مصر کا نام نہاد انقلاب اور اصل حقائق

مصر کا نام نہاد انقلاب اور اصل حقائق

مصر عالم اسلام کا ایک اہم اور عرب دنیا کا ایک قائد ملک ہے۔ مصر پر گزشتہ صدی کے وسط میں شاہی حکومت مسلط تھی۔ 1951ءمیں امام کی شہادت کو بنیاد بنا کر فوج نے بادشاہ کا تختہ اُلٹا اور جنرل نجیب ملک کے فوجی سربراہ کے طور پر سامنے آئے۔ سازشی ذہن کے افسران نے جمال عبدالناصر کی قیادت میں اپنے باس کے خلاف خفیہ منصوبہ بندی کر کے اسے اقتدا ر سے الگ کر دیا اور جمال عبدالناصر ملک کا صدر بن بیٹھا۔ 1951ءسے لے کر 2011ءتک پورے ساٹھ سال ملک میں یکے بعد دیگرے فوجی ڈکٹیٹر، جمال عبدالناصر (1952ءتا 1972ئ)، انوار السادات (1972ءتا 1981ئ) اور حسنی مبارک (1981ءتا 2011ئ) مسلط رہے۔ جمال عبدالناصر جو خود کو اپنی پوری ٹیم سمیت بڑے فخر سے ابنائے فراعنہ، یعنی فرعونوں کے فرزند کہا کرتا تھا، جب مرا تو لوگوں نے اس سے محبت کے بجائے نفرت کا اظہار کیا۔ اسی دور میں اسرائیل کے ہاتھوں مصر اور دیگر عرب ممالک کو بد ترین شکست ہوئی تھی۔ جمال عبدالناصر کے بعد انوارالسادات نے حکومت سنبھالی اور جمال عبدالناصر سے قدرے بہتر، مگر بحیثیت مجموعی اسی کی پالیسیوں کے مطابق حکومت چلا رہا تھا۔

انوارالسادات کو خالد استنبولی نے قتل کیا تو حسنی مبارک ملک پر قابض ہو گیا۔ یہ کرپٹ تریرین اور بد ترین حکمران ثابت ہوا۔ ظلم کے ان تینوں ادوار میں عبدالقادر عودہ اور ان کے چھ ساتھی (1954ئ) اور مفسر قرآن سید قطب شہید (1966ئ) میں پھانسی لگائے گئے، اخوان کے ہزاروں قائدین وکارکنان بیس بیس سال تک جیلوں میں گلتے رہے۔ بے شمار اخوانی ساتھی مختلف اوقات میں بڑی بے دردی سے ملک کے طول وعرض میں قتل کئے گئے۔ حسنی مبارک کے خلاف 2011ءمیںجب عوامی تحریک اٹھی اخوان المسلمون پوری قوم کے ساتھ شریک تھی۔ اخون المسلمون جمہوریت، اسلامی نظام اور بنیادی انسانی حقوق کا نعرہ بلند کیا۔ بے انتہا قربانیوں کے بعد میدان التحریر کی اس تحریک نے چار پانچ ماہ کی جدوجہد کے بعد منزل پالی۔ ڈکٹیٹر کا تختہ اµلٹ دیا گیا اور ملک میں عبوری نظام وجود میں آیا جس کے تحت انتخابات ہوئے۔ عبوری حکومت کا واضح طور پر سیکولر امیدواروں کے حق میں جھکاﺅ اور دینی طبقات، بالخصوص اخوان المسلمون کے خلاف متعصّبانہ کھل کر منظر عام پر آگیا تھا۔ مصری عوام کی تائید سے اخوان المسلمون پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے علاوہ صدارتی انتخابات کے بھی دوسرے مرحلے میں کامیابی سے ہمکنار ہو گئی۔ عالم کفر کو یہ بات سخت ناگوار تھی۔

عبوری حکومت فیلڈ مارشل محمد حسین طنطاوی کے عزائم بڑے خطر ناک تھے، وہ اخوان المسلمون کو حکومت میں آنے سے روکنے کا منصوبہ بنا چکا تھا۔ سیکولر عدلیہ بھی پوری طرح اس کے ساتھ تھی۔ منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی نے بڑی حکمت کے ساتھ اس نازک صورت حال کو کنٹرول کیا اور حلف اٹھانے میں کامیاب ہو گئے، پھر انہوں نے بڑی عقل مندی کے ساتھ محمد حسین طنطاوی جیسے بد عنوان اور بدنیت فیلڈ مارشل کو ہٹا کر اپنے خیال کے مطابق معتدل مزاج جرنیل عبدالفتاح السیسی کو اس کی جگہ فوج کا سربراہ مقرر کیا۔ صدر محمد مرسی کے حلف اٹھاتے ہی عالم کفر میں سازشیں شروع ہو گئی تھیں۔ انہی کے نتیجے میں مصر کے اندر تمام لا دین طبقات کو اکٹھا کیا گیا۔ مشرق وسطیٰ کے عرب ممالک کو بھی ان کی ساری ظاہری اسلام پسندی کے باوجود امریکی اشاروں پر نچایا گیا۔ یہ ساری قوتوں جن سیکولر اور منافقین نے اشتراک کر رکھا تھا، ابنائے اسلام کے خلاف متحد ہو گئیں۔ جنرل عبدالفتاح السیسی تو محض ایک ایجنٹ ہے، پردے کے پیچھے اور قوتیں ہیں، لیکن پردہ فاش ہو چکا ہے اور سب قوتیں بے نقاب ہو گئی ہیں۔ تقدس کے لبادے اوڑھنے والے بھی سامنے آ چکے ہیں۔

صدر محمد مرسی پر بھی دباو¿ ڈالا گیا کہ وہ استعفا دے دیں۔ ایسے موقع پر مادہ پرست حکمران اوسان خطا کر بیٹھے ہیں، مگر سلام عقیدت پیش کرتا ہوں اسلام کے اس عظیم فرزند کو، جس کی بندوقوں کی نالیوں کے سامنے سنگینوں کے سائے بے خوف ہو کر پوری استقامت کے ساتھ اعلان کیا کہ وہ ہر گز استعفا نہیں دے گا۔ وہ عوام کا منتخب صدر ہے، اسے گولی سے تو اڑایا جاسکتا ہے، مگر جھکایا نہیں جا سکتا۔ جب بھی کسی ملک میں فوجی انقلاب آیا تو بظاہر پاپولر حکمران خاموشی سے آمریت کے سامنے جھک گئے اور ان کی حمایت کے دعوے کرنے والے بھی چپ سادھے گھروں میں دبک گئے۔ ضیاءالحق کی بغاوت بمقابلہ بھٹو اور پرویز مشرف کی بغاوت بمقابلہ نواز شریف ہماری تاریخ کے وہ ابواب ہیں جن سے ساری قوم واقف ہے۔ دونوں مواقع پر تو نہ کوئی مارچ ہوئے تھے اور نہ ہی ریلیاں نکالی تھیں، اس کے برعکس مصر میں اب حالات دیکھ لیجیے کہ جن لوگوں نے قربانیاں دے کر آمریت کا خاتمہ کیا تھا۔ اس عالمی ریجنل اور مقامی گٹھ جوڑ کے خلاف سروں سے کفن باندھ کر میدان سے میں نکلے ہوئے ہیں۔

دو روز پہلے فجر کی نماز کے دوران نمازیوں پر جس بے رحمی کے ساتھ فوج سے فائرنگ کی، اس کے نتیجے میں اب 80 سے زائد فرزند اسلام شہید ہو چکے ہیں۔ نمازیوں پر فائرنگ کرنے والوں کو آپ کیا کہیں گے۔ اگر کچھ تقدس مآب حکومتیں ان ظالموں کی حمایت کررہی ہیں تو سوچئے کہ کل وہ اللہ کی عدالت میں وہ کیا جواب دیں گی؟ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے، یہاں کے لال دین طبقات تالیاں پیٹ رہے ہیں اور بغلیں بجا رہے ہیں۔ مجھے ان پر نہ کوئی تعجب ہے، نہ افسوس۔ ظاہر ہے کہ ان کے مخالف اقتدار سے محروم ہوئے تو انہیں خوش ہونا چاہئے۔ مَیں بلاخوف لومة لائم کہتا ہوں کہ اگر اسلام دشمن کہیں سقوط کا شکار ہوتے ہیں تو ہمیں بھی خوشی ہوتی ہے، لیکن ہم میں اور ان میں فرق یہ کہ وہ بھنگڑے ڈالتے ہیں اور ڈانس کرتے ہیں ہم اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ ظلم کا کوئی قلعہ مسمار ہو اور اس کی جگہ عدل و انصاف کا راستہ ہموار ہوا۔ البتہ یہ افسوس ناک ہے کہ بہت سے اینکر پرسنز اور کالم نگار تعصب کی عینک سے اندھے ہو چکے ہیں۔ صدر محمد مرسی کو نااہل، کم علم اور بے عقل قرار دینا، ان کی ایسی اختراع ہے،جسے کوئی بھی غیر جانب دار محقق درست قرار نہیں دے سکتا۔ صدر محمد مرسی نے اپنی ٹیم کے ساتھ سب طبقات کو اعتماد میں لیا۔ مخالفین کو بھی ہمیشہ مذاکرات کی دعوت دی اور ان کے مظاہروں کو قوت سے کچلنے کے بجائے جمہوری انداز میں ان کا مقابلہ کیا۔

اصل بات یہ ہے کہ اتنے طویل عرصے کے آمرانہ نظام اور وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی کرپشن کے ماحول میں راستہ بنانا آسان کام نہیں تھا، مگر مجھے یقین ہے کہ انشاءاللہ مصری عوام پہلے سے زیادہ بڑی تعداد میں اخوان کے پیچھے کھڑے ہوں گے۔ آزمائش و ابتلا کی ان گھڑیوں میں جو لوگ گھروں میں دبک جانے کے بجائے سروں سے کفن باندھنے میدان میں ڈٹے ہوئے ہیں ان کو کون شکست دے سکتا ہے۔غزہ کے مظلومین نے رفح کا راستہ کھل جانے پر سکھ کا سانس لیا تھا۔ آج پھر ظلم کے نظام نے اس راستے کو بند کر کے اسرائیل، امریکہ اور عالم کفر کو خوش کیا ہے اور اسلام پر جانیں قربان کرنے والوں کو عذاب میں مبتلا کیا ہے۔ یہ گھٹا ٹوپ اندھیرے انشاءاللہ چھٹیں گے اور حقیقی آزادی کا سورج ضرور طلوع ہو گا۔امریکہ کے ایجنٹ البرادی کو عبوری وزیراعظم مقرر کیا گیا ہے۔ یہ بیل منڈھے نہیں چڑھے گی۔ عبوری صدر عدلی منصور بدترین سیکولر جج ہے جو حسنی مبارک کی باقیات السیئات میں سے ہے، جن80شہداءکا جنازہ اُٹھا بڑی عمر کے شہدا کے بچے اور نوجوانوں کے والدین اور خ اندان جس استقامت کے ساتھ جنازوں کو کندھا دے ر ہے تھے، اسے دیکھ کر کوئی احمق ہی یہ کہہ سکتا ہے کہ ان اہل ِ حق کو شکست دی جا سکتی ہے۔ انشاءاللہ جہاں ظلم کے بڑے بڑے قلعے مسمار ہوئے ہیں، وہاں ریت کے یہ گھروندے بھی بہت جلد ہوا میں اڑ جا ئیں گے۔ خلیجی ممالک کے بزدل حکمران مصر کے موجودہ نظام ظلم کی حمایت کے لئے اربوں ڈالر پیش کر رہے ہیں۔ جب انسان کی بدقسمتی آتی ہے تو وہ خسارے کے سودے کرتا ہے۔ ترکی کے وزیراعظم اردگان کو سلام کہ اس نے نعرہ¿ حق بلند کیا ہے۔

بہ آن گروہ کہ از ساغرِ وفا مستند

سلامِ ما برسانید ہر کجا ہستند

مزید : کالم