حکومت پنجاب اور نوجوان نسل

حکومت پنجاب اور نوجوان نسل

  

11مئی2013ءکے الیکشن اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ پاکستان کے باشعور عوام نے بہترین اسلوب حکمرانی، یعنی گڈ گورننس کو ووٹ دیئے ہیں، جس میں نوجوان طبقے نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور مسلم لیگ (ن) کو ووٹ کاسٹ کیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف کی زیر قیادت مسلم لیگ(ن) پنجاب حکومت کی ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے کہ طرز حکمرانی کو بہتر سے بہتر بنایا جائے، حکومتی نظم و نسق اور پالیسیوں میں شفافیت اور میرٹ ہمیشہ سے مسلم لیگ(ن) کا طرہ¿ امتیاز رہا ہے۔ موجودہ دورِ حکومت مسلم لیگ(ن) اور حکومت پنجاب کے گزشتہ پانچ سال اس امر کی گواہی دے رہے ہیں کہ حکومت نے نوجوانوں کے لئے اَن گنت انقلابی منصوبوں کا آغاز کیا۔ حکومت پنجاب کے اَن گنت انقلاب مختصراً بیان کرتی ہوں۔ ان منصوبوں میں نوجوانوں کے لئے خصوصی انقلابی اقدامات کئے ۔ان منصوبوں میں نوجوانوں کو سود سے پاک قرضہ جات کی فراہمی، یلیو کیپ سکیم، گرین ٹریکٹر سکیم برائے ایگریکلچرل یوتھ اور نوجوان گریجوایٹس کے لئے انٹرن شپ پروگرام کے منصوبہ جات شامل ہیں۔ نوجوانوں کی بامقصد زندگی،اسے خوبصورت و خوشحال اور بامقصد زندگی گزارنے اور معاشرے کا کارآمد رکن بنانے کے لئے حکومت پنجاب نے نمایاں منصوبہ جات تشکیل دیئے ہیں، ان میں سے بیشتر کو حکومت پنجاب آئندہ مالی سال میں تقویت دے گی۔ ان منصوبہ جات کی افادیت کی وجہ سے ہمارا آج کا نوجوان مایوسیوں کے اندھیروں سے نکل کر ترقی اور نئی صبح کا آغاز کر رہا ہے۔

حکومت پنجاب نے صوبے میں مختلف سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں تربیت پانے والے بے روزگار ہنر مندوں کے لئے خود روزگار سکیم کا اجرا کیا۔ اس مقصد کے لئے اب تک پنجاب سمال انڈسٹری کارپوریشن کے ذریعے ایک لاکھ68ہزار سے زائد افراد کو تقریباً3ارب روپے کے سود سے پاک قرضے جاری کئے۔ ان قرضوں کے ذریعے اپنا روزگار شروع کرنے والوں میں خواتین کی شرح33فیصد رہی۔ آئندہ سال میں اس سکیم کو جاری رکھنے کے لئے حکومت پنجاب نے 3ارب روپے کی خطیر رقم مختص کرنے کی تجویز دی ہے۔ اِس سلسلے میں اسلامی ترقیاتی بنک سے تقریباً14کروڑ ڈالر کا مالی تعاون بھی حاصل ہونے کی توقع ظاہر کی ہے۔ اگر گزشتہ دورِ حکومت کی بات کی جائے تو نوجوانوں کو عملی تجربہ حاصل کرنے کے لئے سرکاری محکموں میں انٹرن شپ کروانے کا پروگرام شروع کیا تھا۔ انٹرن شپ کے مشاہرے کے طور پر زیر تربیت نوجوانوں کو سالانہ 10ہزار روپے حکومت ِ پنجاب ادا کرتی تھی۔ موجودہ حکومت نے اعلان کیا کہ وہ گزشتہ دورِ حکومت کی طرح آئندہ مالی سال میں بھی اس پروگرام کو شامل رکھا جائے گا۔ اس مقصد کے لئے ایک ارب روپے، نیز50کروڑ کی رقم مختص کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ اس انٹرن شپ پروگرام میں خواتین کو50فیصد نمائندگی دینے کا اعلان، نیز ان نوجوانوں کو نجی اداروں میں تربیت کے لئے بھیجیں گے تاکہ وہ کوآپریٹو اور پرائیویٹ سیکٹر کے معمولات کو سمجھ کر اپنی عملی زندگی میں اس کا فائدہ اُٹھا سکیں۔تعلیم کا فروغ ہماری حکومت کی اولین ترجیح رہی ہے۔ گزشتہ پانچ سال میں خادم پنجاب کی قیادت میں ہماری حکومت نے تعلیم کو فروغ دیا اور انقلابی اقدامات اٹھائے۔ ایک طرف دانش سکولوں کے قیام کا منصوبہ حکومت ِ پنجاب کے اعلیٰ اور معیاری تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کرنے کی طرف اہم قدم ہے تو دوسری طرف تمام سرکاری سکولوں میں بہترین تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے لئے بھی اہم اقدامات کئے ہیں۔ معاشرے کے غریب طبقات کے بچوں کو اعلیٰ تعلیمی سہولتیں مہیا کرنا اہم قدم سمجھا گیا ہے۔ مجھے فخر ہے کہ حکومت پنجاب اس منصوبے کو لے کر آگے بڑھ رہی ہے۔ یہ منصوبہ معاشی اور سماجی ناہمواریوں کے شکار بے وسیلہ مگر ذہین اور قابل طلباءکو نئے مستقبل کی نوید ظاہر کر رہا ہے۔ حکومت پنجاب نوجوان نسل کے اقدامات کے سلسلے میں اب تک سات مختلف اضلاع میں14دانش سکول قائم کر چکی ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں دانش سکولوں کے قیام کے لئے3ارب روپے مختص کر دیئے گئے ہیں۔

مسلم لیگ(ن) کی حکومت کا عہد ہے کہ پنجاب کا کوئی ذہین اور باصلاحیت طالب علم محض مالی مشکلات کی وجہ سے اعلیٰ اور معیاری تعلیم سے محروم نہیں رہے گا۔ ہماری حکومت نے پانچ سال پہلے طلباءکی تعلیمی معاونت اور ترغیب کے لئے مستقل بنیادوں پر پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ کا قیام عمل میں لایا۔ یہ فنڈ سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر صرف اور صرف فروغ تعلیم کے لئے مختص کیا۔ اس فنڈ میں اب تک حکومت پنجاب نے9ارب روپے کی خطیر رقم مہیا کی ہے، جو پورے صوبے میں 50ہزار سے زائد طلباءکو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے میں مددگار ثابت ہو رہی ہے۔ حکومت پنجاب کا تعلیم کے فروغ کے لئے ایک اور اہم قدم ”پنجاب ایجوکیشنل فاﺅنڈیشن“ کا قیام ہے، جس میں پرائیویٹ سیکٹر کو تعلیم کے میدان میں حکومت کے شانہ بشانہ معیاری خدمات سرانجام دینے میں معاونت کی جاتی ہے۔پی ای ایف کی بدولت صوبے کے ہزاروں پرائیویٹ سکولوں میں13لاکھ سے زائد بچے سرکاری خرچ پر نجی سیکٹر کے سکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ رواں مالی سال میں پی ای ایف کے لئے6ارب 50کروڑ روپے کی خطر رقم مختص کر دی گئی ہے۔ خادم پنجاب کا کہنا ہے کہ ہمارا عزم ہے کہ صوبے کا کوئی ہونہار طالب علم مخص وسائل کی کمی کی وجہ سے معیاری تعلیم سے محروم نہ رہے، اس عزم کی تکمیل کے لئے نجی شعبہ جات نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ آج کی دُنیا انفارمیشن اور ٹیکنالوجی کی دُنیا ہے۔ دُنیا سمٹ کر ایک گلوبل ویلیج بن چکی ہے۔ گزشتہ دورِ حکومت میں طالب علموں میں انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کے لئے انقلابی اقدامات کئے۔

مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے نوجوان طالب علموں میں صرف میرٹ کی بنیاد پر لیپ ٹاپ تقسیم کئے۔ یہ انقلاب آفریں منصوبہ ہے۔ آج کا نوجوان طالب علم اس لیپ ٹاپ کو علمی مقاصد کے لئے استعمال کر کے اپنی استعداد کار میں اضافہ کر رہا ہے۔ اس منصوبے کی افادیت کے پیش نظر آئندہ مالی سال میں منصوبے کو جاری رکھا جائے گا اور اس مقصد کے لئے ایک ارب روپے کی رقم مختص کئے جانے کا امکان ہے۔ حکومت پنجاب نے نہ صرف بنیادی تعلیم کے لئے اہم اقدامات اٹھائے ہیں، بلکہ ہائیر ایجوکیشن کی ترقی اور فروغ کے لئے اہم اقدامات کر رہی ہے۔ موجودہ بجٹ اور آئندہ مالی سال میں ہائیر ایجوکیشن کے ترقیاتی منصوبوں کے لئے6ارب روپے نیز67کروڑ مختص کر دیئے۔ پنجاب حکومت نے نوجوانوں کے لئے یوتھ پالیسی سکیم کے تحت اپنے ملک کے روشن ستاروں کے لئے نمایاں کردار ادا کیا اور کروڑوں ارب روپے مالیت اپنی نوجوان نسل کے مستقبل کے لئے مختص کر دیئے۔

خدا کرے مری ارض پاک پہ اترے

وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو

مزید :

کالم -