دہشت گردی اور بیرونی ایجنسیاں

دہشت گردی اور بیرونی ایجنسیاں
دہشت گردی اور بیرونی ایجنسیاں

  

وطن عزیز کو درپیش مسائل میں سے سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی کاہے۔پاکستان میں جاری دہشت گردی کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں، بلکہ 9/11کے بعد جب افغان امریکہ جنگ میں پاکستان نے امریکہ کے فرنٹ لائن اتحادی کا کردار ادا کیا تو صلے میں ہمیں دہشت گردی کی کارروائیاں اور خودکش بم دھماکے ملے جو معمول کا حصہ بنتے گئے ،گزشتہ 15برسوں میں بم دھماکوں میں لگ بھگ سات ہزار افراد جاں بحق، جبکہ دہشت گردی اور خودکش دھماکوں میں مجموعی طور پر 70ہزار سے زائد پاکستانی لقمہ اجل بن چکے ہیں، اس کے علاوہ پاکستان تقریباً سو ارب کا معاشی نقصان بھی برداشت کر چکا ہے۔ دہشت گردی پر قابو پانے کے لئے گزشتہ برس جب پاک فوج نے آپریشن ضرب عضب شروع کیا تو ایک عرصے بعد پوری قوم نے سکھ کا سانس لیا۔

چیف آف آرمی سٹاف نے افغانستان کا ہنگامی دورہ کیا، جس میں اس حملے کے ماسٹر مائند ملا فضل اللہ کی حوالگی کا مطالبہ کیاگیا۔دو سال کے لئے ملٹری کورٹس کا قیام عمل میں لایا گیا، جس کا مقصد دہشت گردوں کو بلاتاخیر سزائیں دینا تھا ۔وزیراعظم کی قیادت میں تمام سیاسی جماعتیں بھی اکٹھی ہو گئیں اور دہشت گردی کے خلاف قومی ایکشن پلان بنایا گیا، جس پر عملدرآمد جاری ہے۔اس وقت دہشت گردی کی جڑیں کاٹنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ اس کے لئے اس بات کا تعین کرنا ہو گا کہ نائن الیون کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کو پروان چڑھانے والے دہشت گردوں کے پیچھے کون ہے ؟اس میں کوئی شک نہیں کہ ان دہشت گردوں کے تانے بانے پاکستان مخالف ایجنسیوں’’ را،موساد اور سی آئی اے ‘‘ سے جا کر ملتے ہیں۔ پاکستان کے امن کو سبوتاژ کرنے میں ان ایجنسیوں کے کردار کو کسی صورت میں بھی جھٹلایا نہیں جا سکتا ۔بلوچستان میں ’’را‘‘ کی کارروائیوں سے کون واقف نہیں ۔گزشتہ دنوں رونما ہونے والے سانحہ تربت میں بھی ’’را‘‘ کے ملوث ہونے کی اطلاعت ہیں ،جس پر آرمی چیف نے بھی واضح الفاظ میں کہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی میں بیرونی ایجنسیاں ملوث ہیں۔ پشاور واقعہ کا منصوبہ افغانستان میں بنا، جس میں ’’را ‘‘ ملوث تھی ۔

پاکستان نے امریکہ، برطانیہ اور بھارت کو ثبوت بھی فراہم کئے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کو بیرونی فنڈنگ ہوتی ہے، جسے روکنا ضروری ہے ،بھارت پاکستان دشمنی میں پیش پیش ہے جو نہ صرف ملک دشمن عناصر کی سرپرستی کر رہا ہے، بلکہ مشرقی محاذ پر جان بوجھ کر مسلسل حالات خراب کر رہا ہے ،تا کہ مغربی سرحدوں پر جاری آپریشن میں پاک فوج کی توجہ منقسم ہو سکے۔اس لئے ضروری ہے کہ پاکستان عالمی برادری پر بھارت کے اس کردار کوعیاں کرے۔ اب یہ ایجنسیاں اور ان کے آلہ کار پاکستان میں فرقہ واریت اور لسانیت کو ہوا دینے کے لئے حملے کروا رہے ہیں ،تا کہ قوم آپس میں دست وگریبان ہو جائے ، اس حوالے سے بھی ہم سب کو حا لات کی نزاکت کو سمجھنا ہو گا۔ہمارے سیکیورٹی وقانون نافذ کرنے والے اداروں ااور ایجنسیوں پر دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان حالات میں اپنے دائرہ کار کو مزید وسعت دیں ، کیونکہ دہشت گردی کے ممکنہ خطرے کی اطلاع تو پہلے دے دی جاتی ہے، لیکن ان لوگوں کے سہولت کاروں اور ٹریننگ دے کر بھیجنے والوں کو قابو کرنا نہایت ضروری ہے ۔

فوج کی جانب سے دہشت گردوں کے خلا ف گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے اور کامیابیوں سے ہمکنار آپریشن ضرب عضب میں نوے فیصد سے زائد علاقہ دہشت گردوں سے پاک کیا جا چکا ہے۔ پاک فوج نے دہشت گردوں کے مرکزی علاقوں اوردرہ مستول کا کنٹرول سنبھال لیا ہے، جس سے دہشت گردوں کا افغانستان میں فرار ہونے کا راستہ بند ہو چکا ہے جو خوش آئند ہے ۔ سرحد کے آر پار دہشت گردوں پر قابو پانے کے لئے پاکستان اور فغانستان میں مفاہمت ہو چکی ہے ،جس کے دور رس نتائج برآمد ہوں گے ۔وہ وقت دور نہیں، جب پاکستان میں خوشحالی وسلامتی ہو گی ۔ جہاں تک عوام کی بات ہے تو دہشت گردی فوج یا حکومت کا مسئلہ نہیں ، بلکہ بقول آرمی چیف عوام اپنی صفوں میں چھپے ملک دشمن عناصر کی نشاندہی کریں اور فوج کے شانہ بشانہ کام کریں،کیونکہ دہشت گردی کے خلاف ہماری جنگ ’’ابھی یا کبھی نہیں‘‘ کے والے حتمی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جسے ہر حال میں جیتنا ہے ۔ آخر میں اس دعا کے ساتھ اجازت :

خدا کرے میری ارض پاک پہ اترے

وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو

مزید : کالم