اقتصادی راہداری کے خلاف ’’را‘‘ کی نئی سازش

اقتصادی راہداری کے خلاف ’’را‘‘ کی نئی سازش
 اقتصادی راہداری کے خلاف ’’را‘‘ کی نئی سازش

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

بھارت نے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ سبوتاژ کرنے اور اقتصادی راہداری منصوبے کو متنازعہ بنانے کے لئے 4 رکنی ٹیم پر مشتمل نیا سیٹ اپ تشکیل دیا ہے۔ بھارتی خفیہ ایجنسی نے انیل دھشمنا کی سربراہی میں 4 رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے، جسے اقتصادی راہداری کو متنازعہ بنانے کے لئے مختلف ٹاسک سونپے گئے ہیں۔ چار رکنی کمیٹی میجر جنرل راجیشو سنگھ، جے ایس رمیش ، ویوک جوہری پر مشتمل ہوگی۔ میجر جنرل راجیشو سنگھ کے ساتھ 2 جوائنٹ سیکرٹری بھی ہوں گے جو تمام عسکری امور کی نگرانی کریں گے۔ میجر جنرل راجیشو سنگھ کو اقتصادی راہداری منصوبے کو سبوتاژ کرنے کے لئے گوادر ایکسپریس وے پر دہشت گردانہ کارروائی کا ٹاسک سونپا گیا ہے۔جے ایس رمین کو بلوچستان میں منصوبے کو متنازعہ بنانے کے لئے ٹاسک سونپا گیا، جبکہ ویوک جوہری سندھ اور پنجاب میں اقتصادی منصوبے کو ناکام بنانے کے لئے اپنا حربے استعمال کریں گے۔ یہ4 رکنی ٹیم تمام کارروائیوں کی ایک جامع رپورٹ بھارتی خفیہ ایجنسی’’را‘‘ کو پیش کرے گی۔

پاکستان اور چین کی اقتصادی راہداری کو متنازع بنانے کے لئے بین الاقوامی سازشوں کا جال بچھایا جا رہا ہے۔ چینی سفیر اور دیگر ماہرین کا اصرار ہے کہ اس منصوبے کا فائدہ پورے پاکستان کو پہنچے گا۔ بعض عناصر جو پاکستان کے عوام کا مقدر بدلنے کی کوششوں میں رخنہ اندازی پر تلے ہیں، اس منصوبے کو متنازع بنانے اور اس میں کیڑے نکالنے پر تل گئے ہیں۔ پاک چین اکنامک کوریڈور ایک ایسا ترقیاتی پروگرام ہے جس کے تحت جنوبی پاکستان میں واقع گوادر کی بندرگاہ کو ہائی ویز، ریلوے اور پائپ لائنوں کے ذریعے چین کے جنو ب مغربی علاقے شن جیانگ سے مربوط کیا جا رہاہے۔پائپ لائنوں کے ذریعے تیل اور گیس کو دونوں ملکوں کے درمیان منتقل کیا جاسکے گا۔ چین اور پاکستان کی اعلیٰ قیادتیں اس منصوبے کی تکمیل میں ذاتی دلچسپی لے رہی ہیں۔اس لئے اس منصوبے پر تیزی سے پیش رفت جاری ہے۔

اس منصوبے کی تکمیل کے بعد چین، مشرق وسطیٰ اور افریقی ممالک کے مابین ہونے والی تجارت پاکستان کے راستے سے ہونے لگے گی اور اکنامک کوریڈور ان ممالک کی تجارت کے لئے مرکزی دروازے کی حیثیت اختیار کر لے گا۔ بالخصوص مڈل ایسٹ سے برآمد ہونے والا تیل گوادر کی بندر گاہ پر اترنے لگے گا ،کیونکہ گوادر کی بندرگاہ خلیج فارس کے دھانے پر واقع ہے،جبکہ اس تیل کی ترسیل پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے راستے سے چین کو ممکن ہوسکے گی۔ اس طرح مڈل ایسٹ سے چین کوروانہ کئے جانے والے تیل کی مسافت میں 12000کلو میٹر کی کمی واقع ہو جائے گی۔ پاکستان اور چین کے درمیان تعاون سب سے زیادہ کس ملک کو کھٹکتا ہے؟ اس کا آسان جواب موجود ہے ، بھارت اور اس کا سرپرست پاکستان کی معیشت کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں اور اقتصادی راہداری کی تعمیر کو رکوانا چاہتے ہیں۔ہمیں یہ نہیں بھولناچاہیے کہ اس سے قبل گوادر سمیت بعض منصوبوں پر چین کے انجینئر اور اہلکاروں پر حملے ہوئے ہیں۔ بعض واقعات میں ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔ یہ یقیناً ’’را‘‘ کے ایجنٹوں کی کارروائیاں تھیں، اب جبکہ اقتصادی راہداری جیسا عظیم منصوبہ شروع کیا جارہاہے جوپاکستان اور چین دونوں کے مفاد میں ہے۔ ہمیں’’را‘‘کی سازشوں اور ہتھکنڈوں سے محتاط رہنا ہوگا۔

’’ را‘ ‘نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں اپنی چین مخالف سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ ’’را‘‘ پاکستان میں چینی مفادات کو نقصان پہنچانا چاہتی ہے جس کے لئے وہ چینی باشندوں پر حملوں، ان کو اغوا جیسے اقدامات کر سکتی ہے، اسی لئے وزارت داخلہ نے چاروں صوبائی حکومتوں کو ہدایات دی ہیں کہ پاکستان میں مختلف سرکاری پراجیکٹ پر کام کرنے والے چینی ماہرین اور عملے کی سیکیورٹی سخت کر دی جائے اور ان کے گرد کسی غیر متعلقہ شخص کو جانے کی اجازت نہ دی جائے۔ بھارت، امریکہ اور دیگر ممالک پاکستان کے معاشی ترقی کے پروگرام کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں ،تاکہ پاکستان میں معاشی ترقی نہ ہو سکے ،کیونکہ اس اکنامک کوریڈور کے منصوبے سے پاکستان کی چین اور سینٹرل ایشیا تک رسائی ہو جائے گی ،اور اس منصوبے کی تکمیل کے بعد پاکستان کو اربوں ڈالر کی ٹرانزٹ فیس اس منصوبہ کے بعد ملے گی۔ گوادر پر اربوں روپے کی سرمایہ کاری ہوگی۔

اس کوریڈور نے پاکستانی کشمیر سے بھی گزرنا ہے، اس لئے بھارت نے اس منصوبے پر ناپسندیدگی کا اظہاربھی کر دیا ہے، بھارت کو خدشہ ہے کہ اس شاہراہ کی تعمیر سے پاکستان کی کشمیر میں عمل داری مزید مضبوط ہوجائے گی۔ مخالفین اسے چین کے مستقبل میں اپنے کو کسی بھی ممکنہ گھیراؤ سے بچانے اور تجارتی راستے کھلے رکھنے کے لئے نیپال، بنگلہ دیش، سری لنکا، پاکستان اور برما وغیرہ میں بندرگاہوں کی تعمیر اور سمندری سہولتوں کو حاصل کرنے کی کڑی سے منسلک سمجھتے ہیں۔ مغربی ماہرین ان بندرگاہوں اور سہولتوں کو موتیوں کی لڑی کہتے ہیں، جبکہ چین اسے میری ٹائم روٹ کا نام دیتا ہے۔ بھارت اسے اپنے گھیرنے کی چائنیز پالیسی سمجھتا ہے۔ سیاسی حلقوں کو بھی چاہیے کہ وہ حکومت دشمنی کے چکر میں اکنامک کوریڈور کے منصوبے پر بے جا تنقید نہ کریں، کیونکہ یہ منصوبہ کسی سیاسی پارٹی کا نہیں، ہمارے وطن عزیز پاکستان کی خوشحالی کا منصوبہ ہے اور مستقبل میں ہر پارٹی اور ہر حکومت کو اس کے ہمہ جہتی ثمرات سے قوم کو خوشحال بنانے میں مدد ملے گی۔ *

مزید : کالم