چار ہزار والدین کا بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار

چار ہزار والدین کا بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار

کوئٹہ سے ایک اطلاع کے مطابق بلوچستان میں چار ہزار والدین نے اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے انکار کر دیا ہے۔ پولیو رضا کاروں کو کوئٹہ، پشین، قلعہ عبداللہ اور بعض دوسرے علاقوں میں بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے میں مشکلات کا سامناہے،رواں سال بلوچستان میں چار پولیو کیس ریکارڈ کئے گئے، جن میں سے تین کا تعلق انہی اضلاع سے بتایا گیا ہے، جہاں بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کیا جا رہا ہے۔ کوئٹہ میں افغان پناہ گزینوں والے علاقوں پشتون آباد، خروٹ آباد اور نواں قلعہ میں پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کیا گیا۔بچوں کے والدین کو محکمہ صحت کے حکام کی جانب سے یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ قطرے نہ پلانے کی صورت میں بچوں پر پولیو کا حملہ ہو سکتا ہے اور بچہ عمر بھر کے لئے معذور ہو سکتا ہے اور اس کی کلی ذمہ داری بچوں کے والدین پر ہے۔ ہمارے معاشرے کی بدقسمتی ہے کہ ہم ادویات کے بارے میں بھی توہمات کا شکار ہیں اور جدید دور کی ادویات نے علاج کی جو آسانیاں پیدا کی ہیں اُن سے استفادہ کے لئے تیار نہیں۔ قطروں کے بارے میں بعض پسماندہ علاقوں میں منفی پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے اور سینہ بہ سینہ ایسی غلط اطلاعات لوگوں تک پہنچتی ہیں، جس کی وجہ سے وہ بچوں کو قطرے پلانے سے انکار کر دیتے ہیں والدین کا یہ خوف دور کرنے کی ضرورت ہے۔ *

مزید : اداریہ