دربارِ نجاشی میں حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ کی حق گوئی ۔۔۔!!!!

دربارِ نجاشی میں حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ کی حق گوئی ۔۔۔!!!!
دربارِ نجاشی میں حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ کی حق گوئی ۔۔۔!!!!
سورس: File Photo

  

حضور نبی کریم ﷺ کے چچازاد بھائی حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ،حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ الْکریم کے سگے بھائی تھے اور عمر میں ان سے تقریباً دس سال بڑے تھے،کنیت ابو عبداللہ تھی۔۔۔حضور نبی کریم ﷺ کے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے گھر میں پناہ گزین ہونے سے چند روز پہلے مشرف بہ اسلام ہوئے اس وقت اکتیس آدمی اسلام قبول کر چکے تھے۔۔۔۔!!!!

مشرکینِ مکہ کے ظلم و ستم سے تنگ آکر جب مسلمانوں کی جماعت نے حبشہ کیطرف ہجرت کی تو حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ بھی اسیِ قافلۂِ حق میں شریک ہوئے،اور ہجرت فرما کر حبشہ جا پہنچے۔۔۔ ظلم و تشدد کرنے والے مشرکین مکہ کو جب خبر ہوئی تو اس جماعت کو واپس لانے کیلئے ایک وفد نجاشی کے دربار میں مکہ مکرمہ سے گراں قدر تحائف کیساتھ روانہ کیا،جنہوں نے حبشہ پہنچ کر درباری پادریوں کو تائید پر آمادہ کر کے نجاشی سے درخواست کی کہ ہماری قوم کے چند ناسمجھ نوجوان اپنے آبائی مذہب کو چھوڑ کر آپ کے ملک میں چلے آئے ہیں،انہوں نے ایسا نرالا مذہب ایجاد کیا ہےجس کو پہلے کوئی جانتا بھی نہ تھا،ہم کو ان کے بزرگوں اور رشتہ داروں نے بھیجا ہے کہ حضور ان لوگوں کو ہمارے ساتھ واپس بھیج دیجیئے،رشوت خور درباریوں نے بھی بلند آہنگی کیساتھ مشرکین مکہ کے اس مطالبہ کی بھرپور تائید کی،نجاشی بادشاہ نے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ (رضی اللہ عنھم ورضو عنہ) کو اپنے دربار میں بلایا اور ان سے پوچھا کہ وہ کون ہیں اور کس مذہب کے ماننے والے ہیں اور کس مذہب کو چھوڑ کر آئے ہیں ۔۔۔۔(اسد الغابہ)

حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کی دربارِ حبشہ میں اسلام پر تقریر ۔۔۔

اصحاب رسولﷺ نے نجاشی بادشاہ سے گفتگو کیلئے اپنی طرف سے حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو منتخب فرمایا۔۔۔چنانچہ حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ نے فرمایا !بادشاہ سلامت! ہماری قوم نہایت جاہل تھی،ہم بت پرست تھے،مردار کھاتے تھے،الغرض ہم ایسی بدبختی میں تھے کہ اللہ تعالی نے ہماری قوم میں ایک شخص کو ہمارے پاس اپنا رسول ﷺ بنا کر مبعوث فرمایا،ہم اس کی شرافت،راستی،دیانتداری اور پاکبازی سے اچھی طرح آگاہ تھے، اس رسول ﷺ نے ہم کو شرک و بت پرستی سے روک کر توحید کی دعوت دی، ہم کو راست بازی، امانتداری، ہمسایہ اور رشتہ داروں سے محبت کا سبق سکھایا اور ہم سے فرمایا کہ ہم جھوٹ نہ بولیں،قتل و خونریزی نہ کریں،بدکاری اور فریب سے باز آئیں،یتیموں کا مال نہ کھائیں،شریف عورتوں پر بدنامی کا داغ نہ لگائیں، اللہ وحدہُ لا شریک اور اسکے آخری رسول حضرت محمد ﷺ پر ایمان لائیں، نماز پڑھیں ، روزے رکھیں اور اللہ تعالی کی راہ میں صدقہ وخیرات کریں، لہذا بادشاہ سلامت ! ہم اللہ اور اسکے رسول ﷺ پر ایمان لائے اور اسکی تعلیمات پر چلے،ہم نے بت پرستی چھوڑ دی،صرف ایک خدا کی پرستش کرتے ہیں،حلال و حرام میں تمیز کرتے ہیں ،، انہی وجوہات پر ہماری قوم ہماری جان کی دشمن بن گئی،ہم پر ظلم وتشدد کر کے ہم کو پھر بت پرستی اور زمانۂِ جاہلیت کے برائیوں میں مبتلا کرنا چاہتی تھی ،یہاں تک کہ ہم لوگ ان کے ظلم و تشدد،مصائب و آلام سے تنگ آ کر آپ کے ہاں حبشہ میں چلے آئے ۔۔۔!!!!!

نجاشی بادشاہ نے کہا! تمہارے نبی (ﷺ) پر جو کتاب نازل ہوئی اس کو کہیں سے پڑھ کر سناؤ،حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ نے سورۂ مریم کی چند آیتیں تلاوت کیں تو نجاشی بادشاہ پر ایک خاص کیفیت طاری ہو گئی ،، اس نے کہا! خدا کی قسم ! یہ(قرآن کریم) اور تورات ایک ہی چراغ کے پر تو ہیں، اور مشرکین مکہ کے سفیروں سے مخاطب ہو کر کہا ! واللہ ۔۔۔۔! میں انکو کبھی واپس جانے نہ دوں گا۔۔۔

سفرائےِ قریش (مشرکین مکہ) نے ایک دفعہ پھر کوشش کی اور دوسرے روز دربار میں بازیاب ہو کر عرض کی،، حضور! آپ کچھ یہ بھی جانتے ہیں کہ حضرت عیسٰی (علیہ السّلام ) کے متعلق ان لوگوں کا کیا خیال ہے؟نجاشی بادشاہ نے اصحاب محمد ﷺ کو دوبار اپنے دربار میں انکے اس سوال کا جواب دینے کیلئے طلب کیا،حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کو سخت تردد تھا کہ کیا جواب دیں،تو حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ نے فرمایا کچھ بھی ہو،،اللہ اور اسکے رسول ﷺ نے جو کچھ بتایا ہے، ہم اس سے انحراف نہیں کریں گے،چنانچہ دربارِ نجاشی میں پہنچے، تو بادشاہ نے پوچھا! حضرت عیسی علیہ السلام کی نسبت تمہارا کیا اعتقاد ہے ؟؟؟ 

حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ نے فرمایا ! ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا بندہ،پیغمبر اور روح اللہ مانتے ہیں،، نجاشی نے زمین سے ایک تنکا اٹھا کر کہا؛؛ واللہ ! جو کچھ تم نے کہا عیسی ابن مریم (علیھما السلام) اس سے اس تنکے کے برابر بھی زیادہ نہیں ہیں ، یہ سن کر دربار کے پادری جو ابن اللہ کا عقیدہ رکھتے تھے ،نہایت برہم ہوئے ،نتھنوں سے خرخراہٹ کی آوازیں آنے لگیں لیکن نجاشی بارگاہ نے کچھ پرواہ نہ کی، لہذا مشرکینِ مکہ کا وفد ناکام ونامراد واپس لوٹا۔۔۔(مسند احمد) 

ہجرت حبشہ سے ہجرت مدینہ منورہ ۔۔۔۔۔۔!!!! 

حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ حضور نبی کریم ﷺ کے مدینہ منورہ کی ہجرت کے چھ سال بعد تک حبشہ میں ہی رہے۔۔۔  سن  سات ہجری میں وہ حبشہ سے مدینہ منورہ تشریف لائے،یہ وہ زمانہ تھا کہ خیبر فتح ہو گیا تھا اور مسلمان اس کی خوشی منا ہی رہے تھے کہ مسلمانوں کو اپنے دور افتادہ بھائیوں کی واپسی کی دوہری خوشی حاصل ہوئی،جب حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ حضور نبی کریم ﷺ کے سامنے تشریف لائے تو حضور نبی کریم ﷺ نے انہیں گلے لگایا اور انکی پیشانی چوم کر فرمایا ،، میں نہیں جانتا کہ مجھے جعفر (رضی اللہ عنہ) کے آنے سے زیادہ خوشی ہوئی ہے یا خیبر کی فتح سے۔۔۔!!!! (طبقات ابن سعد ) 

حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ کی غزوۂ موتہ میں شرکت۔۔۔۔!!!!

جمادی الاولٰی سن آٹھ  ہجری میں موتہ پر فوج کشی ہوئی،حضور نبی کریم ﷺ نے فوج کا علم حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو عطا کر کے فرمایا ؛؛اگر زید (رضی اللہ عنہ) شہید ہوں تو جعفر ( رضی اللہ عنہ ) اور اگر جعفر (رضی اللہ عنہ ) بھی شہید ہوں تو عبداللہ ابن رواحہ (رضی اللہ عنہ) اس جماعت کے امیر ہوں گے۔۔۔(بخاری شریف کتاب المغازی) حضور نبی کریم ﷺ اس غزوہ کے انجام و نتیجہ سے آگاہ تھے، اسی لئے فرمایا کہ اگر زید رضی اللہ عنہ شہید ہوں تو جعفر رضی اللہ عنہ علم سنبھالیں ،اگر وہ بھی شہید ہوں تو عبداللہ ابن رواحہ رضی اللہ عنہ انکی جگہ لیں ۔۔۔(طبقات ابن سعد)

حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ کی شہادت۔۔۔۔!!!

موتہ پہنچ کر معرکۂ کار زار گرم ہوا، تین ہزار غازیانِ اسلام کے مقابلہ میں غنیم کا ایک لاکھ ٹڈی دل لشکر تھا،امیر فوج حضرت زید رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو حضرت جعفر رضی اللہ عنہ گھوڑے سے کود پڑے اور علم کو سنبھال کر غنیم کی صفیں چیرتے ہوئے آگے بڑھے ،دشمنوں کا ہر طرف سے نرغہ تھا،تیغ و تبر،تیر وسنان کی بارش ہو رہی تھی،یہاں تک کہ تمام بدن زخموں سے چھلنی ہو گیا،دونوں ہاتھ بھی یکے بعد دیگرے شہید ہوئے مگر اس مجاھدِ اسلام نے اس حالت میں بھی توحید کے جھنڈے کو سرنگوں ہونے نہ دیا(اسدالغابہ) 

بالآخر شہادت کا جام نوش فرمایا پھر حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ بھی بڑی جرات و شہادت سے لڑے اور شہید ہو گئے اور ان کے بعد حضرت خالد سیف اللہ رضی اللہ عنہ نے علم ہاتھ میں لیا اور اسلام کی سربلندی کیلئے لڑے اور فاتح بن کر واپس لوٹے۔ حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنھما بھی اس جنگ میں شریک تھے،فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ کی لاش کو تلاش کر کے دیکھا تو صرف سامنے کی طرف پچاس(50) زخم تھے،تمام بدن کے زخموں کا شمار تو نوّے (90) سے بھی متجاوز تھا،لیکن اُن میں کوئی زخم پشت پر نہ تھا!!!!!! (بخاری شریف ) اللہ اکبر کبیرا

حضور نبی کریم ﷺ کا حزن و ملال ۔۔۔۔!!!!

میدانِ جنگ میں جو کچھ ہو رہا تھا ،اللہ تعالی کے حکم سے حضور نبی کریم ﷺ کے سامنے تھا،چنانچہ خبر آنے سے پہلے ہی آپ ﷺ نے حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ کی شہادت کا حال بیان فرمایا۔اس وقت آپ ﷺ کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری ہو گئے اور روئے انور پر حزن وملال کے آثار نمایاں تھے۔۔۔( اسدالغابہ)حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کی اہلیہ محترمہ حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ میں آٹا گوندھ چکی تھی اور لڑکوں کو نہلا دھلا کر صاف کپڑے پہنا رہی تھی کہ حضور نبی کریم ﷺ تشریف لائے اور فرمایا جعفر (رضی اللہ عنہ) کے بچوں کو لاؤ،میں نے ان کو حاضرِ خدمت کیا، تو آپ ﷺ نے آبدیدہ ہو کر ان کو پیار فرمایا ،میں نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان ہوں,حضور ﷺ آبدیدہ کیوں ہیں ۔۔۔؟؟؟  کیا جعفر (رضی اللہ عنہ ) اور ان کے ساتھیوں( رضی اللہ عنھم) کے متعلق کوئی اطلاع آئی ہے،فرمایا ہاں! وہ شہید ہو گئے ،یہ سن کر میں رونے لگی۔۔۔محلہ کی عورتیں میرے اردگرد جمع ہو گئیں،حضور نبی کریم ﷺ واپس تشریف لے گئےاور ازواجِ مطہرات(رضی اللہ عنھن) سے فرمایا کہ آل جعفر (رضی اللہ عنہ) کا خیال رکھنا،آج وہ اپنے ہوش میں نہیں ہیں(یعنی انہیں شدید صدمہ ہے)۔( مستدرک حاکم ) 

خاتونِ جنت سیدہ فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنھا کو بھی اپنے عمِ محترم کی مفارقت کا شدید غم تھا،شہادت کی خبر سُن کر بادیدۂ تر واعماہ! واعماہ! کہتے ہوئے بارگاۂِ نبوت ﷺ میں حاضر ہوئیں،حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا ! بیشک ! جعفر رضی اللہ عنہ جیسے شخص پر رونے والیوں کو رونا چاہیئے،آپ ﷺ کو عرصہ تک شدید غم رہا،یہاں تک کہ روح الامین نے یہ بشارت سنائی کہ اللہ تعالی نے جعفر ( رضی اللہ عنہ ) کو دو کٹے ہوئے بازوؤں کے بدلہ میں دو نئے بازو عنایت کیے ہیں ،جن سے وہ ملائکہ جنت کے ساتھ مصروفِ پرواز رہتے ہیں ۔(مستدرک حاکم) چنانچہ ذوالجناحین اور طیار ان کا لقب ہو گیا۔(رضی اللہ عنھم ورضو عنہ )

 حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ کے فضائل و محاسن۔۔۔۔!!!!!

حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ کشادہ دست و فیاض تھے،غرباء و مساکین کو کھانا کھلانے میں انکو خاص لطف حاصل ہوتا تھا ،اسی لئے حضور نبی کریم ﷺ ان کو ابو المساکین کے نام سے یاد فرمایا کرتے تھے،حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اکثر بھوک کے باعث پیٹ کو کنکروں سے دبائے رکھتا تھا اور آیت یاد بھی رہتی تو اس کو لوگوں سے پوچھتا پھرتا  کہ شاید کوئی مجھ کو اپنے گھر لے جائے اور کچھ کھلائے لیکن میں نے حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کو مسکینوں کے حق میں سب سے زیادہ بہتر پایا ، وہ ہم لوگوں (اصحاب صفہ رضی اللہ تعالی عنھم اجمعین) کو اپنے گھر لے جاتے تھے،اور جو کچھ ہوتا تھا ،سامنے لا کر رکھ دیتے تھے،یہاں تک کہ بعض اوقات گھی یا شہد کا خالی مشکیزہ تک لا دیتے اور اسکو کاٹ کر ہمارے سامنے رکھ دیتے اور ہم اس کو چاٹ لیتے تھے۔(بخاری شریف )

حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کے فضائل ومناقب کا پایہ نہایت بلند تھا ،خود حضور نبی کریم ﷺ ان سے فرمایا کرتے تھے کہ "جعفر" (رضی اللہ عنہ)! تم میری صورت وسیرت دونوں میں مجھ سے مشابہ ہو۔(بخاری شریف)حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھ سے پہلے جس قدر نبی (علیھم السلام) گزرے ہیں ان کو صرف سات رفیق دیئے گئے تھے ،لیکن میرے رفقائےِ خاص کی تعداد چودہ(14) ہے ، ان میں سے ایک جعفر (رضی اللہ عنہ) بھی ہیں۔۔۔( جامع ترمذی )حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ کے صاحبزادہ کو سلام کرتے تو کہتے السلام علیک یا ابن ذی الجناحین۔(بخاری شریف ) حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بعض اوقات میں حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ سے کچھ مانگتا تو وہ انکار کر دیتےلیکن جب اپنے والد حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کا واسطہ دیتا تو بغیر کچھ دیئے نہ رہتے، رضی اللہ عنھم ورضو عنہ ۔۔۔۔!!!

مزید :

بلاگ -روشن کرنیں -