دُنیا کو فتح کرنے کے امریکی خواب

دُنیا کو فتح کرنے کے امریکی خواب

امریکہ کے محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے فوجی حکمتِ عملی کے متعلق دستاویزات جاری کی ہیں، جن میں کہا گیا ہے کہ پوری دُنیا کو فتح کئے بغیر امریکہ کا وجود خطرے میں ہے، اپنی بقا کے لئے دوسرے ممالک کو جنگوں میں اُلجھا کر رکھنا ہو گا، امریکہ واحد سپر پاور نہ رہے، تو ہم سب چلتی پھرتی نعشیں ہیں، امریکہ کے لئے روس سب سے بڑا خطرہ ہے۔ کرغزستان سمیت گیارہ ممالک میں حکومتوں کا تختہ اُلٹنے کا کام جاری ہے۔ امریکی میڈیا میں جو دستاویزات شائع ہوئی ہیں، ان میں2015ء کے لئے امریکی ملٹری سٹرٹیجی کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں، جن میں امریکی توجہ دہشت گردوں سے ریاستی عناصر کی جانب مبذول کرنے پر زور دیا گیا ہے، اور یہ کہا گیا ہے کہ ریاستی عناصر بین الاقوامی قواعد اور اطوار کے لئے شدید خطرہ ہیں، دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ روس اور چین گو امریکہ پر حملے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے، لیکن اس طرح کی اُبھرتی ہوئی تبدیلی کی خواہش مند ریاستیں امریکہ کے لئے خطرہ ہیں، جو اپنی پالیسیاں بنانے میں آزاد ہیں، دستاویزات کا سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ خود مختار ممالک امریکہ کے لئے خطرہ ہیں، اِن ممالک کی خود مختاری اُنہیں تبدیلی پر اُکسا رہی ہے، رپورٹ کے مطابق سب سے نمایاں عالمی تبدیلی کے خواہش مند ممالک میں روس، چین، شمالی کوریا اور ایران ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنگوں اور فتح کے بغیر امریکہ کا وجود خطرے میں ہے۔

پینٹاگون امریکہ کی جنگی قوت کا نشان ہے، اِس لئے اس نے امن کی بجائے جنگ کی بات کی ہے، اور کسی حد تک یہ راز بھی فاش کر دیا ہے کہ امریکہ دُنیا کے بیشتر خِطوں میں کسی نہ کسی انداز میں جنگ کیوں چھیڑے رکھتا ہے۔ پینٹاگون نے امریکی مقاصد کے حصول کے لئے دُنیا بھر کے ممالک کو جنگوں میں اُلجھائے رکھنے کی جو تجویز دی ہے وہ دُنیا بھر کے لئے گہرے غور و فکر کے در وا کرتی ہے،اس وقت زمینی حقائق یہ ہیں کہ امریکہ نے دُنیا کے کئی خِطوں میں جنگیں چھیڑ رکھی ہیں، سب سے پہلے امریکہ نے صدام حسین کے عراق پر توجہ دی اور پہلی خلیجی جنگ میں عراق سے کویت خالی کرانے کے لئے کویت پر حملہ کر دیا، پھر صدام حسین کو اقتدار سے ہٹانے کے لئے عراق پر دوسری بار حملہ کیا۔ دو عشروں سے زیادہ مدت سے عراق میں خون اور آگ کا کھیل کھیلا جا رہا ہے، لیکن آج تک وہاں مستحکم حکومت قائم نہیں ہو سکی،اگر اس بدنصیب مُلک کے لوگوں کو بہتر حکمت اور بہتر امن فراہم کرنا امریکہ کے پیشِ نظر تھا، تو یہ مقصد سرے سے حاصل نہیں ہو سکا، پھر ہمسایہ مُلک شام میں بشار الاسد کی حکومت کا تختہ اُلٹنے کی کوششیں شروع ہوئیں، جو آج تک جاری ہیں اور ان میں کوئی کامیابی نہیں ملی، ہزاروں لوگ اپنی قیمتی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، لاکھوں بے گھر ہو گئے اور اس وقت مختلف ممالک اور خود شام کے اندر دربدر ہو کر ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔

عراق اور شام کی صورتِ حال نے’’داعش‘‘ کو وجود بخشا اور اب یہ تنظیم شام اور عراق کو ایک مُلک سمجھ کر ان میں اپنی مرضی کی کارروائیاں کر رہی ہے اور مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ ساتھ جنوبی ایشیا میں بھی متحرک ہے،دونوں ممالک کے تاریخی مقامات ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو رہے ہیں اور تہذیب و تمدن کی نشانیاں تباہ ہو رہی ہیں، لیبیا کا بھی یہی حال ہے وہاں قذافی کی حکومت کا تختہ اُلٹنے کی کوشش تو کامیاب ہو گئی، جس قذافی کو اقتدار سے محروم ہونا گوارہ نہ ہوا وہ زندگی سے ہی ہاتھ دھو بیٹھے، وہ اپنی جس اولاد کو اپنی جگہ اقتدار کے تخت پر متمکن دیکھنا چاہتے تھے اُس کے نصیب میں بھی دھکے لکھ دیئے گئے، قذافی کی جگہ جو رہنما لیبیا میں سامنے آئے، حالات اُن کے قابو میں نہیں اور جو مُلک امن و امان کا گہوارہ تھا، وہاں اب آگ اور خون کا کھیل ہے اور کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ حالات کا اونٹ بالآخر کس کروٹ بیٹھے گا، مصر میں انتخاب جیت کر اخوان المسلمین کے رہنما محمد مرسی صدر بنے تھے، جنہیں مصری فوج نے جینے نہ دیا اور پھر فوجی سربراہ نے براہِ راست مداخلت کر کے پہلے محمد مرسی کو اقتدار سے محروم کیا، حوالہۂ زندان کیا، خود اقتدار سنبھالا اور عدالت کے ذریعے محمد مرسی اور اُن کے ساتھیوں کو موت کی سزائیں دلوائیں، امریکہ جمہوریت اور جمہوری حکومتوں کا دعویدار ہے، لیکن مصر میں اس کی ہمدردیاں جمہوریت کی مخالف فوجی حکومت کے ساتھ ہیں۔ یمن میں جنگ جاری ہے اور قدیم تہذیبی تاریخ رکھنے والا مُلک تباہ ہو رہا ہے، مشرقِ وسطیٰ کے اس غریب ترین مُلک میں امن ہو بھی گیا، تو لوگوں کی غربت میں کچھ مزید اضافہ ہو جائے گا۔

مشرقِ وسطیٰ میں جگہ جگہ آ گ لگی ہوئی ہے تاہم کہیں کہیں امن کے جزیرے موجود ہیں، لیکن آگ کے الاؤ اُن کی جانب بھی بڑھ رہے ہیں۔ سعودی عرب امن وامان کا گہوارہ تھا، جہاں کشت و خون کا کوئی تصور نہ تھا اب خود کش حملہ آوروں نے یہاں کی مساجد کو بھی خون سے سرخ کرنا شروع کر دیا ہے۔ سعودی عرب اپنے قیام سے لے کر اب تک امریکہ کا دوست ہے۔ مملکت کے بانی شاہ عبدالعزیز نے امریکہ کے ساتھ جس دوستی کی بنیادیں رکھی تھیں وہ اب تک چلی آ رہی ہیں، لیکن اب اس میں رخنے پڑ رہے ہیں۔ یمن کی صورت حال نے سعودی عرب کو روس کی جانب دیکھنے پر مجبور کر دیا اور ایسے محسوس ہوتا ہے کہ سعودی عرب کی خارجہ پالیسی میں کوئی دھماکہ خیز تبدیلی ہونے والی ہے۔

امریکہ افغانستان میں امن قائم کرنے کے لئے آیا تھا، نیٹو افواج نے بھی اس مشن میں امریکہ کا ساتھ دیا، لیکن 14،15سال میں امن ہی ایک ایسی سوغات تھی، جو افغانستان سے عنقا رہی، دُنیا کے غریب ترین ممالک میں شمار ہونے والا افغانستان کچھ اور غریب ہو گیا، لیکن ڈالروں کی ریل پیل نے افغانستان کی اَپر کلاس میں ایک نیا طبقہ پیدا کر دیا ہے، جو خاموشی سے مختلف قسم کے کاروبار سنبھال رہا ہے۔ اب جبکہ نیٹو کی بیشتر افواج واپس جا چکی ہیں اور تربیتی مقاصد کے لئے امریکی فوج کا ایک حصہ وہاں مقیم ہے، امن پھر بھی نظر نہیں آتا۔ اگرچہ اس مقصد کے لئے کوششیں جاری ہیں، طالبان کے ساتھ مذاکرات بھی ہو رہے ہیں اور ابھی حال ہی میں اسلام آباد میں مذاکرات کا ایک کامیاب دور ہوا ہے، جس میں پاکستان کی کوششوں اور کردار کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی سراہا ہے، لیکن ان مذاکرات کا حتمی نتیجہ کس صورت میں نکلتا ہے اور طالبان ہتھیار رکھ کر امن میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں یا نہیں، فی الحال یہ کہنا مشکل ہے۔

امریکہ اگر یہ سب کچھ دُنیا کو فتح کرنے کے ارادے سے کر رہا ہے، تو یہ خواب تو شرمندۂ تعبیر نہیں ہونے والا، دوسری سپر پاور سوویت یونین نے افغانستان میں فوجی مداخلت کی غلطی کر لی تھی، جب یہ سپر پاور پاکستان کی کوششوں سے افغانستان سے نکلی تو اس کی یہ حیثیت ختم ہو گئی تھی، چنانچہ امریکہ واحد سپر پاور کا سٹیٹس انجوائے کر رہا ہے، لیکن یہ صورت حال ہمیشہ کے لئے قائم نہیں رہ سکتی، امریکہ سے پہلے بھی دُنیا میں سپر طاقتیں موجود تھیں، جو وقت کے ساتھ ساتھ اپنی یہ حیثیت کھو بیٹھیں، اس لئے امریکہ بھی جلد یا بدیر اپنی اس حیثیت سے محروم ہو جائے گا۔ روس انگڑائی لے رہا ہے اور آئندہ چند برسوں میں طاقت کا توازن پھر بدلے گا، اس لئے ’’پینٹاگان‘‘ اپنی حکومت کو دُنیا فتح کرنے کے جو مشورے دے رہا ہے وہ کاغذوں پر چاہے جتنے بھی دِل خوش کُن نظر آئیں، زمینی حقائق سے بہت بعید ہیں۔ بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ دُنیا کو جنگوں میں اُلجھائے رکھنے کی پالیسی میں کامیاب ہے، اور اس کی اسلحہ ساز کمپنیاں اربوں کھربوں ڈالر کا اسلحہ بھی بیچ رہی ہیں، ان کمپنیوں کو اسلحے کا تازہ گاہک بھارت کی صورت میں ملا ہے، جو روسی اسلحے سے مُنہ موڑ کر اب جدید امریکی اسلحے کی محبت میں گرفتار ہو گیا ہے۔ یہ سب کچھ تو ممکن ہے یہ ممکن نہیں کہ امریکہ دُنیا کو فتح کرنے کے خواب کی تعبیر دیکھ لے، اس خواب کو تو افغانستان نے ہی پورا نہیں ہونے دیا، باقی ساری دُنیا میں جنگ چھیڑ کر امریکہ کیا حاصل کر لے گا؟اس لئے بہتر یہ ہے کہ امریکی قائدین اپنے جنگی محکمے کے مشوروں پر عمل کرنے کی بجائے اُن کی بات سُنیں جو امن کے خواہاں ہیں۔ دُنیا بھر کا امن برباد کر کے امریکہ کو کچھ حاصل نہیں ہو سکتا، اس لئے دانشمندی کا تقاضا ہے کہ جنگ کے شعلوں کو ہَوا دینے کی بجائے اس آگ کو بجھانے کی کوشش کی جائے جو پہلے ہی بہت سے خرمن جلا چکی اور مزید پھیلتی جا رہی ہے۔

مزید : اداریہ