آج کی تراویح میں پڑھے جانے والے قرآنِ پاک کی تفہیم

آج کی تراویح میں پڑھے جانے والے قرآنِ پاک کی تفہیم
آج کی تراویح میں پڑھے جانے والے قرآنِ پاک کی تفہیم

  

سورۃ الھمزہ:104 ویں سورت

مکی سورت ہے، جس کی 9 آیات ہیں (انتیسواں رکوع) نزول کے اعتبار سے بتیسویں سورت ہے۔پہلی آیت کا لفظ ’’ھمزہ‘‘ نام قرار پایا۔مکہ کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی۔چند اخلاقی برائیوں کی مذمت ’’اس کا مضمون ہے‘‘۔جو مال جوڑ جوڑ کر اور گن گن کر رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان کا مال دنیا میں انہیں مرنے نہیں دے گا،وہ لوگ مال کی محبت میں مست ہیں اور عمل صالح کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔ایسے لوگ جہنم میں اس جگہ ہوں گے جہاں ان کی ہڈیاں پسلیاں آگ سے گل جائینگی۔

سورۃ الفیل:105 ویں سورت

مکی سورت ہے جس کی پانچ آیات ہیں۔ نام پہلی آیت کے لفظ ’اصحاب الفیل‘ سے ماخوذ ہے،اس سورت میں ابرہہ کے بیت اللہ پر حملے کی جسارت اور پھر اس کے انجام کا واقعہ مذکور ہے۔یمن کے اس حاکم ابرہہ (یا ابرہام یا ابرمس) نے 570ء یا 571ء میں ساٹھ ہزار فوج اور 13یا 9 ہاتھیوں) کے ساتھ بیت اللہ کو گرانے کی نیت سے مکہ پر فوج کشی کی، اللہ نے اس کو ابابیلوں سے خاک میں ملا دیا۔ابرہہ، یمن و حبشہ کا بادشاہ تھا،اس نے صنعاء میں ایک عبادت خانہ بنایا تھا، جہاں وہ چاہتا تھا کہ تمام لوگ عبادت کرنے آئیں اور مکہ کو چھوڑ دیں۔ فرمایا : اے میرے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم !کیا آپؐ نے نہیں دیکھا کہ آپؐ کے رب نے ان ہاتھیوں والوں کا کیا حال کیا، کیا ان کا داؤ تباہ نہیں ہوا اور ان لوگوں پر پرندوں کی ٹکڑیاں بھیجیں جو ان لوگوں پر کنکر کے پتھروں سے حملہ کرتیں اور آخر ان لوگوں کو اس طرح تباہ کر دیا جس طرح کھائی ہوئی کھیتی کی پتی ہوتی ہے۔ اس واقعے سے پچاس دن کے بعد حضور انورﷺ کی ولادت ہوئی تھی۔

سورۃ القریش:106 ویں سورت

مکی سورت ہے، اس کی 4 آیات ہیں۔ پہلی ہی آیت کے لفظ ’’قریش‘‘ کو نام قرار دیا گیا۔سورۂ فیل کے مضمون سے اس کا گہرا تعلق دکھائی دیتا ہے۔اس سورت کی فضیلت میں حضورانورﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے قریشیوں کو سات فضیلتیں دی ہیں (1) ایک یہ کہ مَیں ان میں سے ہوں۔ (2) دوسرے یہ کہ نبوت ان میں ہے۔ (3)تیسرے یہ کہ یہ بیت اللہ کے پاسبان ہیں۔(4) چوتھے یہ کہ یہ چاہ زم زم کے ساقی ہیں۔(5) پانچویں یہ کہ خدا نے انہیں ہاتھیوں والوں پر غالب کیا۔ (6) چھٹے یہ کہ انہوں نے دس سال تک اللہ کی عبادت کی ،جبکہ کوئی اور عبادت نہیں کرتا تھا۔(7) ساتویں یہ کہ ان کے بارے میں یہ سورت نازل ہوئی۔ پھر حضور انورﷺ نے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر یہ سورہ تلاوت فرمائی۔حضور انورﷺ نے یوں بھی ارشاد فرمایا ہے کہ اے قریشیو! تمہیں اللہ تعالیٰ یوں راحت و آرام پہنچائے کہ گھر بیٹھے کھلائے پلائے۔ چاروں طرف بدامنی کی آگ کے شعلے بھڑک رہے ہوں اور وہ تمہیں امن وامان سے میٹھی نیند سلائے، پھر تم پر کیا مصیبت ہے جو تم اپنے پروردگار کی توحید سے جی چراؤ اور اس کی عبادت میں دل نہ لگاؤ، بلکہ اس کے سوا دوسروں کے آگے سر جھکاؤ۔

سورۃ الماعون:107 سورت

یہ سورت مکی ہے، جس کی سات آیات ہیں۔آخری آیت کے آخری لفظ ’’الماعون‘‘ کو نام قرار دیا گیا۔یہ سورت عاص بن وائل اور عبداللہ بن ابی کے بارے میں نازل ہوئی کہ یہ لوگ یتیم کو دھکے دے کر نکال دیتے تھے اور مسکین کو کھانا نہیں دیتے تھے یا لوگوں کو دھوکا دینے کے لئے منافقانہ طور پر نماز پڑھتے تھے۔ نسائی ؒ کی حدیث ہے کہ ہر نیک چیز صدقہ ہے۔ ڈول اور ہانڈی یا پتیلی مانگنے پر دینے کو ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ماعون سے تعبیر کرتے تھے۔ غرض کہ اس کے معنی (1) زکوٰۃ نہ دینے کے (2) اطاعت نہ کرنے کے اور (3) مانگی چیز نہ دینے کے ہیں۔علی نمیریؓ فرماتے ہیں کہ مَیں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپؐ نے فرمایا کہ مسلمان کا مسلمان بھائی ہے، جب ملے سلام کرے، جب سلام کرے تو بہتر جواب دے اور ماعون کا انکار نہ کرے، مَیں نے پوچھا حضورﷺماعون کیا ہے؟فرمایا پتھر، لوہا اور اسی طرح کی معمولی چیزیں۔

سورۃ الکوثر:108 ویں سورت

مکی سورت ہے، جس کی صرف تین آیات ہیں۔(قرآن پاک کی سب سے چھوٹی سورت ہے) پہلی آیت کے لفظ کوثر کو نام قرار دیا گیا۔اس سورت میں رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو عظیم خوشخبری دی گئی ہے:’’اے میرے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ نے آپؐ کو بیشمار خوبیاں (خیر کثیر) عطا فرمائی ہیں۔آپؐ اپنے رب کی نماز پڑھیے اور قربانی کیجئے۔بیشک وہ شخص جو آپؐ کا دشمن ہے وہی بے نام و نشان ہے‘‘۔اس سورۂ مبارکہ میں کوثر اور کثیر نعمتوں کے عطا کئے جانے کا ذکر ہے اورعطا کی ہوئی چیز واپس نہیں لی جاتی اور نہ اس پر عطا کرنے والے کا حق ہوتا ہے۔ اس طرح حوض کوثر اور کثیر نعمتیں جو حضورﷺ کو عطا ہوئی ہیں کو حاصل کرنے والا ہی اولاد میں شمار ہوتا ہے‘‘۔

سورۃالکافرون: 109 ویں سورت

مکی سورت ہے ،جس کی چھ آیات ہیں، پہلی آیت ’’قل یا ایھا الکافرون‘‘ سے نام لیاگیا ہے، جمہور مفسرین کے مطابق مکی سورت ہے۔دین کفر اور دین اسلام کے درمیان فرق کو واضح کرنے اور توحید کو شرک کی آمیزش سے پاک رکھنے کا سبق دیا گیا ہے۔سورۂ مبارکہ کا ترجمہ یہ ہے کہ ’’آپؐ فرما دیں کہ اے کافرو! نہ مَیں پوجتا ہوں جو تم پوجتے ہو اور نہ تم پوجتے ہو جو میں پوجتا ہوں اور نہ میں پوجوں گا جو تم نے پوجا اور نہ تم پوجو گے جو مَیں پوجتا ہوں۔تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور مجھے میرا دین۔‘‘

سورۃ النصر:110 ویں سورت

مدنی سورت ہے، جس کی تین آیات ہیں، نام پہلی آیت کے لفظ النصر سے لیاگیا۔حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ ’’یہ قرآن مجید کی آخری سورت ہے‘‘۔یعنی اس کے بعد کوئی مکمل سورت نازل نہیں ہوئی۔ (البتہ بعض آیات مثلاً الیوم اکملت لکم والی آیت نازل ہوئی)۔اس سورت کے نازل ہونے کے بعد صحابہ کرامؓ نے سمجھ لیا تھا کہ دین کامل مکمل ہو گیا اور اب حضورﷺ زیادہ عرصے تک دنیا میں تشریف نہیں رکھیں گے۔ اس سورت کو سن کر حضرت ابوبکر صدیقؓ نے روتے ہوئے عرض کیا: آپؐ پر ہماری جانیں، ہمارے مال، ہمارے ماں باپ، ہماری اولادیں سب قربان۔سورۂ مبارکہ کا ترجمہ یہ ہے کہ ’’جب اللہ کی مدد اور فتح آئے (یعنی فتح مکہ ہو کر رہے گی) اور لوگوں کو آپؐ دیکھیں کہ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہوتے ہیں تو اپنے رب کی ثناء کرتے ہوئے اس کی تسبیح کیجئے اور اس سے بخشش چاہئے،بیشک وہ بہت توبہ قبول کرنے والا ہے‘‘۔اس سورت کے نزول کے بعد کثرت سے لوگ مسلمان ہوئے اور ہر قبیلے نے اسلام قبول کیا اور حضور انورﷺ بکثرت یہ تسبیح پڑھتے تھے۔سبحان اللہ و بحمدہ استغفراللہ واتوب الیہ۔۔۔اور (سبحانک اللھم ربنا و بحمدک اللھم اغفرلی)

سورۃ اللھب: 111 ویں سورت

مکی سورت ہے، جس کی پانچ آیات ہیں۔ پہلی آیت کے لفظ ’’لھب‘‘ کو نام قرار دیا گیا۔ غالباً یہ سورت اس وقت نازل ہوئی جب رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے خاندان کا قریش نے مقاطعہ کر دیا تھا۔ سورت میں ابولہب کی مخالفت کا ذکر ہے۔ ابولہب پہلا شخص تھا جس نے دعوت اسلام کی مخالفت کی۔ (حالانکہ وہ رشتے میں آپؐ کا سگا چچا تھا اور اس نے آپؐ کی پیدائش کی خوشی بھی منائی تھی، مگر اسلام کی دعوت قبول نہ کرنے کے باعث تباہ ہو گیا)جب حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو مَیں تمہیں خدا کے سخت عذابوں کے آنے کی خبر دے رہا ہوں۔ تو ابولہب کہنے لگا کہ ’’تو ہلاک ہو، کیا تو نے اسی لئے ہم لوگوں کو جمع کیا تھا ‘‘؟ پھر وہ ہاتھ جھاڑتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔ اللہ پاک نے فرمایا: ’’ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ جائیں اور وہ خود ہلاک ہو گیا۔ نہ تو اس کا مال اس کے کام آیا اور نہ اس کی کمائی۔ وہ عنقریب بھڑکتی ہوئی آگ میں جائے گا اور اس کی بیوی بھی جائے گی۔ *

مزید : کالم