کشمیر پر صرف مشرف کا موقف قابل قبول تھا، بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے سابق سربراہ نے تہلکہ خیز انکشاف کرڈالا

کشمیر پر صرف مشرف کا موقف قابل قبول تھا، بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے سابق ...
کشمیر پر صرف مشرف کا موقف قابل قبول تھا، بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے سابق سربراہ نے تہلکہ خیز انکشاف کرڈالا

  

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) سابق فوجی حکمران پرویز مشرف نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لیے کوئی درمیانی راستہ اختیار کرنا چاہتے تھے۔ ان کے اس بیان کے عین اگلے دن بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے سابق سربراہ اے ایس دلت کی طرف سے بیان سامنے آیا ہے کہ پرویز مشرف نے مسئلہ کشمیرکا جو حل تجویز کیا صرف وہی قابل قبول ہے۔ایک پاکستانی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے ایس اے دلت نے کہا کہ ’’پرویز مشرف نے کہا تھا کہ کشمیر کا جو حل کشمیری قبول کریں گے وہی اسلام آباد کو بھی قبول ہو گا۔‘‘انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تمام فریقین نے کشمیر کے حل کے لیے پرویز مشرف کے فارمولے کو آگے نہیں بڑھایا۔

مزید پڑھیں:مقبوضہ کشمیر‘ بھارتی فوج نے بے گناہ شہری کو درانداز قرار دے کر شہید کر دیا

ایک سوال کے جواب میں ایس اے دلت نے کہا کہ 2006-07ء میں پاکستان اور بھارت کو مسئلہ کشمیر طے کرنے کے کئی مواقع حاصل ہوئے لیکن ان سے فائدہ نہیں اٹھایا گیا اور جب میں پاکستان میں اپنے دوستوں سے پرویز مشرف کے فارمولے کے متعلق بات کرتا ہوں تو وہ اسے مسترد کر دیتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ اس وقت پرویز مشرف تن تنہاء فیصلے کر رہے تھے اور کسی کو اعتماد میں نہیں لیتے تھے۔

مزید : بین الاقوامی