سٹوڈنٹ گرین کارڈسکیم

سٹوڈنٹ گرین کارڈسکیم
سٹوڈنٹ گرین کارڈسکیم

  

وزیراعلیٰ پنجاب کی طرف سے صوبہ کے ہونہار طلبہ و طالبات میں لیپ ٹاپ کی تقسیم کے بعد طلباءکی سہولت کے لئے جدید پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم اور سٹوڈنٹ گرین کارڈ سکیم بھی وزیر اعلی پنجاب کے انقلابی ویژن کی عکاس ہے-ابتدائی طور پر لاہور کے ایک لاکھ 25 ہزار طلباءو طالبات اس سکیم سے مستفید ہوں گے - بلا شبہ سٹوڈنٹ گرین کارڈ سکیم حکومت کا طلباءکی فلاح و بہبودکے لئے اہم قدم ہے جس کے لئے ہرروٹ کے لئے یکساں کرایہ 10 روپے مقرر ہے - وزیر اعلی پنجاب کے ویژن کے تحت لاہور کے بعد راولپنڈی اور فیصل آباد میں بھی ائر کنڈیشنڈ بسیں چلائی گئیں ہیں اوریہ بسیں صوبے کے تمام بڑے شہروں میں چلائی جائیں گی-

 وزیراعلیٰ پنجاب سرکاری سکولوں میں معیاری تعلیم کی فراہمی کیلئے پر عزم رہے ہیں اور انہوں نے صوبے کے تمام ہائی سکولوں میں کمپیوٹر لیپ کے قیام کو ممکن بنا دیا جس کی بدولت آج تک 25لاکھ سے زائد طالب علم کمپیوٹر کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔اسلام آباد میں منعقد ہونے والی تقریب میں دوسرے صوبوں کے 1938ہونہار طلبہ میں بھی لیپ ٹاپ تقسیم کئے گئے ۔

گزشتہ 64 برسوں میں حکمرانوں اور اشرافیہ کو سہولتوں کی فراہمی پر تو وسائل خرچ ہوتے رہے لیکن بد قسمتی سے غریب اور محروم طبقات کو نظر انداز کیا گیا - پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے برسراقتدار آنے کے بعد وسائل کا رخ غریب اور محروم عوام کی جانب موڑ دیا ہے معاشی طور پر پسے ہوئے طبقات کے معیار زندگی کو بلند کرنے اور انہیں سہولتوں کی فراہمی کے منصوبوں پر عوامی وسائل خرچ کئے جار ہے ہیں - اسی سلسلے کی ایک کڑی میٹروبس سروس کے شاندار منصوبے پر تیزی سے کام جاری ہے جس کی تکمیل سے لوگوں کو آرام دہ اور تیز رفتار ٹرانسپورٹ میسر آئے گی اور اس کے ساتھ ساتھ ایک کروڑ آبادی سے تجاوز میٹروپولیٹن لاہور شہر کو نئی شناخت ملے گی - واضح رہے کہ جدید انفراسٹرکچر معاشی و تجارتی سرگرمیوں کے فروغ اور تیز رفتار ترقی کے لئے بے حد ضروری ہے اسی لئے پنجاب حکومت انفراسٹرکچر کوبہتر بنانے پر کثیر وسائل خرچ کر رہی ہے اور صوبے میں سڑکو ں ، پلوں و انڈرپاسز کا جال بچھایا جا رہا ہے -طالب علم مستقبل کے معمار ہیں اور قوم کو کل کے قائدین سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں اسی لئے پنجاب حکومت نے نوجوان نسل کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے لئے موثر اقدامات کئے ہیں - سٹوڈنٹ گرین کارڈ سکیم کا اجراءطلباءو طالبات کو سستی لیکن باوقار سفری سہولتوں کی فراہمی کی جانب اہم قدم ہے -یہاں حکومت پنجاب کی جانب سے طلباءکو فراہم کی جانے والی چند سہولتوں کا ذکر کرنا ضروری ہے - حکومت پنجاب کا عزم ہے کہ صوبے میںبسنے والا کوئی باصلاحیت و ہونہار طالب علم محض وسائل کی کمی کی وجہ سے اعلیٰ اور معیاری تعلیم سے محروم نہ رہے جس کیلئے حکومت نے پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ قائم کیاجس میں10ارب روپے طلبہ کو وظائف دیے جارہے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی خصوصی ہدایت پر ہونہار طلباءو طالبات میں لیپ ٹاپ کی تقسیم کا منصوبہ اسی جانب ایک ہم قدم ہے کیونکہ نوجوان نسل کو جدید علوم سے آراستہ کئے بغیر تیز رفتار ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا - حکومت نے مستحق طلبہ کو معیاری تعلیم سے روشناس کرانے کیلئے دانش سکول قائم کر رہی ہے اور یہ تمام سکول صوبے کے پسماندہ علاقوں میں قائم کیے جارہے ہیں کیونکہ جدید اور معیاری تعلیم پر صوبہ کے محروم طبقات اور محنت کشوں کے بچوں کا بھی حق ہے اور وزیراعلیٰ پنجاب کے دانش سکول سسٹم مستحق طلبہ کو ان کا حق دلانے کی جانب اہم قدم ہے۔ آج کے مقابلے کے دور میں طلبہ و طالبات کو جدید تعلیم اورانفارمیشن ٹیکنالوجی کی سہولیات فراہم کیے بغیر ہم دنیا میں اقوام کا مقابلہ نہیں کر سکتے جبکہ نئی نسل پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے-

 پاکستان کی آبادی کا 62 فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے اور یہی پاکستان کی اصل قوت ہے اورنوجوان نسل کو جدید علوم سے آراستہ کرکے پاکستان دنیا کی 10 بڑی معیشتوں میں شامل ہوسکتا ہے جبکہ وزیراعلی محمد شہباز شریف کی قیادت میں سب سے زیادہ توجہ نوجوانوں کو جدید علوم سے آراستہ کرنے پردی جا رہی ہے- پنجاب میں 4 ہزار سے زائد سکولوںمیں آئی ٹی لیبز کے قیام اور 32 ہزار سائنس اساتذہ کی بھرتی سے سائنسی انقلاب کی بنیاد رکھ دی گئی ہے- وزیراعلی محمد شہباز شریف کی علم سے محبت ڈھکی چھپی نہیں ہے،40 ہزارایجوکیٹرز، 32 ہزار سائنس ٹیچرز کا میرٹ پر انتخاب اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں اورتعلیمی شعبے پر اس کے دور رس نتائج مرتب ہوں گے-

 64سالوں میں ڈکٹیٹروں اور سیاستدانوں نے ملک کا حلیہ بگاڑ کے رکھ دیا ہے۔ ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ قوم کے باصلاحیت بچوں کی محنت اور قابلیت کے اعتراف میں پنجاب حکومت نے لیپ ٹاپ کی تقسیم کا پروگرام شروع کیا ہے ۔معیاری تعلیم ایک عرصہ سے ایک مخصوص طبقہ کا استحقاق سمجھا جاتا رہا ہے۔ خادم پنجاب کی قیادت میں اس رجحان میں خاطر خواہ تبدیلی لانے کی کوشش کی گئی ہے۔ دانش سکول اور سینٹرز آف ایکسی لینس کا اجراءاس حوالے سے سنگ میل کی حیثیت کا حامل ہے۔ یونیورسل پرائمری انرولمنٹ مہم چلائی گئی ۔ پنجاب کے کم شرح خواندگی رکھنے والے 15 اضلاع کے گرلز سکولوں میں 1967ملین روپے کے وظائف تقسیم کئے گئے ہیں۔ 35ہزار ایجوکیٹرز میرٹ پر بھرتی کئے گئے ۔ 5 ارب روپے کی لاگت سے 4286 ہائی سکولوں اور 450ملین روپے کی لاگت سے 515مڈل سکولوں میں کمپیوٹر لیبارٹریز قائم کی گئی ہیں۔ 52000پرائمری اور ایلیمنٹری سکولوں میں موجود سکول کونسلز کے ذریعے 2814ملین روپے سکولوں کی تعمیر و مرمت پرصرف ہورہے ہیں۔ اعلیٰ کارکردگی پر اساتذہ کو 2 ارب روپے بطور انعام اور ایک لاکھ 9ہزار کنٹریکٹ اساتذہ کو ریگولر کیاجاچکاہے۔

صوبائی ہم آہنگی کے فروغ کے لئے 104بلوچی طالب علموں کو پنجاب کے سکولوںمیں داخلہ دیا گیاہے۔ رحیم یار خان، بہاولپور اور بہاولنگر میں دانش سکولز پہلے ہی قائم کئے جاچکے ہیں جبکہ مزید 5دانش سکول قائم کر کے کم آمدنی والے طبقے کے بچوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنایاجائے گا۔ حکومت نے اس ضمن میں تعلیمی اصلاحات کے پروگرام کے تحت سکولوں میں سہولیات کی فراہمی کے لئے 3 ارب روپے ، شکستہ حال سکول عمارات کی تعمیر نو کے لئے 54کروڑ روپے، سکولوں میں سائنسی تجربہ گاہوں کی فراہمی کے لئے ایک ارب روپے، سکولز کی اپ گریڈیشن اورزیادہ تعداد والے ہائی سکولز کو بہتر بنانے کے لئے چار ارب سے زائد مختص کئے گئے ہیں۔

اب اگر ہم ہائر ایجوکیشن کے حوالے سے حکومتی اقدامات پر نظر ڈالیں تو (ن) لیگ کی موجودہ حکومت نے کالج اساتذہ پیکج کے تحت 2000اساتذہ کوسالانہ فی کس 50ہزار روپے پر فارمنس الا¶نس، 125کالجوں کے اساتذہ کیلئے فی کس ریموٹ ایریا الا¶نس کیلئے 34.57روپے اور فی کس 950روپے موبلٹی الا¶نس کی ادائیگی کیلئے 98.86ملین روپے کی خطیر رقم کی منظوری دی ہوئی ہے۔25سال سے پروموشن کے منتظر 1100سے زائد لیکچررز کو اگلے گریڈ میں ترقی دی گئی ہے۔ محکمہ ہائر ایجوکیشن سول سیکرٹریٹ میں ون ونڈو سسٹم کا آغاز کیا گیا۔ گزشتہ سال میں 22نئے کالجوں کا قیام عمل میں لایا جاچکاہے۔ پانچ نئی یونیورسٹیوں کے قیام کے لئے 15ملین روپے کی خطیر رقم رکھی گئی ہے جس میں سے 4خواتین یونیورسٹیاں سیالکوٹ، بہاولپور، ملتان اور فیصل آباد میں قائم کی جائیں گی جبکہ ایک نئی غازی یونیورسٹی ڈی جی خان میں قائم کی جائے گی۔ اگلے مالی سال میں 10طالب علموں کو ترکی میں اعلیٰ تعلیم کے لئے بھجوایا جارہاہے۔  ٭

مزید :

کالم -