بزرگ نمازی کا مطالبہ

بزرگ نمازی کا مطالبہ
بزرگ نمازی کا مطالبہ

  

پانی زندگی ہے ،پانی کے بغیر انسان کا گزارہ مشکل ہے۔ عجیب بات ہے کہ مچھلی کی زندگی بھی پانی کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، اسی طرح لاتعداد آبی جانور بھی پانی سے ہی زندگی حاصل کرتے ہیں، ان آبی جانوروں کو اگر پانی سے دور کردیا جائے تو گویا زندگی سے دور کر دیا گیا ہے۔ حضرت انسان بھی پانی کی مچھلی ہے،صحراؤں اور پہاڑوں میں رہتے ہوئے آبی جانوروں کی طرح ہے۔ دنیا کی ہر نعمت حاصل ہونے کے باوجود پانی کے بغیر انسان کا گزارہ مشکل ہے۔ آج کل رمضان المبارک ہے، گرمی اپنے عروج پر ہے، دیسی ماہ ’’ھاڑ‘‘ کے بارے میں سرائیکی محاورہ ہے کہ:’’ھاڑ دی دھپ تے مَترئی دی مُک‘‘۔۔۔ یعنی (ھاڑ کی گرمی اور دھوپ ایسی ہے، جیسے سوتیلی ماں اپنے سوتیلے بیٹے کو طمانچہ مارے)

کہا جا سکتا ہے کہ اس وقت تمام روزہ دار ھاڑ جیسی سوتیلی ماں کے طمانچے برداشت کرنے کے باوجود اپنے ایمان کی طاقت سے خدا کے حکم کی تعمیل کر رہے ہیں۔ گزشتہ روز ایک بزرگ نمازی گرمی سے بے نیاز مسجد کی صفائی کرنے میں مصروف تھے۔ مَیں نے کہا بابا جی عصر کے بعد صفائی کر لینا، گرمی بہت ہے ، کچھ دیر آرام کر لو اور ’’ھاڑ‘‘ کی گرمی تو ویسے ہی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ بوڑھے نمازی نے جھاڑو ایک طرف رکھتے ہوئے کہا، بیٹے میری زندگی میں تین سے چار بار ’’ھاڑ‘‘ کے روزے آئے ہیں۔ الحمدللہ، اللہ نے توفیق دی ہے اور مَیں نے کبھی روزہ نہیں چھوڑا۔ بزرگ کی اس بات پر مَیں نے کہا بابا جی اس وقت زمانہ بہت ترقی کر گیا ہے۔ مسجدوں میں اے سی ،کولر اور پنکھے بھی لگے ہوئے ہیں، جن کی وجہ سے نمازی اور روزہ دار سکون محسوس کرتے ہیں۔ گھروں میں بھی لوگوں نے اپنی طاقت کے مطابق اے سی ،کولر یا پھر پنکھے تو لگائے ہوئے ہیں تو جس زمانے کی آپ بات کررہے ہیں، ان دنوں میں تو بجلی نہیں تھی ،پنکھوں کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، تو پھر آپ لوگ کیسے گزارہ کرتے تھے؟

بزرگ نمازی نے میری بات سنی اور کہا، سچ پوچھو تو اس زمانے کے روزے بہت سکون سے گزرتے تھے، ہم لوگ سحری کے بعد اپنے روزمرہ کے کاموں میں مشغول ہو جایا کرتے تھے، ان کاموں میں کھیتی باڑی سے لے کر محنت مزدوری کے بھی کام ہوتے تھے۔ ظہر کی نماز تک ہم اپنے سب کام ختم کردیتے تھے۔ ظہر کی نماز کے بعد ہم لوگ ٹاہلی یا بیری کے نیچے چارپائی بچھا کے آرام سے سو جایا کرتے تھے۔ بہت گرمی لگی تو ہاتھ والے پنکھے سے خو دکو گرمی سے بچاتے تھے، پانی جیسی نعمت وافر موجود تھی، نہر پر جا کے نہا لیا، پھر کپڑا گیلا کرکے سو جاتے تھے۔ سچ پوچھو تو بہت سکون تھا، کسی قسم کی پریشانی نہیں ہوتی تھی، جب سے بجلی آئی ہے، ہم جسمانی طور پر بہت کمزور ہو گئے ہیں، ہم نے پانی اور درختوں کے ساتھ اپنا تعلق توڑ دیا ہے، جب تک لوگ پانی اور درختوں کے ساتھ جڑے رہے، ماحول میں خوبصورتی رہی، انسان ہر موسم کے ساتھ لڑتا رہا، مگر جب سے ہم نے خود ساختہ زندگی اختیار کی ہے، ہمارے مسائل میں اضافہ ہوگیا ہے۔ انگریز کے دور میں پانی اور درختوں پر بھی بہت توجہ دی جاتی تھی۔ پاکستان کاکوئی شہر ایسا نہیں ہوگا، جہاں نہری نظام موجود نہ ہو۔ہر شہر میں ایک چھوٹی اور ایک بڑی نہر ضرور بنائی گئی تھی۔ ان نہروں کے ذریعے لوگوں کو ہر طرح کے فوائد حاصل ہوتے تھی ،پھر نہروں کے اردگرد درخت بھی لگائے جاتے تھے،تاکہ ماحول میں تازگی رہے۔

اس زمانے میں چھوٹے چھوٹے ڈیم (کنویں) بھی بنانے کا رواج تھا، ان چھوٹے چھوٹے ڈیموں کے ذریعے ہم لوگ بہت سے فائدے اٹھاتے تھے۔ اس وقت سارا بحران پانی کی وجہ سے ہے، ملک میں پانی کے ذخائر نہ ہونے کے برابر ہیں۔، ہم اس قدر مجبور ہو چکے ہیں کہ پینے کے پانی کے لئے بھی کوئی خاص انتظام موجود نہیں۔ ہم لوگوں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ پانی کے بل بھی آئیں گے اور پانی کی بوتلیں بھی بکیں گی، مگر یہ سب کچھ ہماری آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے ،اگر ہم نے ابھی سے اس کا بندوبست نہ کیا توصرف کراچی ہی نہیں، کسی بھی شہر میں گرم لو اور لوڈشیڈنگ کی وجہ سے کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ بزرگ نمازی نے انتہائی غمزدہ لہجے میں کہا کہ پاکستان کے سیاستدانوں کو خدا کا خوف کرنا چاہیے اور کم از کم ایسے معاملات میں سیاست نہیں کرنی چاہیے، جس کا تعلق پاکستان کے مفادات سے ہے۔ اب تم خود دیکھو کہ پشاور سے تعلق رکھنے والے واپڈا کے سابق چیئرمین شمس الملک نے کہا ہے کہ کالاباغ ڈیم کے منصوبے سے خیبرپختونخوا کا کوئی نقصان نہیں ہوگا، بلکہ زمینی حوالے سے پنجاب کا نقصان زیادہ ہوگا۔ انہوں نے ریفرنڈم کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ کالاباغ ڈیم کے حوالے سے ریفرنڈم کرایا جائے تو فیصلہ کالاباغ ڈیم کے حق میں آئے گا۔ پاکستان کے سیاستدانوں کو اس قومی منصوبے کے حوالے سے اپنے خیالات میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔

آصف علی زرداری اور اسفندیارولی خان کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے پر قومی کانفرنس بلائیں اور کالاباغ ڈیم کے حوالے سے اپنے سابقہ موقف میں ترمیم کریں اور یہ جائزہ لیں آیا کہ کالاباغ ڈیم کی تعمیر سے سندھ اور خیبرپختونخوا کے نقصانات اور فائدے کے اعدادوشمار کیا ہیں ،پھر ان رہنماؤں کو اس بات پر بھی غور کرنا چاہیے کہ پانی کی قلت کی وجہ سے اس ملک کے کروڑوں درخت مرجھا چکے ہیں، ہرے بھرے علاقے اجڑ چکے ہیں ،نئے درخت لگانے کے لئے پانی موجود نہیں ہے، اس طرح بجلی کا بحران بھی پانی کی وجہ سے ہے، اگر ملک میں چھوٹے بڑے ڈیم بنا دیئے جائیں تو کراچی کے بعد ملک کے دیگر شہروں کو بھی موسم کے عذاب سے بچایا جا سکتا ہے۔ پاکستان اس وقت پانی کے بحران کا شکار ہے۔ ہمارے آبی وسائل بھارت نے چھین رکھے ہیں، ملک میں موجود دریا ملکی ضروریات پورے کرنے کے قابل نہیں ہیں، ان حالات میں کالاباغ ڈیم جیسے منصوبے بھی اگر رخنہ بازی کی نذر کر دیئے گئے تو پھر اگلی نسل کی زندگی بہت دشوار ہوگی، اس لئے آنے والی نسلوں کو ایک خوشحال، ہرا بھرا، مہکتا ہوا اور پُرسکون پاکستان منتقل کرنا ہے تو پھر پانی کے حصول کے لئے جنگی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے، بصورت دیگر بجلی کا بحران ختم ہونے والا نہیں ہے اور اس کے نتیجے میں کسی بھی طرح کے جانی و مالی نقصان سے بچنے کا کوئی دوسرا طریقہ موجود نہیں ہے۔

مزید : کالم