پاک بھارت تعلقات ماضی کے آئینے میں توقعات!

پاک بھارت تعلقات ماضی کے آئینے میں توقعات!
پاک بھارت تعلقات ماضی کے آئینے میں توقعات!

  

لاہور پریس کلب اور چندی گڑھ پریس کلب کے درمیان وفود کا تبادلہ اور مجالس مذاکرہ کا بھی اہتمام ہوتا ہے۔ ایک بار اِدھر سے وفد اُس پار جاتا اور جواب میں چندی گڑھ پریس کلب والے لاہور آتے ہیں، یوں صحافتی دُنیا میں یہ بھی ایک تعلق بن گیا ہوا ہے۔ ایک وفد میں ہم بھی چندی گڑھ گئے، جب نوین ایس گریوال صدر تھے، بہت اچھا دورہ تھا، سیمینار بھی بہتر رہا، اُن دِنوں وہاں کانگرس برسر اقتدار تھی اور پاکستان کے صوبہ سندھ میں ایک ہندو ڈاکٹر کے قتل کا واقعہ پیش آ چکا تھا، بھارتی پریس نے اسے اقلیتوں خصوصاً ہندو اقلیت پر ظلم، بلکہ ریاستی ظلم کا مسئلہ بنایا ہوا تھا، حالانکہ ہمارے وہاں پہنچنے تک یہ کیس حل ہو چکا اور ذاتی دشمنی کا مسئلہ تھا، اس کے باوجود پاکستان مخالف پروپیگنڈہ جاری تھا، تاہم پریس کلب میں اس کے اثرات نہیں تھے، سبھی صحافی حقائق سے آگاہ تھے کہ یہ سب پروپیگنڈہ ہے، اس کے باوجود بی جے پی کے دو درجن کے قریب کارکنوں نے چندی گڑھ پریس کلب کے باہر پاکستان مخالف مظاہرہ کر دیا تھا، اس کے باعث چندی گڑھ انتظامیہ کو ہماری سواریوں کی آمد و رفت کے لئے پولیس کی ایک گاڑی ساتھ رکھنا پڑی۔

پریس کلب میں سیمینار کے دوران حقیقت پسندی کا مظاہرہ ہوا اور جرنلسٹ دوستوں نے میڈیا مالکان کی پالیسی اور سرکاری پروپیگنڈے کا پول کھولا، اس اجتماع میں ایک تجویز یہ بھی پیش ہوئی، جسے بہت پذیرائی ملی کہ جرنلسٹ اس پروپیگنڈہ مہم کا حصہ بننے سے بچنے کی کوشش کریں اور اس امرکو ممکن بنائیں کہ اس کشمکش یا کھینچا تانی کے دوران سچی خبر بھی دے دیا کریں۔

یہ واحد موقع نہیں، جب بھارت جانے اور ہم پیشہ دوستوں سے تبادلہ خیال کا موقع ملا، کم از کم چار مرتبہ تو ہم ورلڈ پنجابی کانگرس کے وفد میں شامل رہے، جو چیئرمین فخر زمان کی قیادت میں جاتا تھا، اس میں کانگرس کے عہدیداروں میں اعزاز احمد آذر اور افضال شاہد (مرحوم) کے علاوہ شوکت علی شوکت اور بڑے بڑے نامور ادیب بھی ہوتے تھے۔ اعزاز احمد آذر جن کا حال ہی میں انتقال ہوا، اچھے مقرر اور شاعر بھی تھے، اور ورلڈ پنجابی کانگرس میں افضال شاہد اور اعزاز احمد آذر کو خصوصی اہمیت حاصل تھی اور وہ دونوں عہدیدار بھی تھے، ہمیں اپنا پہلا پھیرا یاد ہے جب میزبانی کے لئے کروک شیتر یونیورسٹی کو چُنا گیا تھا، ورلڈ پنجابی کانگرس کے بھارتی عہدیداروں نے تعاون حاصل کیا تھا۔ کروک شیتر ہندوؤں کا ایک مقدس شہر ہے جس کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کی حدود میں شراب یا کوئی دوسرا نشہ ممنوع ہے، حالانکہ پورے بھارت میں ایسی کوئی پابندی نہیں۔ ہمیں بتایا گیا کہ اِسی شہر کے ایک حصے میں کورو، پانڈو کی فیصلہ کن جنگ ہوئی اور یہاں ایک مقدس تالاب بھی ہے، جس میں نہا کر یہ حضرات پوتر ہوتے ہیں۔

کروک شیتر یونیورسٹی اور میزبان انتظامیہ اور رابطے والے قریباً سبھی پروفیسر تھے، جن میں پی ایچ ڈی ڈاکٹر حضرات کی تعداد زیادہ تھی، چنانچہ کانفرنس کے جتنے اجلاس ہوئے ان میں ڈپلومیٹ بلائے گئے تھے اور مقررین بھی بڑے بڑے سکالر تھے اور مقابلے کی تقریریں تھیں۔ فخر زمان تو بہرحال دانشور اور سیاسی شہرت کے بھی مالک ہیں، تاہم اعزاز احمد آذر نے یہاں بھری محفل میں دلائل کے ساتھ اپنے موقف کا دفاع کیا۔خصوصی بات یہ تھی اور شاید اب بھی ہے کہ بھارتی دانشور حضرات تک دوستی کے لئے لکیر (سرحد) ختم کرانے کی بات کرتے ہیں، ہم لوگوں کو ہمیشہ یہ فکر دامن گیر رہتی کہ اس فلسفے یا تجویز کا جواب دینا ہے۔ اعزاز احمد آذر نے کروک شیتر یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں ایک خوبصورت اور مدلل تقریر کی اور ان حضرات کو باور کرایا کہ یہ لکیر کسی کچے کوئلے کی نہیں، خون کے دریا بہنے کے بعد بنی اور اس کے لئے بے شمار قربانیاں بھی دی گئیں۔ یہ تو اب بین الاقوامی سرحد ہے، جسے رہنا ہے، لہٰذا پاک بھارت تعلقات اس کے ہوتے ہوئے ہی بہتر ہونا چاہئیں اور ہو سکتے ہیں کہ ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کیا جائے۔

افضال شاہد بھی کم و بیش اسی موقف کا اظہار کرتے اور ہم کو بھی جہاں گفتگو اور تبادلہ خیال کا موقع ملا ہم نے بھی اِسی موقف کو ایسے ہی دلائل سے دہرایا، حتیٰ کہ پریس کلب والے دورے کے دور ان چندی گڑھ میں پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹس کی بار ایسوسی ایشنوں کے مشترکہ اجلاس میں تقریر کا موقع ملا تو وہاں بھی ہم نے قانون دان حضرات سے یہی عرض کیا کہ بین الاقوامی سرحد تو آئینی اور قانوی لکیر ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے تعلقات کو بہتر طور پر استوار کرنا ہے۔

یہ سب کچھ ہمیں روس کے شہر اوفا میں بھارت اور پاکستان کے وزرائے اعظم کی ملاقات اور مشترکہ اعلامیہ کی روشنی میں یاد آیا اور اعزاز احمد آذر بھی کہ ہماری ان سے یاد اللہ جب سے تھی، جب وہ لاہور میں نیشنل سنٹر کے ڈائریکٹر انچارج اور ہم ایک رپورٹر کی حیثیت سے تقاریب کی کوریج کے لئے جایا کرتے تے، نفیس اور مہذب انسان تھے، اچھی دوستی ہو گئی اور پھر ان کے جوہر بھی کھلتے گئے کہ وہ ایک اچھے مقرر ہی نہیں، ادیب اور شاعر بھی تھے اور ان کا کلام پنجابی اور اُردو میں موجود ہے۔ورلڈ پنجابی کانگرس کے وفود کے ساتھ بھارت جانے کا جتنی بار اتفاق ہوا اعزاز احمد آذر ساتھ ہوتے تھے اور وہاں دیارِ غیر میں مزید اندازہ ہوا کہ نفیس انسان تو تھے ہی، دانشور بھی تھے، لیکن ان کے اندر کوٹ کوٹ کر حب الوطنی بھی بھری ہوئی تھی، کوئی کچھ بھی کہتا رہے، لیکن ہمیں علم ہے کہ ورلڈ پنجابی کانگرس نے پاک بھارت تعلقات کے لئے کتنا زیادہ کام کیا اور اعزاز احمد آذر کس انداز سے اپنے موقف کا اظہار کرتے رہے۔ وزرائے اعظم کی ملاقات اور مذاکرات جاری رکھنے کی جو بات طے ہوئی اُسے غنیمت جانا جائے کہ موجودہ کشیدگی میں یہی کچھ ہو سکتا تھا اور اب مذاکرات شروع ہوں گے، تو پھر وفود اپنے اپنے موقف پر قائم رہ کر حالات کو سنوارنے اور سنبھالنے کی بات کریں گے۔

بات یہی ہے، کالم میں گنجائش نہیں، معترض حضرات کو بھی انتظار کرنا چاہئے، ہمارے نزدیک کوئی بھی حکومت ریاستی موقف سے انحراف نہیں کر سکتی۔ بہرحال مذاکرات پھر سے شروع کرنے کا فیصلہ ہی بڑی بات ہے۔ پاکستان کو دوسرے امور پر بھی توجہ کا وقت ملے گا، ویسے ایک بار پھر یہ محسوس کیا گیا کہ وفود کے تبادلے کی ضرورت ہے کہ عام لوگوں کا عوام سے رابطہ ہو اور رائے عامہ کا دباؤ بھی بنے، سوال صرف منصفانہ کھیلنے کا ہے۔ *

مزید : کالم