روزہ ثواب ہے ، عذاب بنانے کا فائدہ؟؟؟

روزہ ثواب ہے ، عذاب بنانے کا فائدہ؟؟؟
روزہ ثواب ہے ، عذاب بنانے کا فائدہ؟؟؟

  


گلوبل پنڈ ( محمد نواز طاہر) اس میں شک کی تو کوئی گنجائش ہی نہیں کہ ہر عبادت ، خاص طور پر نماز اور روزہ برائی سے بچاتے اور ڈسپلن سکھاتے ہیں ۔ یہ دونوں ہی قواعدوضوابط رکھتے ہیں جنہیں کسی طور توڑا نہیں جا سکتا۔ جب ایک قانون مان لیا تو باقی قوانین کی پابندی کی عادت خود بخود ہی پڑ جاتی ہے ۔ پریس کلب سے نکلتے ہوئے’ مادرِ علمی ‘ ریڈیو پاکستان پہنچنے تک میں ڈسپلن اور قوانین کے بارے میں ہی سوچ رہا تھا ۔ادھر ادھر گھومتے ہوئے میں ایک دوست کے کمرے میں پہنچا جس سے پہلی باقاعدہ ملاقات موجودہ حالات میں کوئی خوشگوار نہیں تھی کیونکہ جب میں اس کے کمرے میں گیاتب کنٹرول روم اور شعبہ خبر کے سوا تقریباً سارا ریڈیو خالی تھا ، میں نے دیکھا دفترے ماحول سے بے نیاز ایک شخص ٹانگیں پھیلائے کرسی پر ڈھیر تھا ، سوچا کتنا عجیب آدمی ہے کہ سارے لوگ گھروں کو جاچکے ہیں اور یہ یہیں پر قیمتی زندگی کاوقت ضائع کر رہا اور بند آنکھیں بھی موٹے کاغذ سے چھپا رکھی ہیں ؟ زرا آگے بڑھا تو بہت حیرانگی ہوئی کہ وہ احمر سہیل بسراءتھا اجوخشک ترین مضمون تاریخ کی کی کتاب پڑھ رہا تھا ، ندامت چھپاتے ہوئے میں نے فقرہ چست کیا ’ بھئی جٹاں دا منڈا تے پڑھائیاں‘ (یعنی جاتوں کے لرکے کا یہ اسقدر انہماک سے مطالعہ)جواب ملا ضرورت اور شوق پورا کرنے کیلئے یہی تھوڑا بہت وقت ملتا ہے، حیرت ہوئی کہ ابھی بھی سرکاری دفاتر میں مطالعہ زندہ ہے؟۔آج بھی جب میں اسی کے کمرے میں گیا تو بات روزے اور سحرو افطار کی ہو رہی تھی جس میں افطار کے وقت گھر پہنچنے کیلئے سڑکوں پر ٹریفک کے اودھم اور اشارے توڑنا زیربحث تھا ۔بتا رہے تھے کہ ٹرانسمیشن کا وقت بہت کم ،سڑک پر رش زیادہ تھا لیکن میں نے گاڑی کاا گلا پہیہ زیبرا کراسنگ سے یہ سوچ کر واپس کرلیا کہ میں روزے سے ہوں ، اگر اشارا توڑا تو روزہ بھی برقرار نہیں رہے گا کیونکہ روزہ غلط کاری سے روکتا ہے اور اشارہ توڑنا جرم کے ساتھ ساتھ غلط کاری بھی ہو جو اپنے علاوہ دوسروں کی زندگی کیلئے بھی خطرناک ہوسکتی ہے ۔یہ بحث طول پکڑ گئی لیکن ادھوری بحث میں بھی نتیجہ یہی اخذکیا گیا کہ جب روزہ رکھ کر ایک برائی سے بچا جاسکتا ہے تو پھر روزے کی تمام پابندیوں کا اپنی زات پر اطلاق کرنے سے تو معاشرہ دنوں میں سنوارا جاسکتا ہے ۔روزے کے مذہبی پہلو سے ہٹ کر سماجی پہلو پر بات ہوئی تو بسراءزرا محتاط ہوگیا ،میری کئی باتوں کو بکواس بھی قراردیا حالانکہ اس کا دل چاہتا تھا کہ میری اس بات اتفاق کرلے کہ اگر عبادات کو الگ کرکے دیکھا جائے اور اسلامی تعلیمات کو صرف مسلمانوں کی میراث ہی قرار نہ دیا جائے ، باقی اسلامی احکامات میں سے صرف روزہ ہی پوری وح اور منشاءکے ساتھ اپنا لیا جائے تو تو مسلم و غیر مسلم سبھی لوگ قانون کی پابندی کے عادی ہوجائیں گے ۔رہی عبادت کی بات تو یہ ہر انسان کا انفرادی فعل ہے ، وہ اپنے خالق کو جیسے مرضی جواب دے جوکہ دینا پڑنا ہے ۔مجھے نصف گمراہ قراردیکر بسرا ءسٹوڈیو اور میں پریس کلب کی طرف چل پڑا لیکن راستے کے منظر بہت تکلیف دہ تھے ۔مجھے لگا ہر شخص ہی روزے کی منشاءکے برعکس اور برسرِ پیکار ہے ۔میری دانست کے مطابق روزہ فاقے اور صرف سحروافطار کے وقت خالی کنواں کوڑے کرکٹ کی طرح پُر کرنے کی طرح پیٹ اس قدر بھرنے کا نام نہیں کہ ہاضمہ بھی خراب ہوجائے ۔ہر چیز کے دام آسمان سے باتیں کر رہے تھے ۔جس سے پوچھو مہنگائی کا رونا ، سحرو افطار کے اخراجات اور عید کی تیاریوں کے بہانے پچاس روپے والی چیز نوے میں بیچ رہا تھا ۔ مہنگائی کے اس طوفان سے ماﺅف ہونے والے ذہن نے یہ بھی بھلادیا کہ رمضان ہے ۔اسی اثناءمیں ٹریفک کا سگنل سبز ہوا تو ساتھ ہی بیچ سڑک دوتین گاڑیوں والے الجھ پڑے کہ انہوں نے جلد گھر پہنچ کر افطاری کا اہتمام کرنا ہے اسلئے دوسروں کی پرواہ کیلئے بغیر اشارے اور ٹریفک کے اصولوں کو نظرانداز کیا جس سے گاڑیاں ہلکی سے ٹکرا گئیں لیکن رمضان کی برکت سے کوئی نقصان نہیں ہوا ۔تب مجھے یاد آیا کہ بزرگ قراردیا جانے والا ماہِ صیام برکتوں کے ساتھ چل رہا ہے ۔ پریس کلب پہنچنے تک بسراءکی یہ بات ذہم میں گونجتی رہی کہ اس نے زیبرا کراسنگ سے گاڑی کا پہیہ اسلئے پیچھے کرلیا تھا کہ یہ غلط کاری ہے جو روزے کی روح و منشاءکے خلاف ہے ۔اگر صرف روزہ ہی رکھ لیا جائے تو ڈسپلن آجاتاہے جو انسانیت کی فلاح اور معاشرتی بگاڑ سے بچنے کا باعث بن سکتا ہے ۔ ۔

مزید : بلاگ


loading...