Fact Check: کیا واقعی چین نے اپنا مصنوعی سورج آسمان میں بھیج دیا ہے؟ وائرل ویڈیو کی حقیقت سامنے آگئی

Fact Check: کیا واقعی چین نے اپنا مصنوعی سورج آسمان میں بھیج دیا ہے؟ وائرل ویڈیو ...
Fact Check: کیا واقعی چین نے اپنا مصنوعی سورج آسمان میں بھیج دیا ہے؟ وائرل ویڈیو کی حقیقت سامنے آگئی
سورس: Screen Grab

  

 بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک)سوشل میڈیا کا انقلاب اپنی تمام تر افادیت کے ساتھ گمراہ کن پراپیگنڈے اور غلط معلومات جیسے منفی عوامل بھی ساتھ لے کر آیا ہے۔ ایسی ہی ایک غلط اطلاع گزشتہ روز چین کے مصنوعی سورج کے متعلق سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی کہ ایک بار دنیا ہل کر رہ گئی۔ ڈیلی سٹار کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ویڈیو پوسٹ کی گئی جس میں زمین سے آگ کے ایک گولے جیسی کوئی چیز آسمان کی طرف جاتی دیکھی جا سکتی ہے۔

اس ویڈیو کے کیپشن میں بتایا گیا کہ چینی سائنسدانوں نے گزشتہ سال جو مصنوعی سورج بنایا تھا، اسے آسمان میں بھیجا جا رہا ہے۔ یہ ویڈیو تیزی سے وائرل ہوئی اور امریکی گلوکار کرس براؤن سمیت کئی معروف شخصیات بھی اس غلط اطلاع پر یقین کر بیٹھیں اور اسے شیئر کر دیا، جس سے بڑی تعداد میں لوگ اس ویڈیو کے ذریعے پھیلائی گئی جھوٹی اطلاع کو سچ سمجھ بیٹھے۔

جب تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ یہ ویڈیو تو درست ہے مگراس کا کیپشن غلط ہے۔ اصل میں یہ ویڈیو کسی اور صارف نے ٹوئٹر پر پوسٹ کی تھی اور اس نے اپنے کیپشن میں درست بات لکھی تھی۔ اس نے لکھ رکھا تھا کہ ”چین کے جنوبی صوبے ہینان میں وین شینگ سپیس کرافٹ لانچ سائٹ سے ایک سیٹلائٹ لانچ کی جا رہی ہے۔“ اس صارف نے کیپشن میں 23دسمبر کی تاریخ بھی لکھ رکھی تھی۔

افواہ پھیلانے والے اس صارف نے اس شخص کی ویڈیو چوری کی اور کیپشن میں اپنی طرف سے جھوٹ لکھ کر لوگوں کو ایک خوف میں مبتلا کر دیا۔ واضح رہے کہ چین کی طرف سے جو مصنوعی سورج تیار کیا گیا ہے وہ ایک ایٹمی ری ایکٹر ہے۔ اس میں اصلی سورج سے پانچ گنا زیادہ توانائی پیدا کی جا سکتی ہے تاہم یہ توانائی چند سیکنڈ تک ہی پیدا ہوتی ہے اور اسے آسمان میں بلند کرنا تو دور کی بات، کوئی دیکھ بھی نہیں سکتا۔ یہ ری ایکٹر ایک انتہائی محفوظ ماحول میں کام کرتا ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -سائنس اور ٹیکنالوجی -