اداروں کا کلچر تبدیل کئے بغیر بجٹ اہداف کا حصول مشکل ہے

اداروں کا کلچر تبدیل کئے بغیر بجٹ اہداف کا حصول مشکل ہے

لاہور(کامرس ڈیسک) پاکستان اکانومی واچ کے چئیرمین شیخ نصیر الحق نے کہا ہے کہ بجٹ کے اہداف حاصل کرنے کیلئے حکومت کو اداروں کا کلچر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔مالیاتی خسارہ اور افراط زر کم کرنے اوربرامدات اور آمدنی بڑھانے لائق اور ذمہ دار سول سروس کی ضرورت ہے۔انحطاط پزیر ادارے اور افسران جو کسی بھی قسم کی تبدیلی کے خلاف ہیں حکومتی اہداف کے حصول میں بڑی رکاوٹ ثابت ہونگے۔بجٹ میں کلیدی اداروں کی مانیٹرنگ کے موثر نظام کا کوئی ذکر نہیں ۔ شیخ نصیر الحق نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا کہ حکومت نے کئی انقلابی منصوبے شروع کئے ہیں مگر انکی کامیابی کیلئے لائق اور تجربہ کامنتظمین کا ہونا ضروری ہے ورنہ ان منصوبوں کی تکمیل کھٹائی میں پڑ سکتی ہے۔پاک چین اکنامک کاریڈور سے انفرادی اور قومی آمدنی میں اضافہ کے ساتھ ملک کے سولہ شعبوں پر انتہائی مثبت اثرات مرتب ہونگے جن میں انفراسٹرکچر، کنسٹرکشن، ٹرانسپورٹ اور انجئیرنگ کے شعبہ شامل ہیں۔انھوں نے کہا کہ بجٹ کے اقدامات سے زیر زمین معیشت کا حجم کم اور ٹیکس نیٹ میں اضافہ ہو گا جس سے دستاویزی معیشت کو سہارا ملے گا۔گردشی قرضے کا بڑا سبب کالا باغ ڈیم کی تعمیر پر اختلافات اور کئی دہائیوں سے اس جیسے کوئی دوسرا مقام ڈھونڈنے میں ناکامی ہے۔

مزید : کامرس