مجاہد اول کا مشن جاری رہے گا!

مجاہد اول کا مشن جاری رہے گا!
مجاہد اول کا مشن جاری رہے گا!

  

وہ فطری انداز میں اپنے ملنے والوں کے دل میں اپنا گھر بنا لیتے تھے۔ ان کی سادہ گفتگو، اعلیٰ اخلاقی اقدار، درویشانہ مزاج اور آزادی کے لئے تڑپ اور ایثار و قربانی کے جذبے سے سبھی لوگ متاثر ہوتے تھے۔ ہندوستان کی تقسیم کے وقت جب مملکتِ خداداد، پاکستان وجود میں آ گئی، لیکن مہاراجہ کشمیر نے کشمیریوں کے جذبات اور خواہشات کا احترام کرتے ہوئے کشمیری ریاست کا الحاق پاکستان کے ساتھ نہ کیا تو کشمیریوں میں شدید بے چینی پھیل گئی۔ 23 اگست 1947ء کو نیلہ بٹ کے مقام پر آزادی کے حامیوں کا اجتماع ہوا، جہاں ایک نوجوان سردار محمد عبدالقیوم خان نے پہلی گولی چلا کر اور ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کا نعرہ لگا کر جہاد کا اعلان کیا۔ جس کے بعد ڈیڑھ سال میں کشمیر کا 32000 مربع میل علاقہ مجاہدین نے آزاد کرا لیا۔ یہ آزادی انہوں نے سردار محمدعبدالقیوم خان کی قیادت میں مسلح جدوجہد سے حاصل کی اور اس علاقے کو آزاد ریاست جموں و کشمیر کا نام دیا گیا جبکہ کشمیریوں نے سردار محمد عبدالقیوم خان کو ’’مجاہد اول‘‘ کا خطاب دیا۔ 23 سال کی عمر میں اس نوجوان نے ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کا جو نعرہ دیا تھا، وہ آزاد کشمیر کے علاوہ بھارتی فوجوں کے زیر تسلط مقبوضہ کشمیر میں بھی یکساں گونجتا رہا۔ آج بھی بھارتی فوجیوں کے جبر و استبداد اور مظالم کا مقابلہ کرتے ہوئے کشمیری نوجوان ہی نہیں، عورتیں بچے اور بوڑھے، سبھی اس نعرے کو حقیقت کا روپ دینے کے لئے اپنی جان و مال اور عزت و آبرو کی قربانیاں مسلسل دے رہے ہیں۔

کشمیریوں میں تحریک آزادی کے حوالے سے اپنی ذات کو عملی طور پر جدوجہد کی مثال بنا کر پیش کرنے والے سردار محمد عبدالقیوم خان طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے تو اُن کے آبائی علاقے غازی آباد میں ان کے سفر آخرت اور تدفین کے موقع پر بھی ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ اور ہم لے کے رہیں گے آزادی کے نعرے گونجتے رہے۔ یہ نعرے نئی اور پرانی دو نسلوں کی طرف سے وعدے کے طور پر لگائے گئے کہ سردار محمد عبدالقیوم خان کی روح تحریک آزادی جاری رہنے کے حوالے سے پر سکون رہے۔ انہوں نے تحریک آزادی کا جو پودا لگایا تھا، وہ آج تناور درخت بن چکا ہے۔ سردار صاحب نے آخری سانسیں لیتے ہوئے خود کو اپنے کردار و عمل کے معاملے میں ہلکا پھلکا محسوس کیا ہوگا کہ انہوں نے آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے پلیٹ فارم سے جو خدمات انجام دیں، وہ لائق ستائش تھیں۔ طویل عرصہ تک آزاد کشمیر کے صدر اور وزیر اعظم کی حیثیت سے انہوں نے قابلِ تقلید روایات کا اثاثہ چھوڑا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے خاص فضل و کرم سے موقع عطا کیا کہ وہ بزرگ رہنماؤں سردار محمد ابراہیم خان، چودھری غلام عباس، میر واعظ کشمیر سید محمد یوسف شاہ راجہ حیدر خان، سردار فتح محمد کریلوی اور کے، ایچ خورشید کی موجودگی میں آگے بڑھتے رہے۔ انہوں نے 1951ء سے 2006ء تک طویل عرصہ میدانِ سیاست میں گزارا اور کمیٹی برائے استصواب رائے کے ممبر سے لے کر آزاد جموں و کشمیر حکومت کے وزیر تک اور آزاد کشمیر حکومت کے منتخب صدر (چار مرتبہ) سے لے کر وزیر اعظم آزاد کشمیر تک، اقتدار اور سیاست کے آزمائشی ادوار میں شاندار خدمات انجام دیں۔ آزاد کشمیر کے تحفظ سے لے کر پاکستان اور حکومت کے مفادات تک ہمیشہ ایثار و قربانی سے کام لیا اور جب ایک مرحلے پر انہیں سیاست سے ریٹائر ہو کر آرام کا مشورہ دیا گیا تو سردار صاحب نے اس موقع پر بھی کشمیری عوام کے مفادات اور درپیش صورت حال کے تقاضوں کو اہمیت دی۔

سردار محمد عبدالقیوم خان نے بلا شبہ بہت بھرپور اور کامیاب زندگی گزاری۔ وہ خوش قسمت تھے کہ 27 سال کی عمر میں اُنہیں اقتدار نصیب ہوا۔ آزاد کشمیر کے سب سے کم عمر منتخب صدر کا اعزاز انہیں حاصل ہوا۔ جنرل ایوب خان، ذوالفقار علی بھٹو، جنرل ضیاء الحق کے ادوار میں بھی اللہ تعالیٰ نے سردار صاحب کو سرخرو کیا۔ جنرل ضیاء الحق تو ان سے اس قدر متاثر ہوئے کہ پیر و مرشد کہہ کر پکارتے رہے۔ اسی دوران سردار صاحب کے تعلقات موجودہ وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف سے بھی ہو گئے۔ بعد ازاں باہمی تعلقِ خاطر مضبوط تر ہوتا رہا۔ جبکہ محترمہ بے نظیر بھٹو جب وزیر اعظم بنیں، تو اس دور میں بھی سردار محمد عبدالقیوم خان اہم اور موثر کردار کے طور پر متحرک رہے۔ اُن کی خوش نصیبی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ جب انہوں نے عملی سیاست ترک کی تو ان کی جگہ ان کے صاحبزادے سردار محمد عتیق خان سیاست اور اقتدار میں ابھر کر سامنے آئے اور انہوں نے اپنی زندگی میں ہی اپنے لختِ جگر کو اقتدار میں دیکھا۔ کچھ لوگ بجا طور پر کہتے تھے کہ سردار محمد عتیق خان نہایت کامیابی سے اپنے والد گرامی کے خلاء کو پر کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے بھی کہا جا سکتا ہے کہ سردار محمد عبدالقیوم خان نہایت شاندار اور یادگار اننگز کھیل کر اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ انہوں نے ناقابل فراموش خدمات انجام دیں۔

سردار محمد عبدالقیوم خان سے ہماری ملاقاتوں کا سلسلہ 1971ء میں شروع ہوا۔ وہ جب لاہور آتے تو ان سے دو چار مرتبہ ملنے کا اتفاق ہوا۔ صحافت میں ہمارا ابتدائی دور تھا۔ ان دنوں ہم روز نامہ ‘‘امروز‘‘ سے بطور رپورٹر منسلک تھے۔ جولائی 1971ء میں ہمیں راولپنڈی ٹرانسفر کر کے نامہ نگار مقرر کیا گیا تو اس کے بعد سردار صاحب سے ہماری ملاقاتیں اکثر ہونے لگیں۔ اُن کی شفقت اور محبت نے ہمیں اُن کے قریب کر دیا۔ اُن سے طویل نشستیں بھی ہونے لگیں۔ وہ اپنی نوجوانی کے کارہائے نمایاں بیان کرتے رہتے تھے۔ ایک نشست میں انہوں نے نیلہ بٹ کے مقام پر جہاد کشمیر بارے تفصیل بتائی تو یہ بھی بتایا کہ انہوں نے اس موقع پر پہلی گولی کیسے چلائی اور وہاں موجود لوگوں نے کس طرح آزادی ء کشمیر کے لئے نعرے لگائے۔ سردار محمد عبدالقیوم خان نے باقاعدہ کھڑے ہو کر ایکشن کے ساتھ رائفل چلائی اور خاص طور پر بتایا کہ انہوں نے گولی چلاتے ہوئے اپنے پاؤں کو کس پوزیشن میں رکھا تھا۔

ایک مرتبہ وہ مجھے راولپنڈی سے مظفرآباد لے گئے تو راستے میں اس وقت کی سیاست، بھٹو صاحب کی پالیسی اور بھارتی جارحانہ عزائم کا مقابلہ کرنے کے لئے ضروری اقدامات بیان کرتے رہے۔ مظفرآباد میں رات کو کھانے کے بعد نشست ہوئی تو ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ سردار صاحب نے بتایا کہ کشمیرکا کچھ حصہ آزاد کرانے کے بعد میں نے اور میرے ساتھیوں نے دوبارہ عملی جدوجہد شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ مسئلہ یہ تھا کہ وسائل میسر نہیں تھے۔ مخیرحضرات سے چندہ وصول کرنے کا سوچا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک صاحب بہت زیادہ مالدار تھے۔ ہمیں امید تھی کہ وہ دل کھول کر ہماری مدد کریں گے۔ ہم ایک وفد کی صورت میں ان سے ملنے گئے اور اپنی مشکل بیان کی۔ انہوں نے ہمارے جذبے کو بے حد سراہا۔ میری اور میرے ساتھیوں کی بہت تعریف کی اور پھر جیب سے بٹوہ نکال کر اس میں موجود رقم سے ایک سو روپے کا نوٹ نکال کر ہماری طرف بڑھا دیا کہ تم دوبارہ جہاد شروع کرو اور جلد پورا کشمیر آزاد کراؤ‘‘۔

ان دنوں ایک سو روپے کا نوٹ ہی سب سے بڑا ہوتا تھا۔ وہ نوٹ لے کر ہم سبھی لوگ صدمے سے نڈھال ان کے گھر سے باہر آ گئے۔ ان کے پاس دولت کی کمی نہیں تھی۔ ان کی دولت کا اندازہ یوں بھی لگا لیں کہ ان کے بیٹے کو جوا کھیلنے کی عادت تھی اور وہ اکثر بڑی رقم ہارتا رہتا تھا۔ ایک رات میں جب اس نے 70ہزار روپے لندن کے جوا خانے میں ہارے تو اس کا بڑا چرچا ہوا۔ سردار صاحب کہنے لگے کہ آپ خود ہی حساب لگا لیں کہ ایوب خان کے مارشل لاء سے پہلے کرنسی کی ویلیو کیا تھی اور اس وقت 70ہزار روپے آج کے کروڑوں روپے سے کم تو نہیں ہوں گے۔ وہ صاحب خود بھی شاہ خرچ تھے۔ ان کی اولاد اور خاندان کے دیگر افراد بھی دل کھول کر خرچ کرتے تھے۔ اتنا سرمایہ، اس قدر زیادہ دولت ہونے کے باوجود انہوں نے کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کے لئے صرف ایک سو روپیہ چندہ دینے کا حوصلہ کیا۔

یہ واقعہ سناتے ہوئے سردار محمد عبدالقیوم خان کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ وہ دکھ کا اظہار کررہے تھے کہ اللہ تعالیٰ جنہیں خوب نوازتا ہے، ان میں سے بیشتر اپنی دھرتی کی آزادی کے جذبے سے یکسر عاری کیوں ہوتے ہیں۔ ان صاحب کو آخر یہ سوچ کیوں نہیں آئی کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجی ہمارے ہی کشمیری بھائی بہنوں کی جاں و مال اور عزتوں سے کھیلتے ہیں۔ ان مظلوم کشمیریوں کی امداد اور آزادی کے لئے دل کھول کر چندہ دینا چاہیے۔ یہ مالدار اور صاحب ثروت لوگ آزاد فضاؤں میں زندگی گزارتے ہوئے غلامی کی زنجیروں میں جکڑے اپنے بھائیوں کی مدد سے کس طرح منہ موڑ لیتے ہیں۔ افسوس، صد افسوس!!

آزادی کے جذبے سے سرشار اور ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کے نعرے کو عملی شکل دینے کی تڑپ رکھنے والے سردار محمد عبدالقیوم خان بستر علالت پر بھی تحریک آزادی اور بھارتی فوجیوں کے مظالم سے متعلق باتیں کرتے کرتے 10جولائی 2015ء کو ہمیشہ کے لئے خاموش ہو گئے۔ بلاشبہ ایک تاریخی شخصیت ہم سے بچھڑ گئی۔ یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ ان کے مشن کو جاری رکھنے والے موجود ہیں۔ سردار صاحب کے صاحبزادے سردار محمد عتیق خان سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے بڑی تعداد میں لوگ اس عزم کا اظہار بھی کرتے رہیں گے کہ سردار محمد عبدالقیوم خان کا مشن ان کی موت کے بعد بھی جاری رہے گا۔ اللہ کرے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھی آزادی کا سورج جلد طلوع ہو اور ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کا نعرہ جلد حقیقت بن جائے۔آمین *

مزید : کالم