ٹیکس کا دائرہ کار بڑھانے کے حکومتی اقدامات نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئے

ٹیکس کا دائرہ کار بڑھانے کے حکومتی اقدامات نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئے

فیصل آباد (این این آئی) فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر انجینئر رضوان اشرف نے کہا ہے کہ ٹیکس کا دائرہ کار بڑھانے کے سلسلہ میں حکومتی اقدامات نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئے۔ حکومت کو اس حوالے سے موجودہ معاشی نظام کا زمینی حقائق کی روشنی میں از سر نو جائزہ لینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بظاہر بنک ٹرانزکشن پر ٹیکس کے دو مقاصد ہیں جن میں ریونیو کا حصول اور ٹیکس نادہندگان کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نان فائر ز کی بنک ٹرانزکشن پر 0.6 فیصد ایڈوانس انکم ٹیکس عائد کرنے سے یہ دونوں مقاصد حاصل ہوتے ہوئے نظر نہیں آتے۔ انہوں نے کہا کہ یکم جولائی سے بنک ٹرانزکشن پر کٹوتی کے بعد لوگوں کی بڑی تعداد نے نہ صرف اپنا سرمایہ بنکوں سے نکلوالیا ہے جبکہ اس کی وجہ سے بنکوں سے باہر ایسے انسٹرومنٹ بھی سامنے آرہے ہیں جن کے ذریعے نان فائلر ٹیکس دیئے بغیرہی اپنی رقوم منتقل کر سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل حکومت نے نان فائلروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے ان کی رقوم پر ایک فیصد ٹیکس لگایا تھا مگر اس کی وجہ سے حکومتی آمدن میں اضافہ کی بجائے کمی شروع ہو گئی لہٰذا یہ دونوں مقاصد پورے ہوتے ہوئے نظر نہیں آتے اس کیلئے حکومت کو پورے نظام کا زمینی حقائق کی روشنی میں از سر نو جائزہ لینا ہوگا اور اس سلسلہ میں کوئی بھی حتمی پالیسی اختیار کرنے سے قبل تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں دستاویزی معیشت کے ساتھ ساتھ غیر دستاویزی معیشت بھی چل رہی ہے بعض لوگوں کے خیال میں غیر دستاویزی معیشت کا حجم دستاویزی معیشت سے بھی زیادہ ہے جس کو دستاویزی شکل میں لا کرٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح بڑھائی جا سکتی ہے۔

بلکہ حکومتی محاصل بھی بڑھائے جا سکتے ہیں۔ تاہم یہ ایک مشکل مرحلہ ہے جس میں سب سے بڑی رکاوٹ مراعات یافتہ طبقات ہیں۔ انجینئر رضوان اشرف نے کہا کہ حکومت کوغیر دستاویزی معیشت کے خاتمہ کیلئے ٹیکسوں میں دی جانے والی تمام مراعات کو یکسرختم کرنا ہوگا اور ملک میں یکساں ٹیکسیشن کا نظام رائج کرنا پڑے گا جس میں ہر شخص اورشعبہ بلا امتیاز یکساں ٹیکس ادا کرے۔

مزید : کامرس