کیا آپ کو معلوم ہے میسجنگ ایپ واٹس ایپ اور سگنل کا بانی ایک ہی شخص ہے، دوسری ایپ بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اس کی دلچسپ کہانی جانئے

کیا آپ کو معلوم ہے میسجنگ ایپ واٹس ایپ اور سگنل کا بانی ایک ہی شخص ہے، دوسری ...
کیا آپ کو معلوم ہے میسجنگ ایپ واٹس ایپ اور سگنل کا بانی ایک ہی شخص ہے، دوسری ایپ بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اس کی دلچسپ کہانی جانئے

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) واٹس ایپ کی طرف سے نئی پرائیویسی پالیسی متعارف کروائے جانے کے بعد سے صارفین اپنے ڈیٹا کے حوالے سے عدم تحفظ کا شکار ہو کر دیگر میسجنگ ایپلی کیشنز کی طرف منتقل ہو رہے ہیں جن میں ایک ایپلی کیشن ’سگنل‘ ہے۔ انڈیا ٹائمز کے مطابق درحقیقت سگنل نامی یہ ایپلی کیشن بھی اسی شخص نے بنائی ہے جس نے واٹس ایپ بنائی تھی۔ اس آدمی کا نام بریان ایکٹن ہے، جس نے سٹیفرڈ یونیورسٹی سے کمپیوٹرسائنس کی ڈگری حاصل کی۔ وہ ایپل اور اڈوب کے ساتھ پراڈکٹ ٹیسٹر کے طور پر کام کر چکا ہے اور یاہو میں بھی ملازمت کر چکا ہے۔ اسے ٹوئٹر اور فیس بک جیسی ٹیک کمپنیوں کی طرف سے مسترد بھی کیا جا چکا ہے تاہم اس نے ہمت نہیں ہاری اور اپنے دوست جان کوم کے ساتھ مل کر بالآخر واٹس ایپ تخلیق کر ڈالی۔

2014ءمیں انہوں نے واٹس ایپ 19ارب ڈالر کے عوض فیس بک کو فروخت کر دی۔ 2017ءتک بریان ایکٹن اسی کا حصہ رہے۔ فیس بک کے بانی مارک زکربرگ اور چیف آپریٹنگ آفیسر شیریل سینڈبرگ واٹس ایپ کو ’منی ٹائز‘ کرنا چاہتے تھے لیکن بریان ایکٹن اس کے سخت خلاف تھے کیونکہ اس طرح انہیں صارفین کا ڈیٹا اپنے پاس محفوظ کرتا پڑتا اور بریان ایکٹن صارفین کی پرائیویسی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتے تھے۔ بالآخر 2017ءمیں اسی تنازع کی وجہ سے بریان نے کمپنی کو خیرباد کہا۔ کمپنی چھوڑنے کی وجہ سے انہیں حصص کی صورت میں 85کروڑ ڈالر کا نقصان بھی ہوا۔

واٹس ایپ چھوڑنے کے بعد بریان نے صارفین کو ایک اور ایسی میسجنگ ایپلی کیشن دینے کا فیصلہ کیا جہاں ان کی پرائیویسی پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو اور ان کا ڈیٹا محفوظ رہے۔ چنانچہ انہوں نے ’سگنل‘ نامی ٹیکسٹنگ پلیٹ فارم اور سگنل فاﺅنڈیشن کی 2018ءمیں بنیاد رکھی۔ اب سگنل ’منی ٹائز‘ نہیں کی جا رہی چنانچہ نہ ہی سگنل کے صارفین کا ڈیٹا محفوظ کیا جاتا ہے اور نہ ہی انہیں اشتہار دکھائے جاتے ہیں۔ سگنل کی آمدنی کا ذریعہ گرانٹس اور عطیات ہیں جو اس کے صارفین یا پھر آن لائن صارفین کی پرائیویسی کے کارکنوں کی طرف سے دیئے جاتے ہیں۔ 

مزید :

ڈیلی بائیٹس -سائنس اور ٹیکنالوجی -