ٹیسلا کمپنی کے مالک ایلن مسک دنیا کے امیر ترین آدمی لیکن ایک وقت ایسا بھی تھا جب ان کے پاس اپنی گاڑی کی مرمت کے لیے چند سو روپے بھی نہ تھے

ٹیسلا کمپنی کے مالک ایلن مسک دنیا کے امیر ترین آدمی لیکن ایک وقت ایسا بھی تھا ...
ٹیسلا کمپنی کے مالک ایلن مسک دنیا کے امیر ترین آدمی لیکن ایک وقت ایسا بھی تھا جب ان کے پاس اپنی گاڑی کی مرمت کے لیے چند سو روپے بھی نہ تھے
سورس:   Instagram/elonmusk

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) ٹیسلا کے مالک ایلن مسک ایمازون کے بانی جیف بیزوس کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کے امیر ترین آدمی بن چکے ہیں لیکن یہ جان کر آپ کو سخت حیرت ہو گی کہ ایلن مسک پر ایک وقت ایسا بھی تھا کہ ان کے پاس اپنی کار ٹھیک کروانے کے لی پیسے نہیں ہوا کرتے تھے۔ وہ کباڑ سے سپیئرپارٹس خریدتے اور خود ہی اسے فکس کرتے تھے۔ انڈیا ٹائمز کے مطابق پرینے پیتھول نامی ایک صارف نے گزشتہ رو ز ایلن مسک کی 1995ءکی ایک تصویر ٹوئٹر پر پوسٹ کی، جس میں وہ اپنی گاڑی کی ونڈو کا شیشہ نصب کر رہے ہوتے ہیں۔ پرینے اس تصویر کے ساتھ لکھتے ہیں کہ ایلن مسک 1995ءمیں اپنی کار خود ٹھیک کر رہے ہیں کیونکہ ان کے پاس ری پیئرنگ کے پیسے نہیں تھے۔۔

پرینے پیتھول کی اس ٹویٹ پر ایلن مسک نے جوابی ٹویٹ کیا اور مزید معلومات دیتے ہوئے کہا کہ ”میں نے اپنی گاڑی کی ونڈو کا یہ شیشہ کباڑ سے 20ڈالر میں خریدا تھا۔ کباڑ خانے سپیئرپارٹس خریدنے کے لیے بہت اچھی جگہیں ہیں۔“ایلن مسک قبل ازیں بتا چکے ہیں کہ انہوں نے اپنی یہ 1978ءبی ایم ڈبلیو 320آئی گاڑی 1993ءمیں 1400ڈالر (تقریباً 2لاکھ 24ہزار روپے) میں خریدی تھی۔ 

پرینے پیتھول نے ایلن مسک کی جو تصویر ٹوئٹر پر پوسٹ کی وہ ابتدائی طور پر 2019ءمیں ایلن مسک کی والدہ مئے مسک نے ٹوئٹر پر پوسٹ کی تھی اور لکھا تھا کہ ”ایلن مسک 1995ئ۔ اور لوگ کہتے ہیں کہ اسے کاروں کے بارے میں کچھ پتا نہیں ہے۔“اپنی والدہ کی اس ٹویٹ پر ایلن مسک نے جوابی ٹویٹ میں کہا تھا کہ ”اپنی اس پرانی بی ایم ڈبلیو کی تمام ری پیئرنگ میں خود کرتا تھا کیونکہ میرے پاس پروفیشنل مکینک کو دینے کے لیے پیسے نہیں ہوتے تھے۔ری پیئرنگ کے لیے میں پارٹس کباڑ خانے سے خریدا کرتا تھا۔“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -