چیئرمین نیب کا مواخذہ، احمقانہ سوچ

چیئرمین نیب کا مواخذہ، احمقانہ سوچ
چیئرمین نیب کا مواخذہ، احمقانہ سوچ

  

اگر مسلم لیگ(ن) کے رہنما پنجاب میں اُسی قسم کی باتیں کرتے ہیں، جیسی سندھ میں پیپلزپارٹی کے رہنما کر رہے ہیں، تو یہ بات ثابت ہو جائے گی کہ دونوں ہی مُلک میں قانون کی حکمرانی نہیں چاہتے اور نہ ہی یہ دونوں کا ایجنڈا ہے کہ پاکستان سے کرپشن کا ناسور ختم ہو، جب سے نیب نے سپریم کورٹ میں ڈیڑھ سو میگا کرپشن کیسز کی رپورٹ پیش کی ہے۔ حکومتی وزراء اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما چیئرمین نیب کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔ وہی چیئرمین نیب جنہیں موجودہ حکومت نے بڑی سوچ بچار اور چھان پھنک کے بعد لگایا تھا۔ سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے تو بالکل ہی صاف کہہ دیا ہے کہ چیئرمین نیب کے خلاف مواخذے کی تحریک بھی لائی جا سکتی ہے۔ اُدھر سندھ میں پیپلزپارٹی رینجرز کے پیچھے پڑی ہے تو اِدھر مسلم لیگ(ن) نے چیئرمین نیب کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔ صرف اس لئے کہ انہوں نے سپریم کورٹ کے حکم پر نیب میں زیر التوا مقدمات کی تفصیل فراہم کی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اداروں کو اس وقت تک کام کرنے کی اجازت ہے جب تک وہ حکمران طبقے کو کلین چٹ دیئے رکھیں، جونہی انہوں نے اُن کی طرف ہاتھ بڑھایا وہ پتھر کے بنا دیئے جائیں گے۔ سپکر قومی اسمبلی سے کوئی پوچھے کہ وہ چیئرمین نیب کے خلاف مواخذے کی تحریک کیوں لانا چاہتے ہیں؟ اگر انہوں نے کوئی غلط معلومات سپریم کورٹ میں جمع کرائی ہیں تو اٹارنی جنرل آپ کا ہے، اُس کے ذریعے سپریم کورٹ کے علم میں یہ بات کیوں نہیں لائی جا تی، کیوں وہاں چیئرمین نیب کو کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا جاتا۔ مواخذے کی تحریک کا شوشہ چھوڑ کر ایک قومی ادارے کے سربراہ کو دباؤ میں لانا میرے نزدیک بدترین بلیک میلنگ ہے۔ کل تک جب سپریم کورٹ میں نیب کا کیس نہیں تھا اور نیب ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی تھی، تو ایاز صادق کو یہ کہنا یاد نہ آیا کہ اربوں کی کرپشن کے کیسز نیب نے دبا رکھے ہیں۔ اُس کا بھی احتساب ہونا چاہئے۔ اب جبکہ اُس کے مردے میں تھوڑی سی جان پڑی ہے اور قومی ایجنڈے کے تحت کرپشن کے خلاف اُس نے کام کرنا شروع کیا ہے تو وہ کہہ رہے ہیں کہ نیب کا بھی احتساب ہونا چاہئے۔

ایاز صادق سے پہلے وزیر اطلاعات پرویز رشید بھی نیب کے خلاف سمع خراشی کر چکے ہیں، انہیں تو نیب ایک پگڑی اچھال محکمہ نظر آ رہا ہے، کیونکہ اس نے سپریم کورٹ میں میگا کرپشن کیسز کی رپورٹ پیش کر دی ہے، صاف لگ رہا ہے کہ حکومتی وزرا اور شخصیات حقِ نمک ادا کرنے کے لئے اپنی بساط اور اوقات سے بڑھ کر بیان دے رہے ہیں۔ کیا وہ یہ چاہتے تھے کہ نیب شریف برادران کے نام نکال کر سپریم کورٹ میں رپورٹ پیش کرتا، کیا مُلک کی سب سے بڑی عدالت سے حقائق چھپانے کا ارتکاب کر کے نیب اپنی ساکھ بچا سکتا تھا، کیا سب کام جھوٹ کی بنیاد پر ہونے چاہئیں، ہم سچ کا سامنا نہیں کر سکتے۔ سمجھ سے بالا تر ہے کہ حکومت میں ہونے کے باوجود مسلم لیگ(ن) کے رہنما اپوزیشن جیسی باتیں کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے پریس کانفرنس کر کے یہ دعویٰ کیا ہے کہ شریف فیملی نے تمام بنک قرضے ادا کر دیئے ہیں اور نیب میں ان کا کوئی کیس زیر التوا نہیں، تو اُن کی طرف سے سپریم کورٹ کو کیوں مطلع نہیں کیا جا رہا ، کیوں نیب کے خلاف اس کیس میں فریق بن کر اپنی وضاحت پیش نہیں کی جا رہی۔ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی تو ایک دن میں ہو سکتا ہے کہ اٹارنی جنرل یا شریف فیملی کا وکیل سپریم کورٹ کو اُن کیسز کے بارے میں جو نیب نے اپنی رپورٹ میں پیش کئے ہیں، حقیقت سے آگاہ کرے۔ اس طرح سے نہ صرف اُن پر لگنے والا الزام دھل جائے گا، بلکہ نیب کی سرزنش بھی ہو گی اور ایاز صادق جیسے جاں نثاروں کو نیب کے چیئرمین کو راہِ راست پر لانے کے لئے دھمکی آمیز بیانات نہیں دینے پڑیں گے،مگر ایسا نہیں ہو گا اور صرف عوام کے ذہن کو بھٹکانے کے لئے ایسے بیانات دیئے جائیں گے کہ جیسے مُلک میں پیپلزپارٹی کی حکومت ہو اور چیئرمین نیب اس کے اشارے پر سیاسی مخالفین کو نشانہ بنا رہے ہوں۔

میرا خیال ہے حمزہ شہباز شریف نے سیاسی دانشمندی کا مظاہرہ کیا ہے، زمینی حقیقتوں کو بھونڈے طریقے سے جھٹلانے کی بجائے انہوں نے کہہ دیا ہے کہ لوٹ مار ہوئی ہے اور یہ ہمارے نظام کا حصہ ہے، البتہ عوام کو احتساب کا حق ہونا چاہئے، کیونکہ اصل احتساب وہی ووٹ کی پرچی سے کر سکتے ہیں۔ اس بیان کی منطق سے اختلاف کیا جا سکتا ہے تاہم انہوں نے نیب کو سارے فساد کی جڑ قرار نہیں دیا اور نہ ہی پگڑی اچھال ادارہ کہا ہے، جو کچھ فائلوں میں ہے، ریکارڈ میں موجود ہے، عدالتوں میں چل رہا ہے، زمین پر وقوع پذیر ہو چکا ہے۔ آپ اُس سے کیسے انکار کر سکتے ہیں۔ اس طرح تو خود کو مزید رسوا کرنے والی بات ہے۔ مَیں سمجھتا ہوں وزیراعظم محمد نواز شریف کو فوری طور پر وزرا اور دیگر پارٹی رہنماؤں کو نیب کے خلاف مخالفانہ بیانات سے روک دینا چاہئے۔ اس سے نہ صرف جگ ہنسائی ہو رہی ہے، بلکہ یہ تاثر بھی قائم ہو رہا ہے کہ کرپشن کے معاملے میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) دونوں ایک ہی کشتی کی سوار ہیں۔ ایک ایسی فضا میں کہ جب پوری قوم کرپشن کے خلاف بے رحمانہ احتساب چاہتی ہے اور فوج و رینجرز کی اس ضمن میں کارروائیوں کو امید افزا اور قدر کی نگاہوں سے دیکھ رہی ہے، اس کے خلاف بند باندھنے والی قوتیں عوامی مخالفت کا شکار ہو جائیں گی، صوبہ خیبرپختونخوا میں ایک صوبائی وزیر اور اعلیٰ بیورو کریٹس کی کرپشن کے الزام میں گرفتاری ایک دوسری تصویر پیش کر رہی ہے۔خود آرمی چیف نے ایک جرنیل کے خلاف کرپشن کے الزام میں کارروائی کی ہے۔ ایسی فضا میں صرف سپریم کورٹ میں فہرست پیش کرنے پر نیب کے خلاف حکومتی شخصیات کی مہم اُن کے لئے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر نیب نے جھوٹے کیسز بنائے ہیں، تو ان کا عدالتوں میں سامنا کرنا چاہئے۔ اگر سرے سے یہ کیس موجود ہی نہیں، تو پھر عدالت ہی وہ مناسب فورم ہے جہاں سے شفافیت اور بے گناہی کی چٹ مل سکتی ہے۔

ایک عام آدمی بھی سمجھ رہا ہے کہ نیب کے خلاف اچانک الٹی گنگا کیوں بہائی جا رہی ہے۔مَیں سمجھتا ہوں کہ نواز حکومت کے لئے کریڈٹ لینے کا وقت تھا، جسے ڈس کریڈٹ بنایا جا رہا ہے۔ حکومت کو نیب کی رپورٹ پر منفی ردعمل کی بجائے مثبت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے یہ کہنا چاہئے تھا کہ ہم نے نیب کو آزاد کر دیا ہے، وہ ہمارے خلاف بھی اگر ثبوت ہیں تو کارروائی کرنے میں آزاد ہے، مگر حیران کن طور پر چور کی داڑھی میں تنکا والا رویہ اختیار کر کے حکومت خود کو مشکوک بنا رہی ہے۔ سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کا اس معاملے میں فریق بننا سمجھ سے بالا تر ہے۔ نیب نے قومی اسمبلی کو بحیثیت ادارہ تو نشانہ نہیں بنایا کہ جس پر یہ کہہ رہے ہیں کہ کوئی قومی اسمبلی کے اختیارات کے بارے میں غلط فہمی کا شکار نہ رہے۔ کیا قومی اسمبلی کے اختیارات یہی ہیں کہ وہ کرپشن کے خلاف قومی اداروں کو کام نہ کرنے دے۔ اُدھر سندھ میں بھی وزیراعلیٰ قائم علی شاہ رینجرز کے اختیارات میں توسیع کے معاملے کو پہلی بار سندھ اسمبلی میں لے جانا چاہتے ہیں، کیونکہ رینجرز سندھ میں کرپشن کے میگا کیسز بھی پکڑ رہی ہے، جب تک وہ امن و امان کی سرگرمیوں تک محدود تھی، یہی وزیراعلیٰ اپنے انتظامی حکم سے اُس کی توسیع کرتے رہے، اب انہیں خیال آیا ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد توسیع دینے کی منظوری اسمبلی سے لینا ضروری ہے۔ اب اسی قسم کے معاملے میں ایاز صادق قومی اسمبلی کو بھی لا رہے ہیں۔ ابھی تو یہ دیکھنا ہے کہ سپریم کورٹ نیب کیس کے حوالے سے کیا حکم جاری کرتی ہے۔نیب کو مسلم کمرشل بینک کی نجکاری کیس میں چار ماہ کی مزید مہلت دینے سے انکار کر دیا گیا ہے، کیا دیگر کیسوں میں بھی یہی حکم جاری کیا جاتا ہے۔اگر ایسا ہوا تو چیئرمین نیب کو زیادہ تیزی کے ساتھ کیس نمٹانے ہوں گے۔ کیا ایسے حالات میں اُن کے خلاف مواخذے کی تحریک بہت بڑی سیاسی غلطی نہیں ہو گی، کیا عوام اُسے قبول کریں گے، بعض لوگوں کو اسی نکتے پر غور کرنے کی توفیق نہیں ہو رہی کہ نیب اچانک خوابِ غفلت سے کیوں جاگ گئی ہے اور اُس کی کارکردگی میں بہتری کیسے آ گئی ہے۔ مُلک کی مقتدر قوتیں یہ فیصلہ کر چکی ہیں کہ مصلحتوں کو ترک کر کے اس لوٹ مار کے کلچر کی بیخ کنی کرنی ہے، جس نے ہماری سیاست، حکومت اور نظام کو اس حال تک پہنچایا ہے۔ ایک طرف سپریم کورٹ کا ڈنڈا اور دوسری طرف مقتدر حلقوں کی مکمل سپورٹ، نیب اور ایف آئی اے کے بدلے ہوئے حالات کی سب سے بڑی وجہ ہے، اس صورت حال میں اب بچے کا وہی جو عوامی امنگوں اور قانون کا ساتھ دے گا،جو اُن کے مخالف چلنے کی کوشش کرے گا وہ شاید اس ریلے میں خس و خاشاک کی طرح بہہ جائے۔

نیب کا اصل احتساب یہی ہے کہ اُسے زیر التوا کیسوں کی انکوائریاں مکمل کر کے جلد از جلد مقدمات عدالتوں میں بھجوانے کا پابند کیا جائے، مقدمات جھوٹے ہوں گے، تو خارج ہو جائیں گے، سچے ہوں گے تو ملزموں کو سزا ہو جائے گی۔ اس سے اندازہ ہو جائے گا کہ نیب پرانی ڈگر پر چل رہا ہے یا ماضی کی تلافی کے راستے پر گامزن ہے۔چیئرمین نیب کے پاس تاریخی موقع ہے کہ وہ اس ادارے کو احتساب کی علامت بنا دیں۔ سپریم کورٹ میں رپورٹ پیش کر کے انہوں نے جس جرأت مندی کا مظاہرہ کیا اس سے اُن کی غیر جانبداری کا تاثر قائم ہوا ہے۔ یہ تاثر ان کی سب سے بڑی ڈھال بن سکتا ہے۔ بشرطیکہ وہ کسی مصلحت کے تحت اسے ضائع نہ کریں۔ *

مزید : کالم