امریکہ میں شب و روز

امریکہ میں شب و روز
امریکہ میں شب و روز

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

امریکہ پہنچنے کے بعد جس بات نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ چار سالہ پاکستانی نژاد امریکی بچے کی معصوم سی حرکت تھی جو میرے جیسے پاکستانی کے لئے بھی سبق آموز تھی۔ یہ واقعہ ایک بازار میں پیش آیا جہاں اپنی ماں سے کافی ضد کے بعد بچے نے ایک لالی پاپ حاصل کر لیا اور کافی دیر تک مزے لے لے کر کھایا۔ لالی پاپ کا میٹھا حصہ ختم ہونے کے بعد جب ہاتھ میں صرف تنکا رہ گیا تو میں نے سوچا کہ وہ اسے کہیں اِدھر اُدھر پھینک دے گا۔ لیکن اس کی بجائے اس نے اپنے دادا کی انگلی پکڑی اور دور رکھے ہوئے ایک ڈسٹ بن تک (جسے یہاں ٹریش کین کہتے ہیں) لے گیا جو اس کے قد سے کافی اُونچا تھا چنانچہ اُس نے اپنے دادا سے وہ تنکا ٹریش کین میں پھینکنے کے لئے کہا اور میں سوچتا رہ گیا کہ کاش ہمارے ہاں بھی ایسا ہونے لگے۔ ہوگا، انشاء اللہ ضرور ہوگا میرے دل نے کہا ہمارے ہاں بھی بہتری کے آثار نظر آنے لگے ہیں، لیکن غربت اور جہالت کی دھول میں دکھائی نہیں دیتے۔ اُمید کی ان کرنوں میں سے ایک کا ذکر برخوردار بلال نے بے ساختگی سے اُس وقت کیا جب ایک محفل میں پاکستان کے سفارت خانوں کا ذکر ہو رہا تھا، جن کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ وہ عام پاکستانیوں کا خیال نہیں رکھتے۔

بلال نے بتایا کہ کیلیفورنیا میں میں مقیم پاکستانیوں کے لئے پاکستان کا قونصل خانہ لاس اینجلس میں واقع ہے جہاں وہ گزشتہ دنوں فوری ضرورت پڑنے پر نیا پاسپورٹ بنوانے گیا تھا کیونکہ اس کا پرانا پاسپورٹ ختم ہو رہا تھا۔ اُس نے بتایا کہ بلا کسی جان پہچان کے نیچے سے لے کر اوپر تک قونصل خانے کا عملہ بڑی خوش اخلاقی سے پیش آیا اور ہر مشکل دور کرنے میں بڑھ چڑھ کر مدد دی اور جلد از جلد پاسپورٹ بنا کر دینے کا وعدہ کیا۔ ارجنٹ پاسپورٹ کے لئے دو سے تین ہفتے کا ٹائم دیا گیا تھا، لیکن نیا مشینی پاسپورٹ جب اسے ایک ہی ہفتے میں ڈاک کے ذریعے گھر کے پتے پر موصول ہو گیا تو وہ حیران بھی ہوا اور خوش بھی۔ اُس نے بڑے فخر سے بتایا کہ اتنی پھرتی تو امریکہ والے بھی نہیں دکھاتے۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ پاسپورٹ کے سلسلے میں اس نے قونصل خانے سے جتنی دفعہ بھی ای میل کے ذریعے رابطہ کیا اسے فوراً تسلی بخش جواب ملا۔ اس پر محفل میں موجود ایک صاحب نے کہا کہ کچھ لوگ تو اب بھی قونصل خانے کے رویئے سے شاکی ہیں۔ اس پر بلال نے کہا کہ یقیناً ہوں گے کیونکہ وہاں بھی اسے کچھ ایسے پاکستانی بھائی نظر آئے تھے جن کے کاغذات نا مکمل تھے یا اُن میں کمی بیشی تھی، لیکن وہ قونصلیٹ کے اہلکاروں کی مجبوری کو سمجھنے کے بجائے ان سے حد سے بڑھ کر مہربانی کا تقاضا کر رہے تھے۔

واضح رہے کہ لاس اینجلس میں پاکستانی قونصل خانہ کیلیفورنیا سمیت ایک دوسرے سے منسلک امریکہ کی گیارہ ریاستوں میں پاکستانیوں کے لئے قائم کیا گیا ہے۔ ان ریاستوں کا رقبہ پاکستان سے چار گنا زیادہ جبکہ آبادی پاکستان کی نسبت ایک تہائی ہے۔ لاس اینجلس آبادی کے لحاظ سے امریکہ کا دوسرا بڑا شہر ہے اس کی اور بھی بہت سی خوبیاں ہیں، لیکن سب سے زیادہ یہ دنیا میں فلموں کے سب سے بڑے مرکز ہالی وڈ کے حوالے سے پہچانا جاتا ہے۔ کیلیفورنیا میں سلیکون ویلی سے لاس اینجلس تک کا فاصلہ تقریباً اتنا ہی ہے جتنا ملتان سے اسلام آباد کا یعنی تقریباً 600 کلومیٹر لیکن سڑکیں عمدہ اور چوڑی ہونے اور ٹریفک کے قوانین پر سختی سے عمل درآمد ہونے کے سبب یہ فاصلہ پانچ چھ گھنٹے میں طے ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں سڑکوں پر اس نوعیت کا ماحول موٹر وے پر نظر آتا ہے۔ جہاں ٹریفک ڈسپلن کی سختی سے پابندی پر مجھے اس وقت یقین آیا جب برادر خورد نے جو فوج میں اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں بتایا کہ وہ سرکاری میٹنگ میں شرکت کے لئے اسلام آباد جا رہے تھے اور وقت کی کمی کے باعث رفتار بڑھا رکھی تھی کہ ہائی وے پولیس نے روک لیا۔ انہوں نے یونیفارم پہنی ہوئی تھی اور یہ بھی بتایا کہ سرکاری میٹنگ میں پہنچنے کی جلدی ہے۔

پولیس افسر نے بڑے ادب اور انکساری سے ٹکٹ ان کے ہاتھ میں پکڑا دیا۔ شاید وہ یہ کہنا چاہ رہا تھا کہ آپ قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں آپ کی جان دوسروں سے بھی زیادہ قیمتی ہے۔ اس لئے ہمارا فرض ہے کہ آپ کا زیادہ خیال رکھیں اور نہ تو آپ کو اپنی جان اور نہ ہی دوسروں کی جان خطرے میں ڈالنے دیں۔ امریکہ میں ہر شخص کی جان کی اہمیت کے پیش نظر ٹریفک کے قوانین کی سختی سے پابندی کی جاتی ہے اور خلاف ورزی کرنے والے کو نہ صرف چابک دستی سے پکڑا جاتا ہے بلکہ اتنا بھاری جرمانہ کیا جاتا ہے کہ آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں۔ یہاں حادثات کے امکانات اس لئے بھی زیادہ ہیں نہ صرف یہ کہ گاڑیاں تیز چلتی ہیں، بلکہ 35 کروڑ آبادی کے ملک میں 25 کروڑ سے زائد گاڑیاں ہیں، بلکہ ایک رپورٹ کے مطابق گاڑیوں کی تعداد لائسنس یافتہ ڈرائیوروں سے زیادہ ہے، یعنی یہ کہ بہت سے لوگوں نے ایک سے زیادہ گاڑیاں رکھی ہوئی ہیں۔ ویسے تو پاکستان میں بھی گاڑیوں کی تعداد لائنس یافتہ ڈرائیوروں سے کہیں زیادہ بلکہ بہت زیادہ ہے، لیکن ہمارا کمال یہ ہے کہ ہمارے ہاں اکثر لوگ بغیر لائسنس کے یا جعلی لائسنس پر گاڑی چلاتے ہیں اور آئے دن کے حادثات میں اپنی اور دوسروں کی جان گنواتے ہیں۔ ہمارے معاشرے کا یہ ایک دائمی مرض ہے جس کا بظاہر کوئی علاج نظر نہیں آتا ہاں البتہ اگر عمران خاں یہ کام کر دیں کہ صوبہ سرحد میں کوئی شخص بغیر اصلی لائسنس کے گاڑی نہ چلا سکے تو محض اسی بات پر آئندہ الیکشن میں کم از کم میرا ووٹ ان کے لئے پکا ہے۔!! *

مزید : کالم