پکچر ابھی باقی ہے میرے دوست ۔ ۔ ۔

پکچر ابھی باقی ہے میرے دوست ۔ ۔ ۔
 پکچر ابھی باقی ہے میرے دوست ۔ ۔ ۔

  


گلوبل پِنڈ ( محمد نواز طاہر)چھپ گئے تارے نظارے سار ے ۔ ۔۔اس گانے کا ردھم جتنا دل لبھانے والا ہے اسی طرح ماضی کے جھرونکوں میں چھپ جاﺅ اور چھپ جانا بھی بڑا رومانٹک لگتا ہے ۔جب رات گئے یا جلتی دوپہر میں مائیں چھوٹے بچوں کو ڈاکوﺅں کا نام لیکر کہا کرتی تھیں کہ فلاں ڈاکو آگیا ، چھپ جاﺅ اور بچے بیچارے سہم جایا کرتے تھے ۔ دیہات میں ڈاکوﺅں کی داستانیں عام تھیں ، شہروں میں ڈاکے کم پڑتے تھے ، اس طرح ڈاکوﺅں کے بارے میں ہم پینڈوُ لوگ شہری بابوﺅں سے بہتر معلومات رکھتے تھے ۔شہری بابوﺅں کیلئے تو فلم انڈسٹری ہی ’وکی پیڈیا‘ بنی ۔ جہاں تک یاد پڑتا ہے پاکستانی فلم انڈسٹری میں ’ڈاکو کی لڑکی‘ پہلی فلم تھی جس میں فلم کا نام ڈاکو سے شروع ہوا ۔ اس کے بعد سلطانہ ڈاکو ، بہرام ڈاکو وغیرہ کئی فلمیں بنئیں جبکہ بے شمار فلموں میں ڈاکوﺅں کے کردار دکھائے گئے ، کئی فلموں میں ڈاکوﺅں کو ہیرو کے طور پر بھی پیش کیا گیا اور ان عوامل کی نشاندہی بھی کی گئی جنہوں نے عام انسان کو ڈاکو بنانے پر مجبور کیا ، سماجی ومعاشی نا انصافی بنیادی عامل قرارپایا۔زیادہ تر یہی دکھایا گیا کہ بااثر افراد اور پولیس کا نظام ڈاکو بنانے کی مشین بنا۔ موجودہ حالات میں جبکہ با اثر افراد اور پولیس خود ڈاکوﺅں سے بڑی ڈاکو بن چکے ہیں تو انہوں نے ڈاکوﺅں کو بھی ساتھ ملا لیا ۔ اس طرح معاشی و سماجی نا انسافی برھنے سے ڈاکے دور دراز علاقوں سے شہروں میں داخل ہوگئے اور پھر کوئی گلی ،بازار، سڑک ، کچھ بھی محفوظ نہ رہا۔ڈاکوﺅں کی ہیبت اور ہیئت سب کچھ بدل گئے ۔اب تو یہ بھی پتہ نہیں چلتا کہ کہ کب دس بارہ سال کا بچہ تیس چالیس سال کے گھبرو کو چھوٹی سی ’نالی‘ دکھا کر حکم دے کے زمین پر لیٹ کر ناک سے لکیریں نکالو ۔ ۔ ۔ یہ نوخیز اور جدید ڈاکو ہیں جنہیں پولیس کی مدد حاصل ہے اور جیلیں ان کی تربیت گاہ ہیں۔ کچھ علاقوں میں ابھی بھی اصلی ڈاکو موجود ہیں ۔ سندھ پنجاب کے سرحدی علاقے ان کی سلطنت ہیں ۔پولیس ادھر کا رخ نہیں کرتی ،موت سب کو عزیز ہے ویسے بھی وہاں سے بھتہ نہیں ملتا تو جانے کا فائدہ؟ اس کے برعکس وہ خود جہاں چاہے ناکہ لگائے ، وردی بلا وردی جتنے مرضی ڈاکے مارے پوچھنے والا کون ہے؟ایک ڈاکہ زرا مختلف قسم کا ہے ، وہ اختیارات اور سفارش کا ، رشوت اس کی ماں ہے اور پولیس اس کی سگی اولاد ، انصاف اس کا سوتیلا بیٹا ہے ۔ اب انصاف خود اپنا راستہ بنا رہا ہے ۔ بے گناہوں کو چھڑانے کیلئے وہی راستہ اختیار کیا جا رہا ہے جو قانون استعمال کرتا ہے یعنی اگر کسی کے بیٹے نے کوئی جرم کیا ہے تو اس کے پورے خاندان کو پکڑ لیا۔ ڈاکو چھوٹو گینگ نے اپنی زمین پر قبضہ واگذار کرانے ، رشتے داروں کی رہائی کیلئے پولیس اہلکاروں کو اغواءکرلیا ہے ۔ اگرچہ اس گینگ نے بعض دوسری شرائط بھی رکھی ہیں لیکن اگر پہلی شرائط دیکھی جائیں تو یہ فلمی ہیرو کا کردار ہے ۔ یہ وہ فلمی کردار ہو کسی زمانے میں جج، جرنیل سیاستدان اور عوام سبھی پند کرتے رہے ہیں ۔ ان کرداروں کیپردہ سیمیں پر نمائش کا آغاز برطانوی دور کے ہیرو ڈاکوﺅں سے کیا گیا تھا ۔ ہمارا انصاف ، سماج ، پولیس اور باقی سارا نظام وہی ہے جو انگریز چھوڑ کر گیا تھا اور اپنے وڈیرے بھی مسلط کرگیا تھا ، ستم تو یہ ہے کہ اب اسلام کا نعرہ لگا کر بھی فرنگیانہ ظلم جاری ہے ۔ ۔ انصاف کے حصول کا انجام کیا ہوتا ہے ۔۔۔ پکچرابھی باقی ہے ۔ ۔ ۔  

مزید : بلاگ