لے کر دوپہر دو بج کر 24 منٹ پر پونتیانک کیلئے پرواز بھری لیکن چار منٹ بعد ہی اس کا رابطہ منقطع ہو گیا اور سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا ۔ بلیک باکس اور کاک پٹ ریکارڈر کی تلاش جاری ہے جس کے بعد تحقیقات آگے بڑھائی جا سکیں گی۔

اس بد قسمت طیارے میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد بھی سوار تھے جن کا تعلق ” سوماترا ‘ ‘ سے تھا ،اہل خانہ کی جانب سے جاری تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ 26 سالہ رضکی واحدی ، ان کی 26 سالہ اہلیہ حلیمہ پتری اور سات ماہ کا بیٹا بھی طیارے میں سفر کر رہے تھے ، میاں بیوی اور بچے کے ساتھ حلیمہ پتری کی والدہ اور ایک کزن بھی اس فلائٹ میں ہی تھا ۔ 

رضکی واحدی ” کیٹا پینگ “ میں انڈو نیشیاءکی فوریسٹری کمیشن میں ملازمت کرتے تھے ، تمام افراد ’ بینکا آئی لینڈ ‘ میں اپنے اہل خانہ سے ملاقات کیلئے گئے تھے اور براستہ جکارتہ واپس لوٹ رہے تھے لیکن جہاز حادثے کا شکار ہو گیا ۔اتوار کو واحدی کے رشتہ داروں نے اپنے ڈی این اے سیمپلز جمع کروا دیئے ہیں تاکہ ان کی شناخت کی جا سکے ۔

ان کے علاوہ اس طیارے میں ایک حاملہ ماں بھی سوار تھی جو کہ اپنی فیملی کے ہمراہ جکارتہ میں رشتہ داروں سے ملنے آئی تھی ۔’رتیح وینڈانیا ‘چار ماہ کی حاملہ تھیں اور وہ جکارتہ میں اپنے رشتہ داروں سے ملنے آئی تھیں ، ان کے ساتھ طیارے میں دو سالہ بیٹی یمنا، آٹھ سالہ بھتیجہ اتھر رضکی ، انکل ٹونی اسماعیل اور آنٹی سوار تھیں ۔ان کے اہل خانہ کا بتاناہے کہ تمام افراد نے یکم جنوری کو واپس جانا تھا لیکن سفر سے قبل کورونا ٹیسٹ کی شرط کے باعث انہیں تاخیر کرنا پڑی ، وہ نو جنوری کو ’ ’ نام ایئر “ پر فلائٹ بک کرنا چاہ رہے تھے لیکن بعدازاں انہوں نے ارادہ تبدیل کرتے ہوئے سری ویجایا کی ایئر لائن پر سفرکرنے کا فیصلہ کیا ۔جس کی وجوہات پوشیدہ ہی رہ گئیں ۔

مزید :

بین الاقوامی -